Sunday, October 10, 2010

عدل و انصاف ہر مومن پر واجب jul-sep 2010

الکتاب 
مولاناحمید اللہ ندوی
استاذ: المعہد الاسلامی السلفی رچھا،بریلی
عدل و انصاف ہر مومن پر واجب
’’یا أیھا الذین آمنوا کونوا قوامین بالقسط شہداء للہ و لو علی أنفسکم أو الوالدین والأقربین، ان یکن غنیا أو فقیراً فا للہ أولیٰ بہما،فلا تتبعوا الھوی أن تعدلوا،وان تلوا أو تعرضوا فان اللہ کان بما تعملون خبیراً‘‘۔
ترجمہ: ۔ اے ایمان والو! عدل و انصاف کے قائم کرنے والے بنو،اور اللہ کے لئے سچی گواہی دینے والے بن جاؤ،چاہے وہ خود تمہارے یا تمہارے ماں و باپ یا اقرباء و رشتہ داروں کے خلاف ہو،وہ چاہے امیر ہوں یا غریب ،ان دونوں سے زیادہ اللہ تعالیٰ حق دار ہے،اس لیے خواہش نفس کے چکر میں پڑ کر انصاف کو ترک نہ کرو،اورتم نے کج بیانی یا پہلوتہی اختیار کی تو سمجھ لو کہ جو کچھ تم کر رہے ہو، اللہ تعالیٰ اس کی پوری خبر رکھتا ہے۔
تشریح: ۔ عدل و انصاف وہ عمدہ خصلت ہے ،جس کو ہر دور و ہر مذہب میں بنظر تحسین دیکھا گیا ہے اور ایسی صفت سے متصف شخص کو ہمیشہ سرا ہا گیا ہے۔ دین اسلام میں اس کی بڑی تاکید کی گئی ہے ،اللہ کے رسول ﷺ نے خود اس کو برتا اور اپنے صحابہ کو بھی اس کا خوگر بنا یا ۔یہی وجہ ہے کہ زمانۂ نبوت اور عہد خلافت دونوں میں نہ صرف اپنے بلکہ بیگانے بھی عدل و انصاف کی خوش گوار فضا میں آرام و سکون کی زندگی گزار تے رہے،جس کا اعتراف دوست و دشمن دونوں نے کیا ہے۔مذکورہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو مخاطب کر تے ہوئے فرمایا کہ عدل و انصاف کرو اور اس معاملہ میں اس بنیاد پر کوتاہی نہیں ہو نی چاہئے کہ اس کے ضد میں خود اپنی ذات یا اپنے ماں و باپ یا رشتہ دار و عزیز آرہے ہیں ،کیونکہ عموماً ایسے موقع پر اچھے اچھے ڈگمگا جاتے ہیں ۔یہیں پر انسان کا امتحان ہو تا ہے کہ آیا حق دار کے حق کو سمجھ کر فیصلہ دیتا ہے یا اپنے مفاد و خودغرضی اور قوم و برادری کی طرف جھکاؤ یا امیر و غریب کے درمیان تفریق و امتیاز کے پیشِ نظر انصاف کا گلا گھونٹ دیتا ہے۔
اگر ایسا ماحول ہے، جہاں عدل و انصاف اور گواہی میں جانبداری برتی جاتی ہے، تو اللہ کی برکت و نصرت روٹھ جاتی ہے، نظام کا بندھن ڈھیلا ہو جاتا ہے ۔ظلم و بربریت عام ہو جاتی ہے، زندگی کا سکون غائب ہو جاتا ہے،اور ہر شخص قانون کو اپنے گھر کی لونڈی سمجھنے لگتا ہے ۔کمزور و مجبور لوگ ظلم کی چکی میں پسنے لگتے ہیں۔من مانی اپنی شان بن جاتی ہے ۔ایسے میں اللہ تعالیٰ کو جلال آتا ہے، پھر ہر شخص عذابِ الٰہی کا شکار ہو تا ہے۔اقوام کی تاریخ اس پر گواہ ہے، دیکھیے اور پڑھےئے جس کو عبرت کی نگاہ ملی ہو ۔بہرحال اس آیت قرآنی کو ہر مومن کو حرزجاں بنانا چاہئے، اور مال و دولت حسب و نسب یا منصب و حکومت کے نشہ میں پڑ کر اللہ کی گرفت سے غافل نہیں ہو نا چاہئے ۔ایک مومن کے ایمان کا یہی تقاضہ ہے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس خصلت حمیدہ سے متصف کرے۔آمین۔

جوا بازی : دین و دنیا کی بربادی

لحکمۃ أبو عائشہ جمال أحمد السلفی
استاذ: المعہد الاسلامی السلفی رچھا،بریلی
جوا بازی : دین و دنیا کی بربادی
’’عن خولۃ الانصارےۃ قالت: قال رسول اللہ ﷺ ان رجالا
یتخو ضون فی مال الغیر بغیر حق فلہم النار‘‘۔(رواہ البخاری بحوالہ مشکوٰۃ ج۲ ص؍۳۲۵)
خولہ انصاریہؓ سے روایت ہے کہتی ہیں کہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بے شک کچھ لوگ دوسروں کے مال میں ناحق تصرف کر تے ہیں ،ان کے لیے دوزخ ہے۔
اسلام دینِ رحمت ہے ،اس نے اپنے ماننے والوں کو ہر اس عمل و عادت سے روکا ہے جس ان کا مالی اور جسمانی نقصان وابستہ ہو اور وہ اللہ کے ذکر سے انہیں غافل کردے۔ایسی چیزیں متعدد ہیں ،انہیں میں سے ایک چیز جو ا بازی ہے، جو معاشرے کے امن و سکون اور آپسی محبت و یکانگت کو تباہ کر ڈالتی ہے ،شریعت نے اس کا شمار گناہ کبیرہ میں کیا ہے۔جوا خواہ مستقل کھیلا جائے یا کسی کھیل جیسے شطرنج و غیرہ میں شرط لگا کر کھیلا جائے ۔بہر صورت جوا ہے،اس کے نقصانات بکثرت ہیں،اسی لئے مذہبِ اسلام نے اسے مطلق حرام قرار دیا ہے اور اسے شیطانی عمل قرار دے کر اس سے بچنے کی تلقین کی ہے۔ذیل میں جوا بازی کے چند نقصانات ذکر کئے جا رہے ہیں تاکہ ہم اس عمل بد کی خرابیوں سے اپنے کو بچائے رکھیں۔
۱۔ جوا بازی شیطانی حرکت ہے اس لئے ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ شیطان کے ہتکنڈوں سے دور رہے، تاکہ شیطان کی آراستہ کر دہ معصیت میں مبتلا ہو کر ہلاکت کی وادی میں نہ گر پڑے۔
۲۔ جوئے کی وجہ سے جوئے بازوں میں بغض و عداوت اور دشمنی پیدا ہو جاتی ہے اور بسا اوقات مار کاٹ اور قتل کی نوبت پہونچ جاتی ہے۔
۳۔ جوا بازی کی وجہ سے غربت و افلاس در آتی ہے، خوشحال گھر بدحالی کا نظار ا پیش کر نے لگتے ہیں اور اچھا خاصا آدمی نان شبینہ تک کا محتاج ہو جاتا ہے اور سماج میں اس کی کوئی قیمت نہیں رہتی۔
۴۔ جوابا زی ذکر الٰہی با لخصوص نماز سے دور ی کا سبب بنتی ہے۔
۵۔ جوئے باز نفع کی لالچ میں بکثرت قرض لینے اور کبھی کبھی سودی قرض لینے پر مجبور ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے چوری چکاری میں بھی مبتلا ہو جاتا ہے ،اور اس کی جان چہار جانب سے مصیبتوں میں گھر جاتی ہے۔
یہ رہے جوئے بازی کے چند دینی و دنیوی نقصانات۔آج مسلمانوں کا ایک طبقہ تعمیری اور مفید کاموں کو چھوڑ کر اپنے شب و روز کو اسی عمل میں لگائے ہوئے ہے۔نتیجہ میں نہ اس کی دنیاوی پسماندگی دور ہو رہی ہے، اور نہ وہ دارِ آخرت کی فلاح کے لیے کچھ کر پا رہا ہے۔
اللہ تعالیٰ جملہ مسلمانوں کو اس مہلک مرض سے بچائے اور چند روزہ حیات مستعار کو مفید اور نیک کاموں میں لگا نے کی توفیق بخشے۔آمین

دام ہم رنگ زمین! jul-sep2010

انکشاف 
ڈاکٹر ابو عدنان سہیل
دام ہم رنگ زمین !

پولیو ڈراپ سے متعلق چونکانے والی مگر چشم کشا تحریر

اقوام متحدہ کے ادارہ ’’یونیسیف‘‘ (UNICEF) کی زیرِ نگرانی ۱۹۸۵ ؁ء سے ہندوستان کے طول و عرض میں مرض پولیو کے امداد کے لیے ٹیکے لگانے اور اس کے ڈراپس پلانے کی مہم نہایت زور و شور اور جوش و خروش کے ساتھ جاری ہے ۔اس طرح اب تک بلا مبالغہ اربوں ڈالر اس مہم پر خرچ کئے جا چکے ہیں۔جب کہ اس سے کہیں زیادہ خطرناک اور جان لیوا بیماریاں جیسے ٹی وی،کینسر،ایڈس وغیرہ کے ذریعہ ہندوستان اور دیگر ممالک میں لاکھوں لوگ ہر سال لقمۂ اجل بن جاتے ہیں ،ان کے خلاف امداد پولیو جیسی زبردست مہم اور ان پر اتنی خطیر رقم کیوں خرچ نہیں کی جاتی ؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو عوام الناس کے ذہنوں میں پولیو مہم کے سلسلے میں شکوک و شبہات اور اندیشہ ہائے دور دراز پیدا کرنے کا باعث ہے ۔خصوصاً جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ پولیو ڈراپس پلانے کی یہ زبردست مہم یہودی ممالک’’اسرائیل‘‘ کے علاوہ پوری دنیا خصوصاً ایشیائی ممالک میں انتہائی زور و شور سے جاری ہے اور ہندوستان و پاکستان ،بنگلہ دیش اور عرب ممالک جیسے کثیر مسلم آبادی والے ملکوں میں اس پر پورا زور صرف کیا جارہا ہے۔ ایسی صورت میں ذہن میں یہ سوال پیدا ہو نا لازمی ہے کہ مال کے حریص یہودی اور عیسائی اس مہم پر اربوں کھر بوں ڈالر آخر کیوں خرچ کر رہے ہیں؟ یہ عالم اسلام اور باقی دنیا کے خلاف کو ئی خطرناک سازش تو نہیں ہے؟ اس کے علاوہ غور طلب بات یہ بھی ہے کہ دور ماضی میں ملیریا اور چیچک کے خاتمے کے لیے ٹیکے لگائے گئے تھے ۔کیا ان کے نتیجہ میں یہ بیماریاں اب معدوم ہو چکی ہیں؟ اس کا جواب یقیناًنفی میں ہے۔
عالمی ادارہ صحت (MEDIA) میں شائع ہو چکی ہے۔ پوری دنیا میں صرف 600بچے پولیو کا شکار پائے گئے ہیں جب کہ ٹی وی،ایڈس،ملیریا،چیچک،اور سرطان یعنی کینسر وغیرہ میں مبتلا افراد کی تعداد ہزاروں اور لاکھوں میں ہے ۔پھر بھی پولیو کو ختم کرنے کے لئے اربوں کھربوں ڈالر بے تکلف خرچ کئے جارہے ہیں جب کہ مذکورہ بالا سنگین امراض کی دوائیں روز بروز مہنگی اور عوام کی دسترس سے باہر ہو تی جا رہی ہیں۔ صورت حال یہ ہے کہ ’’میڈیا‘‘ میں چھپ رہی خبروں کے مطابق پولیو کی متعدد خوراکیں پلوانے کے باوجود بہت سے بچے پولیو کا شکار ہو گئے۔ انگریزی اخبار ’’TIMES OF INDIA‘‘ مورخہ 18-03-2005 کے مطابق صوبہ بہار کے 18اضلاع میں 2003میں پولیو کے اٹھارہ معاملے سامنے آئے تھے۔ اس کے بعد جب وہاں پولیو ڈراپس پلانے کی مہم تیز تر کر دی گئی تو اس کے ایک سال بعد 2004میں پولیو میں مبتلا ہو نے والے بچوں کی تعداد کم ہو نے کے بجائے بڑھ کر 41ہو گئی! کیا یہ انکشاف پولیو ڈراپس پلانے کی اس زبردست مہم کی قلعی کھول دینے کے لئے کافی نہیں ہے ۔ ؟
جہاں تک پولیو ڈراپس پلانے کی یونیسیف(UNICEF) کی تیار کر دہ حکمت عملی اور اس کے نتائج کی بات ہے، تو یہ جان کر حیرت ہوتی ہے کہ جب 1985ء میں عالمی سطح پر پانچ سال کے بچوں کو پولیو ڈراپس پلانے کا آغاز کیا گیا تھا ،تو اس مہم کا نعرہ تھا ’’ایک بوند زندگی میں ایک بار‘‘ اور اب یہ نعرہ بدل دیا گیا ہے ’’دو بوند پولیو ڈراپ کی ہر بار‘‘ اس طرح اب سال بھر میں تقریباً 40 بار سے بھی زائد یہ خوراک پانچ سال تک کے بچوں کو پلائی جا رہی ہے۔آخر ایسا کیوں ؟
ایک سوال اور ذہن میں پیدا ہو تا ہے وہ یہ کہ اقوام متحدہ (U.N.O.) کا ذیلی ادارہ برائے بہبود اطفال ’’یونیسیف‘‘(UNICEF) جو ہندوستان کے پولیو کا نگراں اور ذمہ دار ہے اور وہ اس پر اب تک اربوں ڈالر خرچ کر چکا ہے۔اس ادارہ کی انسانی ہمدردی اور بچوں کی فلاح اور بہبود کا اندازہ اس بات سے لگا یا جا سکتا ہے کہ ۱۹۹۱ء ؁ کی پہلی خلیجی جنگ کے بعد سے اقوام متحدہ (U.N.O.) نے صدام حسین کے دور اقتدار کے آخر تک عراق میں ضروری اور جان بچانے والے ادویات پہنچنے نہ دینے کی پابندی لگا رکھی تھی، جس کی وجہ سے وہاں اس تمام عرصہ میں پانچ لاکھ سے زائد بچے مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو نے کے بعد مطلوبہ ادویہ نہ ملنے سے فوت ہو گئے۔’’سوڈان‘‘ میں دوائیں بنانے کی فیکٹری قائم کی گئی ،تاکہ آئندہ دواؤں سے محروم عراقی بچوں کو موت سے بچا یا جا سکے ،تو امریکہ نے اس فیکٹری پر بم برسا کر تباہ و برباد کر دیا۔ اتنے بڑے پیمانے پر بچوں کے قاتلوں کو دنیا کے چند بچوں کے معذور ہو نے سے بچا نے کی فکر کہاں سے لاحق ہو گئی ؟ اس بات پر سنجیدگی سے غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے !
عالمی ادارہ صحت(W.H.O.) جو خالصتاً ایک ’’صیہونی ادارہ‘‘ ہے اور صیہونیت کی عالمی تنظیم زنجری(ZENGERY) کا ایک اہم ترین شعبہ ہے۔ اس کے طبی بلیٹن جلد ۴۷: صفحہ ۲۵۹ (۱۹۷۲ء ؁) کا حوالہ دیتے ہوئے یورپ کے ایک ڈاکٹر الین کیمپ بیل(ALLEN CAMP BELL) رقمطراز ہیں۔
’’ٹیکوں(VACCINESS) کے ذریعہ بیماریوں کا مقابلہ کر نے کے نام پر عالمی ادارہ صحت(W.H.O.) ہمارے قدرتی دفاعی نظام (NATURAL IMMUNE SYSTEN) بر باد کر نے پر تلا ہوا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ زمین سے انسانوں کے وجود ہی کو ختم کر دینا چاہتاہے‘‘۔
’’ڈاکٹر الین کیمپ بیل‘‘ جو کہ میڈیسین میں ایم ڈی (M.D.)، ہیں انہوں نے اس بات کا بھی انکشاف کیا ہے کہ ’’ایڈز وائرس‘‘(H.I.V.) انسانوں کے لئے لیبارٹری میں ہی بنا یا گیا ہے، یعنی وہ (GENITICALLY ENGINEERED) وائرس ہے،قدرتی پیداوار جرثومہ نہیں ہے۔ اس موضوع پر انہوں نے دو کتابیں لکھی ہیں جن میں سے ایک کتاب کا نام (AIDS AND THE DOCTOR OF DEATH) ہے اور دوسری کتاب (QUEER BLOOD) کے نام سے مارکیٹ میں آئی ہے!۔
ڈاکٹر کیمپ بیل نے لکھا ہے کہ ماضی قریب میں ایک مشہور یہودی سائنس داں جس کا نام ’’جوناس ایڈوارڈ سیلک‘‘ (JONAS EDWARD SALK) تھا وہ محض ایک اعلیٰ پائے کا بیکٹریا لوجیسٹ(1914-1995) ہی نہیں تھا ،بلکہ ایک بہت بڑا یہودی روحانی پیشوا(ربی) بھی تھا اور جس کا نام آج بھی یہودی ’’ حاخات‘‘ (علماء یہود) اور ربی بڑی عقیدت و احترام سے لیتے ہیں۔ اس نے ۱۹۶۳ء ؁ میں امریکہ کے شہر ’’ کیلی فورنیا‘‘ کے ’’لازولہ‘‘ علاقے میں ’’ سیلک انسٹی ٹیوٹ فار بایولوجیکل اسٹڈیز ‘‘ کے نام سے قائم کی تھی، جس کا شمار دنیا کے عظیم الشان بایو لوجیکل اداروں میں ہو تا ہے۔ اس ادارہ کا سالانہ بجٹ ایک کروڑ بیس لاکھ ڈالر( ساڑھے پانچ ارب روپئے) ہے۔ اس انسٹی ٹیوٹ میں چار سو سے زیادہ ’’بایو ٹیکنا لوجیسٹ ‘‘ جنٹک انجینےئر(GENETIC ENGINEERS) اور حیاتی علوم کے سائنس داں شب و روز کا م کر تے رہتے ہیں ۔ڈاکٹر کیمپ بیل کے بیان کے مطابق اس یہودی سائنس داں جوناس سیلک نے ہی اس انسٹی ٹیوٹ کے قیام سے چار سال قبل ۱۹۵۵ء ؁ میں ہندوستان اور’’ فلنیائن‘‘ سے چار ہزار بندر منگوا کر کیلی فورنیا کے ’’ بلفٹن‘‘ علاقے میں ندی کے کنارے ایک سنسان مگر پر فضا مقام پر واقع اپنی تجربہ گاہ (LABORATORY) میں ان بندروں پر کئی سطحوں (STAGES) پر متعدد مرحلوں پر مشتمل تجربات کئے تھے، اور اس کے بعد ان بندروں کے گردوں (KIDNEY) سے حاصل کر دہ خلیات(CELLS) سے پولیو(POLIO) کے پولیو کے مشہور عالم ٹیکے VACCINE تیار کر نا اسی یہودی سائنس داں کا کار نامہ ہے۔ اس کے بعد امریکہ نے ’’ جو ناس سیلک‘‘ کے بتائے ہو ئے پولیو ویکسین کو ہی عالمی امداد پولیو مہموں (WORLD SWEEPING DRIVES) کے لئے لمبے عرصہ تک استعمال کر نے کا فیصلہ کیا تھا! موجودہ دور میں پولیو ویکسین بنا نے والی سب سے بڑی بین الاقوامی دوا ساز کمپنی ’’ لیڈر لے‘‘( LEDERLE) جو یہودیوں کی ہی ملکیت میں ہے وہ رے سیس بندروں(RHESIS MONKEYS) کے گردوں (KIDNEYS) سے ہی یہ ویکسین تیار کر رہی ہے ۔اس کمپنی نے ۱۹۶۹ء ؁ سے ۱۹۹۹ء ؁ تک تیس برسوں میں ساٹھ کروڑ پولیو ڈراپس کی فروخت کا ریکارڈ قائم کیا تھا۔!
’’پولیو ویکسین‘‘ کے سلسلے میں یہ بات قابل ذکر ہے کہ مغربی ذرائع ابلاغ (MEDIA) نے ،جو اب کے سب یہودیوں کے قبضہ میں اور انہیں کی ملکیت ہیں۔ اس حقیقت پر پردہ ڈالنے کی بھر پور کوشش کی ہے کہ ’’امریکی تحفظ ادارہ برائے تدارک امراض‘‘ یعنی(CDC) نے سات سال قبل یکم جنوری ۲۰۰۰ء ؁ سے پولیو کے خاتمے کے لئے پلائی جانے والی اورلی پولیو ویکسین(OPV) پر امریکہ میں مکمل طور پر پابندی عائد کر رکھی ہے،اور اس کی وجہ امریکی تحفظ صحت ادارے (CDC)نے یہ بتائی ہے کہ پولیو ویکسین کی ان بوندوں میں مردہ پولیو وائرس (ATTENUATED VIRUS) کے ساتھ پولیو کچھ زندہ وائرس بھی پائے گئے ہیں(جو کہ قصداً اس میں شامل کئے گئے ہیں) ۔
اس سے دوسرے صحت مند بچوں کو بھی یہ مرض لگ سکتا ہے۔ اس کے بجائے اس ادارہ نے امریکہ میں پولیو ڈراپس(OPD) پلانے کے بجائے پولیو کی انجکشن لگا نے کی سفارش کی ہے۔ تاکہ پولیو کے پچھلے خطرات کو کم کیا جاسکے۔لیکن اس نئے انجکشن کا خرچ اٹھا نا عوام الناس میں ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہے، کیونکہ ایک انجکشن کی قیمت تقریباً پانچ ہزار روپئے ہے۔ظاہر سی بات ہے کہ اتنے مہنگے انجکشن ’’تیسری دنیا‘‘ (یعنی ایشیائی ممالک) کے بچوں کو تو دئے جانے سے قاصر رہے اس لئے عالمی ادار�ۂ صحت (W.H.O.) اور ’’ یونی سیف‘‘ (UNICEF) جیسے یہودی بین الاقوامی اداروں کے ذریعہ امریکی گوداموں میں کروڑوں کی تعداد میں بیکار ٹیری ’’لیڈر لے کمپنی‘‘ مسترد شدہ پولیو ڈراپس کی خوراکیں(OPD) پیکنگ اور لیبل بدل کر دوسری کمپنیوں کے نام سے زبردست پروپیگنڈے کے ذریعہ ایشیائی ممالک میں مفت اور زبردستی پلائی جا رہی ہیں تاکہ غیر یہودی قوموں خصوصاً مسلمانوں کی آئندہ نسلوں کو آپاہیچ بنا کر عالمی داؤدی سلطنت کے ذریعہ یہودی خوابوں کو شرمندۂ تعبیر کیا جا سکے!
ڈاکٹر الین کیمپ بیل لکھتے ہیں کہ پولیو کی ان بوندوں (OPV) کے پینے سے مستقبل میں نئی نسلوں کے پولیو زدہ ہو نے اور ایک خطرناک قسم کے زہریلی جسم کے فالج (PARALITIC POLIO) ہو جانے کا خطرہ بڑھ گیا ہے ۔بہر صورت ہندوستان ،پاکستان،سعودی عرب،مصر،یمن،افغانستان،انڈونسیا،نائجریاو غیرہ کثیر مسلم آبادی والے ملکوں میں ان پولیو ڈراپس(OPD )کو پلا نے کے بعد بھی اچھے خاصے صحت مند بچوں میں اچانک پولیو (POLIO) ہو جانے کے واقعات کے پیچھے یہی حقیقت کار فرما ہے کہ پلائی جانے والی پولیو ڈراپس (OPV) میں موجود ’’زندہ وائرس‘‘ ہی پولیو کے اسباب بن جاتے ہیں۔!!
ایک امریکی صحافی مائیکل ڈورمن نے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ امریکہ ۱۹۶۲ء ؁ سے ۲۰۰۰ء ؁ تک ڈاکٹر ’’جوناس سیلک‘‘ کے ذریعہ بنائے گئے پولیو ویکسین تیس سال کے عرصے میں صرف عیسائی بچوں کو ہی پلائے گئے تھے ،جبکہ امریکہ کے ڈیڑھ فیصد سے بھی کم یہودیوں نے ’’مذہبی اسباب‘‘ کا بہانہ لے کر اپنے بچوں کو پولیو ڈراپس سے پلانے سے انکار کر دیا تھا۔!!
پولیو ڈراپس (OPD) سلسلے میں سب سے تشویش ناک بات یہ ہے کہ : یورپ میں ’’میسو تھیلی یو ما کینسر‘‘ (MESOTHELIOMAS CANCER) کے ماہرین میں سے ڈاکٹر ٹیڈ گرنی (DR.TEDGERNEY) جو ایک خطرناک وائرس SV-40 پر ریسرچ کر رہے ہیں ،ان کا دعویٰ ہے کہ یہ وائرس SV-40 انسانوں میں کینسر (CANCER)پھیلنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔اس وائرس کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ اتنا خطرناک ہے کہ اگلی نسل انسانی میں بغیر کوئی ٹیکہ یا انجکشن لگائے پیدائشی طور پر مستقل ہو سکتا ہے۔یہ مہلک اور خطرناک ترین وائرس،پولیو ویکسین (OPD) میں پائے جانے کے شوہد ان ہی تجربات کے بعد ملے ہیں اور ان شہادتوں کے بعد کہ پولیو ویکسین(OPD) میں کینسر کا خطرناک جر ثومہ SV-40موجود ہے۔ کینسر کے ان ماہرین کی رپورٹ پر ہی امریکہ کے محکمہ تحفظ صحت(CDC) نے امریکہ میں پولیو ڈراپس پلانے پر مکمل طور پر پابندی عائد کی تھی،مگر’’ یہودی ربی‘‘ کے دباؤ پر اس حکم امتناعی کی وجہ صرف یہ ظاہر کی گئی اس میں کچھ زندہ پولیو کے جراثیم پائے گئے ہیں۔!!
بہرنوع! اس بات میں کوئی شک و شبہ کی گنجائش نہیں کہ عالمی محکمہ صحت(W.H.O.) اور یونی سیف(UNICEF) جیسے صیہونی ادارے ایشیائی ملکوں،خصوصاً ہند و پاک میں زبردستی اور مسلسل ’’پولیو ڈراپس‘‘پلا کر ایشیائی قوموں بالخصوص مسلمانوں کے معصوم بچوں کے خون میں SV-40 نامی کینسر کا وائرس اور پولیو کے زندہ جراثیم دانستہ طور پر پہونچا کر ان کی آئندہ نسلوں کو آپاہیج اور تباہ و برباد کر نے پر تلے ہو ئے ہیں۔
جہاں تک ایڈز(AIDS) کے پھیلنے کے ممکنہ خطرات اور امکانات کی بات ہے تو یہ جان لیوا مرض بھی ان صیہونی درندوں کی اپنے دشمنوں(خصوصاً مسلمانوں) کے خلاف حیاتیاتی اسلحوں کی جنگ (BIOLOGICAL WARFARE) کا ایک مہلک ہتھیار ہے، جس کا جر ثومہ(VIRUSES) اصلیت میں لیبار ٹری میں مصنوعی طور پر تیار کیا گیا وائرس(GENETICALLY ENGINEERED VIRUSES) ہے، جس کو HIV کا نام دیا گیا ہے۔ یہ جر ثومہ جس کو پہلے چیچک کے ٹیکوں (SMALL POX VACCINE) کے ذریعہ، اور اب ہیپاٹائٹس بی (HEPATITIS-B) کے ٹیکوں کے ذریعہ WHO کی مدد سے دنیا میں پھیلا یا گیا ہے۔ ۱۱؍مئی ۱۹۷۸ء ؁ کے ’’لنڈن ٹایمز‘‘ میں چھپی رپورٹ کے مطابق افریقی ممالک میں ’’ایڈز‘‘ کی بیماری پھیلنے کی وجہ ۱۹۷۲ء ؁ میں عالمی محکمہ صحت یعنی WHOاور’’یونی سیف‘‘(UNICEF) کے ذریعہ لگائے گئے چیچک کے ٹیکوں(SMALL POX VACCINE) کو اس کا ذمہ دار ٹھہرا یا گیا ہے۔ افریقی بندروں کی ایک مخصوص قسم GREEN MONKEYپر ’’ایڈز‘‘ کے جراثیم پھیلا نے کی ذمہ داری ڈالنا WHO کا ’’سفید جھوٹ‘‘ اور قطعی پروپیگنڈہ ہے ،کیو نکہ بقول ڈاکٹر ڈگلس ایم ڈی بندروں کی ’’جین‘‘(GENE) کی بناوٹ(STRUCTURE) کا تجزیہ (ANALYSIS) بتا تا ہے کہ بندروں کے ذریعہ قدرتی طور پر ایڈز کے وائرس کا انسانوں کے جسم میں داخل ہو نا ممکن ہی نہیں ہے ۔اس کے علاوہ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ ۱۹۷۹ء ؁ میں امریکہ کے مختلف شہروں میں آخر ’’ایڈز‘‘وباکیسے پھیلی؟ کیا وہاں بھی افریقی بندر’’ ایڈز‘‘ پھیلا نے پہونچ گئے تھے۔؟؟ حقیقت یہ ہے اس وقت مختلف امریکی شہروں میں ہم جنسی کی لعنت میں گرفتار مردوں کو دے گئے ہیپا ٹائٹس(HEPATITIS-B VACCINE) کے ٹیکوں کے ذریعہ ہی ’’ایڈز‘‘ وہاں پھیلا تھا۔اس سلسلے میں قابل غور بات یہ ہے کہ W.H.O. اور UNICEFکی رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ ہیپا ٹائٹس بی(HEPATITIS-B) جو اب تک دنیا بھر میں پچاس کروڑ سے زائد لوگوں کو لگایا جا چکا ہے،وہ بھی پولیو ڈراپس(OPD) کی طرح صیہونی مملکت’’اسرائیل‘‘ میں8 ہی نہیں لگایا جا تا ہے اور اس پر وہاں مکمل پابندی عائد ہے۔
پولیوڈراپس(OPD) کے بارے میں یہ بات طے شدہ ہے کہ وہ بندروں کے گردوں کے خلیات(CELLS) سے تیار کیا جاتا ہے،جس میں’’STRUCTURE‘‘ ڈی این اے(DNA) اور آر این اے(RNA) پوری طرح موجود ہو تا ہے۔مسلمان ہو نے کی حیثیت سے ہم پر بندر و خنزیر جیسے حرام جانوروں کا نہ صرف گوشت کھانا حرام ہے بلکہ ان کے جسم کے کسی بھی جزء کا اکلاً و شرباً استعمال کرنا بھی شرعی طور پر جائز نہیں ہے۔اس بات کو ہمیں نظر انداز نہ کر نا چاہئے کہ اس کے علاوہ مذکورہ بالا حقائق کے پیشِ نظر جب ہمارے دیرینہ دشمن یہودؔ ، ہماری آئندہ نسلوں کو ناکارہ اور تباہ و برباد کر نے پر تلے ہوئے ہیں تو ہم دانستہ طور پر ان کی اسی مہم میں معاون اور آلہ کار کیوں بنیں؟۔
اگر ہمیں آئندہ نسلوں کا تحفظ اور مستقبل میں مسلمانوں کی بقاء اور ایمان عزیز ہے تو ہمیں ذاتی مفاد اور چند سکوں کے لالچ سے دست بردار ہو کر مسلمانوں کی ’’نسل کشی‘‘ کی اس خطرناک مہم سے دامن کش ہو جانا چاہئے ۔افسوس ناک بات یہ ہے کہ آج ہمارے بہت سے بے روز گار مسلمان نوجوان اور پردہ نشین خواتین ذاتی مفاد اور چند روپیوں کے لالچ میں پولیو(POLIO) کی اس زہریلی مہم کے ورکر بنے ہو ئے ہیں اور گھر گھر جاکر یہ میٹھا زہر(SLOW POISON) مسلمانوں کے معصون بچوں کے حلق میں اتار تے ہو ئے جھجھک تک محسوس نہیں کرتے۔ اور غضب بالائے غضب یہ ہے کہ اب ’’علماء کرام‘‘ کو بھی اس اسلام دشمن اور انسانیت سوز مہم میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ اور بعض علماء اپنی سادہ لوحی اور حقیقت سے لا علمی کی بنا پر اپنے دشمن یہودیوں کی اس ’’جنگی مہم‘‘ میں ان کے معاون اور آلہ کار بنے ہو ئے ہیں ۔حالانکہ قرآن مجید میں وہ حق تعالیٰ کا یہ فرمان برابر پڑھتے اور طلباء عزیز کو پڑھاتے رہتے ہیں:
’’لتجدن اشد الناس عداوۃللذین آمنوا الیھود و الذین اشرکوا ولتجدن أقربھم مودۃ للذین آمنوا الذین قالوا انا نصاریٰ ذالک بان منھم قسیین ورھباناً و انھم لا یستکبرون‘‘۔(المائدہ:۸۲)
’’لوگوں میں مومنوں کا سب سے سخت دشمن تم قوم یہود کو پاؤگے اور ان لوگوں کو جو شرک کر تے ہیں اور مسلمانوں کے لئے نرم گوشہ ان لوگوں کے دلوں میں ہے جو اپنے آپ کو نصاریٰ کہلاتے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں درویش اور عبادت گذار لوگ پائے جاتے ہیں اور وہ تکبر نہیں کرتے۔‘‘
کیا ہمارے علماء کرام اور درد مندان ملت اس سلسلے میں اپنی خصوصی توجہ مبذول فرما کر کوئی عملی قدم اٹھا نے کی زحمت گوارہ فرمائیں گے؟۔

رحمت رحمان jul-sep 2010

فکر و نظر عمرسلطان سلفی
مدیر مدرسہ سعودیہ عربیہ بارہ بنکی
رحمت رحمان
اللہ تعالیٰ رحمان و رحیم ہے چنانچہ جب سے انسانیت و جود پذیر ہوئی رحمت رحمان ساتھ رہی، اور جب بھی انسانیت کو تکلیف ہوئی تو فوراً انسانیت نے اپنے مالک حقیقی کو پکارا اور اسی طرف مدد طلب نگاہوں سے دیکھا ۔چنانچہ جب آدم و حوا کو اپنی غلطی کا احساس ہوا تو انہوں نے بھی اللہ کو پکارا: ’’ربنا ظلمنا انفسنا و ان لم تغفرلنا و ترحمنا لنکون من الخاسرین‘‘(الاعراف:۲۲)
اسی طرح آدم ثانی نوح علیہ السلام نے بھی اپنی اولاد کے لئے اللہ سے کہا اور جب غلطی کا احساس ہوا تو ان الفاظ میں معذرت و ندامت ظاہر کی ’’والا تغفرلی و تر حمنی اکن من الخاسرین‘‘ (ہود:۴۷)
اسی طرح دعائے رحمت یونس علیہ السلام نے بھی مانگی’’ونجنا برحمتک من القوم الکافرین‘‘ (یونس:۸۶) اور اسی طرح موسیٰ علیہ السلام ،سلیمان علیہ السلام اصحابِ کہف اور خود ہمارے رسول ﷺ (فداہ ابی و امّی) نے بھی اسی سے دادرسی کی’’وقل رب اغفر وارحم انت خیر الراحمین‘‘(مومنون:۱۸۸)اور اس طرح بھی اللہ سے مدد طلب کی ’’یا حیّ یا قیوم برحمتک استغیث۔‘‘(نسائی) اللہ کے رسول ﷺ نے مختلف اوقات ،مختلف اسالیب میں اللہ سے دعا کی اور مومنین بھی اسی سے استمداد کر تے ہیں اور کرنے کا حکم ہے’’ربنا لا تزغ قلوبنا بعد اذ ھدیتنا و ھب لنا من لدنک رحمۃ انک انت الوہاب‘‘(بقرہ:۲۸۶)
رحمت کس کو کہتے ہیں:
رحمت کہتے ہیں نرمی بردباری کو ۔’’رقۃ القلب و علفۃ الرحمۃ‘‘ سے لفظ رحمان اور رحیم مشتق ہیں یہ دونوں نام اللہ کے مشہور ناموں میں سے سب سے معروف و مشہور ہیں لفظ اللہ کے بعدسب سے زیادہ انہیں دونوں کا استعمال ہو تا ہے اور تمام سورتوں کے شروع میں لفظ رحمان اور رحیم ذکر ہو ئے ہیں، سوائے سورہ توبہ کے جو بغیر بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کے نازل ہو ئی ہے۔
رحمٰن اور رحیم کا فرق:
رحمٰن؛ رحیم سے زیادہ مخصوص ہے اور اس سے زیادہ مبالغہ والا ہے، اسی لئے اللہ کے علاوہ کسی کے ساتھ لفظ رحمٰن کا استعمال نہیں کیا جاتا ہے’’قل ادعواللہ و ادعوالرحمٰن‘‘ (الاسرء:۱۱۰) اسی طرح اللہ کے رسول ﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ نے فرمایا:’’انا اللہ وانا الرحمٰن خلقت الرحم و شققت لھا من اسمی فمن وصلھا و صلتہ و من قطعھا قطعتہ‘‘(الترمذی)رحمان کے معنی ہیں ایسی رحمت والا جس کی کوئی نظیر مثال نہ ہو اور یہ بندوں کی قدرت سے بعید تر ہے ۔رحمان کی رحمت عالم میں عام ہے ،مومنوں ،کافروں کے لیے نیکوں کاروں بدکاروں کے لیے اسی کی وحدانیت کا اقرار و انکار کر نے والوں کے لئے یعنی تمام کے لئے اس کی رحمت عام ہے ،جب کہ رحیم کی صفت صرف مومنین کے ساتھ خاص ہے’’وکان با لمومنین رحیما‘‘(الاحزاب:۴۳)
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ رحمان وہ ہے کہ جب اس سے سوال کیا جائے تو عطا کرے اور رحیم وہ ہے کہ جب اس سے سوال کیا جائے تو غضب ناک ہو ۔چنانچہ اللہ نے اپنی مخلوق کے لئے رحمت کو ضروری کر دیا ہے۔ اللہ فرماتا ہے’’ولولا فضل اللہ علیکم و رحمتہ فی الدنیا والأخرۃ لمسکم فی ما فیہ عذاب عظیم‘‘(نور:۱۴) دوسری جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’ کتب ربکم علیٰ نفسہ الرحمۃ‘‘(انعام:۵۴) مسلم شریف میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ’’لما خلق اللہ الخلق کتب فی کتاب فھو عندہ فوق العرش ان رحمتی سبقت غضبی۔‘‘ اور بخاری کی روایت میں ہے ’’ان رحمتی غلبت غضبی۔ ‘‘بلاشک و شبہ اللہ کا یہ عظیم فضل و کرم ہے کہ اس نے اپنے نفس پر رحم و کرم کو لازم و ضروری و ظلم کو حرام کر لیا ہے جب کہ وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس روئے زمین پر محبت و رحمت کی مختلف شکلیں پیدا کیں ہیں ۔چنانچہ ماں باپ کی شفقت و رحمت اپنی اولاد کے لئے ،میاں بیوی کی الفت و محبت ایک دوسرے کے لئے ۔رسول کی محبت اس کی امت کے لئے ،بھائی کی اخوت و محبت بھائی کے لئے ،رشتہ و ناطے کی محبت اس طرح کی لاکھوں اور کروڑوں محبت و الفت اور رحمتیں ہیں لیکن اللہ تعالیٰ ان سب سے بڑھ کر اپنی مخلوق سے محبت کر تا ہے اور اس پر رحم کر تا ہے۔ دنیا کہ تمام رحمتیں اللہ کی سورحمتوں میں ایک حصہ ہیں۔ ننانوے رحمت کا حصہ اللہ کے پاس محفوظ ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق پر کتنا بڑا رحمان و مہر بان ہے۔ چنانچہ اللہ کے نبی ﷺنے فرمایا:’’جعل اللہ رحمۃ ماءۃ جزاء فامسک عندہ تسعۃ و تسعین وانزل فی الارض جزاء واحد فمن ذالک تتراحم الخلائق حتی ترفع الدابۃ حافرھا عن ولدھا خشےۃ انتصیبہ‘‘( اخرجہ الشیخان)
چنانچہ اللہ کی رحمت بہت وسیع و عریض ہے جس کی کو ئی حدود نہیں۔ انسان کے بس میں نہیں ہے اس کا ادراک کر نا، رحمت رحمان تمام بندوں کو فائدہ دیتی ہے تمام پر کشادہ ہے ،اس کے رحم و کرم سے انسان کی زندگیاں ہیں چنانچہ انسان کے وجود سے ہی رحمت ظاہر ہو ئی ہے جب کہ انسان کو اس کا علم بھی نہیں تھا۔ انسان کو دوسری تمام مخلوقات پر فوقیت و فضیلت دینا بھی رحمت ہے۔ اور اس پر زیادتی یہ ہے کہ ان کو راہ راست پر لانے کے لئے آسمانی کتب نازل فرمائیں ’’و نزلنا علیک الکتاباً تبینا لکل شئی وھدی و رحمۃ و بشری للمسلمین‘‘(نمل:۸۹)دوسری جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’ونزل من القرآن ماہو شفاء و رحمۃ للمومنین‘‘(الاسراء:۸۲) پس قرآن شفاء و رحمت ہے ان لوگوں کے لئے جن کے قلوب زنگ آلود ہو چکے ہیں اور ان کے لئے بھی جو اہل ایمان ہیں کہ ان کے ایمان میں زیادتی ہو تی ہے۔ انسان قرآن کی تلاوت کر کے وسوسوں،بیماریوں سے نجات حاصل کرتا ہے اس سے طمانیت قلب اور رضائے رب حاصل ہو تی ہے، پراگندگی لالچ ،حسد،جھگڑے دور ہو تے ہیں۔
رحمۃ اللعالمین:
اللہ کی رحمتوں میں سے بڑی رحمت نبی ﷺ کی بعثت بھی ہے کہ اپنے نفس سے زیادہ انسانیت کا خیال رکھتے ہیں، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو رحیمانہ سلوک کر نے کی تاکید فرمائی اور یہ میدان دعوت کے لئے اہم ترین ہے ۔یہ بھی رحمت ہے کہ اس نے رحیم رسول بھیجا، جس کے اسوۂ حسنہ سے متاثر ہو کر صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم نے اسلام قبول کیا ،ورنہ خدا نخواستہ ہم سب گمراہ ہو تے اور اس کا نتیجہ برا ہو تا ۔ فرمان عالی شان ہے کہ: ’’وما ارسلناک الا رحمۃ للعالمین‘‘(انبیاء:۱۸۷) اور دوسری جگہ فرمان ذیشان ہے :’’فبما رحمۃ من اللہ لنت لھم و لو کنت فظاً غلیظ القلب لا نفضو من حولک ‘‘ ( آل عمران:۱۵۱)
اے معبود بر حق ہم تمام مسلمانوں پر اپنی رحمت کو وسیع و عریض کر دے اور ہماری کو تاہیوں کو در گذر فرما ہماری کم ترین عبادتوں کو بھی قبول فرما اور اپنی رحمت سے جنت میں جگہ عنایت فرما۔آمین۔

ذہبئ وقت اور مفکرجماعت کچھ یادیں ، کچھ باتیں jul-sep-2010

عبد ا لصبورعبد النور ندوی
    
ذہبئ وقت اور مفکرجماعت
کچھ یادیں ، کچھ باتیں

ذہبئ وقت، فقیہ ملت ممتازعالم دین ، شیخ الحدیث علامہ مفتی محمد رئیس الأحرار ندوی کا سانحہ ارتحال اور مفکر جماعت، ممتاز دانشورو بے باک عالم دین ڈاکٹر مقتدی حسن ازہری کی وفات حسرت آیات نے جماعت اہل حدیث کو جھنجھوڑ کے رکھ دیا، گزشتہ سال ۲۰۰۹، میں ان دونوں بزرگوں کے انتقال نے سلفیان عالم کو غم زدہ کردیا، جامعہ سلفیہ بنارس سے وابستہ یہ دونوں شخصیات علمی ذخیرہ تھیں، معلومات کا سمندر تھیں، ان کے سامنے گفتگو کرنے والے بہت محتاط رہتے تھے، اسٹیج پر ان کی موجودگی پروگرام کی کامیابی کی ضمانت سمجھی جاتی تھی، ان کے قلم کو وہ اعتبار حاصل تھاکہ عوام و خواص نام دیکھتے ہی ان کی تحریروں کو سند حجت مان لیتے تھے، یہ سلفیت کے وہ عظیم داعی و مناد تھے، جن سے ہندوستان میں اہلحدیثیت ہمیشہ برگ و بار لاتی رہی، سنت کے نام پر باطل نے بارہا سنت کی شکل مسخ کرنے کی کوشش کی، ان دونوں مبلغوں نے تحفظ سنت کی خاطر بیش بہا قربانیاں دیں۔ انکار حدیث کے بڑھتے فتنے کو لگام کسنے میں ان ہنروران سنت کا کردار ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
ذہبئ وقت علامہ رئیس الأحرار ندوی رحمہ اللہ (۲؍جولائی۱۹۳۷ء۔۔۹؍مئی۲۰۱۰ء)
مورخہ ۹؍ مئی کو شب ساڑھے آٹھ بجے سعودی عرب میں جب یہ اندوہناک خبر ملی کہ علاج کے دوران حرکت قلب بند ہوجانے سے جامعہ سلفیہ بنارس کے شیخ الحدیث وممتاز مفتی،رئیس الاحرار حضرت مولانا محمد رئیس ندوی سوئے عقبیٰ کوچ کر گئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون
میرے لئے یہ بہت تکلیف دہ حادثہ تھا، مفتی صاحب سے بیحد لگاؤ اورعقیدت تھی، آپ کو پورے دو دہے سے دیکھتا اور جانتا تھا۔اسی وقت ایک پریس ریلیز کمپوز کرکے روز نامہ اردو نیوز جدہ، اردو پوسٹ دبئی، اردو ٹائمز ممبئی، منصف حیدرآباد ،ہماراسماج،ہندوستان ایکسپریس،اور راشٹریہ سہارا کو ای۔میل کیا، اور الحمد للہ اکثرنے خبر شائع کی، جس سے یقیناًانکے پھیلے ہوئے ہزاروں شاگردوں و عقیدتمندوں کو اطلاع ہوئی ہوگی۔
شیر بیشۂ سلفیت مولانا ندوی رحمہ اللہ ایک با کمال محقق عالم دین ہونے کے ساتھ ساتھ فقہ و فتاویٰ اور فن حدیث پر زبر دست دسترس حاصل تھی، موجودہ دور کے علمائے اہلحدیث کے صف اول میں آپ کا شمار تھا، درجنوں کتابوں کے مؤلف ہیں، آپ کی تالیف ’اللمحات الی ما فی انوار الباری من الظلمات‘ بے پناہ مقبول ہوئی، یہ کتاب مولانا انور شاہ کشمیری کے داماد اور شاگرد سید احمد رضا بجنوری کی شرح بخاری انوار الباری کے جواب میں ہے، پانچ جلدوں پر مشتمل اللمحات میں کوثری فتنے کا سد باب کیا گیا ہے، ملتقیٰ اہل الحدیث کی ویب سائٹ پر شیخ محمد زیاد التکلہ لکھتے ہیں: علامہ رئیس الأحرار ندوی نے کوثریت کے رد میں اللمحات لکھی، ایک مرتبہ انہوں نے عبد الفتاح أبو غدہ کی ایک ملاقات کے موقع پر زبردست سرزنش کی، اور کہا کہ آپ کوثریت کے پراگندہ افکارکی ترویج واشاعت فوری بند کیجئے۔
مولانا رحمہ اللہ اگر چہ دارالعلوم ندوۃ العلماء کے فیض یافتہ تھے، وہیں تعلیم پائی، لیکن مسلکی حمیت پر ذرا بھی آنچ آنے نہ دی، بلکہ نکھرتے چلے گئے، اور اتنی محنت کی کہ آپ کے اساتذہ( مولانا علی میاں ندو ی رحمہ اللہ، مولانا عبد اللہ عباس رحمہ اللہ ) آپ کی صلاحیت پر عش عش کرتے ، اپنے پاس بٹھاتے اور بسا اوقات آپ سے مستفید بھی ہوتے۔ یہ حقیقت ہے کہ ندوہ کے نصاب میں فقہ حنفی کا بول بالا ہے، لیکن مختلف مسالک کے طلبہ اور اساتذہ کی موجودگی اس کی وسعت ظرفی کی غماز ہے، اگر چند نام چھوڑ دئے جائیں ، تو وہاں مسلکی تعصب کی بو بھی نہیں ملے گی، اور اپنے انداز کا یہ ہندوستان کا منفرد ادارہ ہے۔وہاں فقہ حنفی پر عمل کا اصرار نہیں ہے، اگر مسلک سلف کا متبع کوئی لڑکا وہاں داخلہ لیتا ہے تو اس بات کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں کہ وہ ٹھیٹھ سلفی بن کر نکلے ، اور سلفیت کا وہ بے باک ترجمان و علمبردار بن جائے۔
مولانا رئیس الاحرار نے صحیحین کا درس بھی مولانا علی میاں ندوی رحمہ اللہ سے لیا تھا، اور آپ کو انہوں نے سند اجازت مرحمت کی تھی، مولانا علی میاں ندوی کو محدث حیدر حسن خان ٹونکی اور محدث کبیر عبد الرحمن مبارکپوری رحمہما اللہ نے سند اجازت عطا کی تھی۔
سنت صحیحہ کے دفاع میں مولانا کا کارنامہ نا قابل فراموش ہے، جامعہ سلفیہ بنارس سے منسلک ہونے کے بعدآپ کو شیخ الحدیث اور مفتی بنایا گیا، تقریبا ۲۵برسوں تک جامعہ سلفیہ بنارس میں بخاری شریف کا درس دیا،آپ کے فتاویٰ کی تعداد دس ہزار سے زائد ہے۔آپ کے مقالات و کتب اور ڈائریاں تقریبا ایک لاکھ صفحات پر محیط ہیں۔ آپ کی چند مولفات درج ذیل ہیں:
۱۔اللمحات الیٰ مافی أنوار الباری من الظلمات(پانچ جلدوں میں)، ۲۔سیرت حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا (دو جلدوں میں)، ۳۔رسول اکرم ﷺ کا صحیح طریقۂ نماز، ۴۔سیرت ابن حزم ، ۵۔تنویر الآفاق فی مسئلۃ الطلاق، ۶۔دیوبندی تحفظ سنت کانفرنس کا سلفی تحقیقی جائزہ، ۷۔ جمعہ کے احکام و مسائل، وغیرہ ۔ *چار ہزار صفحات پر مشتمل کتاب ’تاریخ یہود ‘ لکھی تھی، جس کا مسودہ گھر ہی سے ضائع ہوگیاتھا۔اس کتاب کے ضائع ہونے کا افسوس آپ کو عمر بھر رہا۔
ڈائری لکھنے کا بڑا شوق تھا، چنانچہ وہ روزانہ عشاء کے بعد بیٹھ کر دن بھر کی کیفیات و حالات لکھا کرتے تھے ، آپ کی ڈائریاں اگر محفوظ ہیں اور کسی کی نظر بد کا شکار نہیں ہوئی ہیں تو ان ڈائریوں سے جواہر پارے کھنگالے جا سکتے ہیں، پھر ان کی اشاعت بھی عمل میں لائی جا سکتی ہے ، پوری زندگی کتابوں کے درمیان گزار دی۔کوئی بھی ملاقات کے لئے پہنچتا تو آپ کو کتابوں سے گھرا پاتا، اور اکثر ایسا ہوتا کتابوں کے بیچ سو جاتے، باطل فرقوں پر جم کر دھاوا بولتے کہ اسے جواب کی سکت نہ رہتی تھی۔
اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے متعدد اجلاس میں آپ کو بلایا گیا، کسی فقہی مسئلے میں جب اپنے بے باک موقف کو رکھتے تودلائل سن کر بعض دوسرے علماء اپنی رائے سے رجوع کر لیتے، اور اکیڈمی کا اتفاق بھی آپ کی رائے پر ہوتا۔البتہ کچھ ایسے کور چشم ہوتے جو ایک مخصوص فقہ کو زبردستی تھوپنا چاہتے تھے۔
دینی جلسوں میں بحیثیت خطیب بلائے جاتے رہے، اور اس طرح آپ نے تقریر اور تحریر دونوں میدان میں امت کی رہنمائی کی،مولانا رحمہ اللہ عوام وخواص میں یکساں مقبول تھے، مسائل کی دریافت کے لئے عوام الناس کا مرجع تھے، ضرورت اس بات کی ہے کہ فقیہ وقت کے فتوؤں کی اشاعت عمل میں لائی جائے، ان کی زندگی اور کتابوں پر بحث لکھی جائے ، تاکہ آنے والی نسلیں اپنے سلف کے حالات سے واقف رہیں، انہیں حوصلہ ملے ، ورنہ اپنی جماعت کا المیہ تو یہ ہے کہ وہ اپنے بزرگوں کی قدر اور ان کے ورثے کی حفاظت کی ذرا بھی پرواہ نہیں کرتی ، اور وہ اپنی عظیم خدمات کے ساتھ ایسا دفن ہوجاتے ہیں کہ گویا انہوں نے کچھ کیا ہی نہیں۔ انا للہ و انا الیہ راجعون
اللہ تعالیٰ موصوف کی بال بال مغفرت فرمائے،آپ کی خدمات کو قبول فرمائے ، قبر پر شبنم افشانی کرے،اور جنت الفردوس میں آپ کا مسکن بنائے(آمین)
مفکر جماعت علامہ ڈاکٹر مقتد یٰ حسن ازہری رحمہ اللہ (۱۸؍اگست۱۹۳۹ء۔۔۳۰؍اکتوبر۲۰۰۹ء)
دنیائے علم و ادب کی عبقری شخصیت ، ملی اور سماجی اقدار کا فروغ کار ، دانشکدۂ فکر و فن کا نیر تاباں، عرب و عجم کا رابطہ کار ، ایک عظیم و باوقار ہستی ، جسے دنیا علامہ ڈاکٹر مقتدی حسن ازہری کے نام سے جانتی ہے، مورخہ ۳۰؍ اکتوبر ۲۰۰۹ء کو زمیں اوڑھ کر سو گئی، انا للہ و انا الیہ راجعون۔
مایہ ناز علمی درسگاہ جامعہ سلفیہ بنارس کے صدر ، درجنوں کتابوں کے مولف،متعدد تنظیموں کے سرپرست، مشہور عربی داں، عظیم دانشور ، اور بیباک خطیب علامہ ازہری صاحب کو کچھ عرصہ قبل بلڈ کینسر کا عارضہ لاحق ہوا،لیکن جب پتہ چلا تو اخیر اسٹیج میں پہنچ چکا تھا، دوا و دعا کے ساتھ علاج چلتا رہا، مگر اللہ کی مشیت کچھ اور تھی،چنانچہ اللہ کے اس صابر و شاکر بندے نے اپنی جان، جان آفریں کے سپرد کردی۔
سر زمین مؤ ناتھ بھنجن ، جس نے پوری دنیا میں اپنی علمی اہلیت و قابلیت اور ہنر مندی کا لوہا منوایا ہے، یہ وہ سر زمین ہے جس کا ذرہ ذرہ نیر اعظم بن کر نکلا، علماء کی سر زمین، ہنر وران کتاب و سنت کی سر زمین ، محدثین و مؤرخین کی سر زمین ، ادباء و انشاء پردازوں کی سرزمیں، شعراء و فنکاروں کی سرزمین، صنعت کاروں و پارچہ بافوں کی سرزمین ، الغرض اس خطہ نے اپنے دامن میں اتنے لعل وجواہر چھپا رکھے ہیں، جس کا شمار مشکل ہے، مگر اس کی عظمت نشاں پر دال ہیں۔
سردار جماعت اہل حدیث،فخر جامعہ سلفیہ بنارس، محبوب مؤناتھ بھنجن ڈاکٹر مقتدیٰ حسن ازہری کوئی محتاج تعارف شخصیت نہیں، اپنوں اور بیگانوں میں ایک مشہور نام، جس کے سبھی گیت گاتے نظر آتے ہیں، جامعہ سلفیہ بنارس آج جس تناور درخت کا روپ دھار چکا ہے ، یہ کہا جاسکتا ہے کہ ازہری صاحب نے اسے اپنے خون جگر سے سینچ کر پروان چڑھایا۔اس کی شہرت میں جن علماء و افاضل کا کردار رہا ہے، اس میں ان کا کردار نہایت نمایاں ہے۔
جامعہ ازہر مصر سے ادب عربی میں بیچلر ڈگری لینے کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ایم اے اور پی ایچ ڈی کیا، عربی ادب آپ کا اختصاص تھا، اور اسی موضوع پر کئی کتابیں بھی تالیف کیں، مشہور سیرت کی کتاب رحمۃ للعلمین کاعربی میں ترجمہ کیا ، جو بیحد مقبول ہوئی،بعض اہم تالیفات وتراجم ملاحظہ فرمائیں: *راہ حق کے تقاضے*خاتون اسلام *قرۃ العین فی تفضیل الشیخین ابی بکر وعمر
* مسألۃ حیاۃ النبیﷺ في ضوء الادلۃ الشرعیۃ۔ الشیخ محمد اسماعیل السلفی گجرنوالہ (عربی ترجمہ)*نظرۃ الی موقف المسلمین من أحداث الخلیج۔ *حرکۃ الانطلاق الفکری و جہود الشاہ ولی اللہ فی التجدید ۔مولانا محمد اسماعیل گجرنوالہ (عربی ترجمہ)*تاریخ ادب عربی ۔ أحمد حسن زیات (اردو ترجمہ) پانچ جلدیں۔ * عورت کے متعلق اسلام کا نظریہ* ادب کی حقیقت* مسلمان اور اسلامی ثقافت* دور حاضر میں نوجوان مسلم کی ذمہ داری* معاصر کتابوں اور تاریخ کی روشنی میں بابری مسجد کا سانحہ۔ *مختصر زاد المعاد(اردو)* اصلاح المساجد(اردو)۔
450 سے زائد کتابوں کا آپ نے مقدمہ لکھا، آپ کا مقدمہ و تقریظ کتابوں کو اعتبار بخشتا تھا، اگر ان تمام مقدمات و تقریظات کو یکجا کتابی شکل میں شائع کردیا جائے تو بہت نادر قیمتی علمی اور تحقیقی تحفہ ہوگا۔ جس سے طلبہ وعلماء یکساں طور پر مستفیض ہوسکتے ہیں۔عربی ماہنامہ صوت الامہ کی 40 سال تک ادارت کے فرائض انجام دئے، اردوو عربی میں آپ کے مقالات ومضامین کی تعداد ڈیڑھ ہزار سے زائد ہیں،عربی زبان کی بے مثل خدمت کے اعتراف میں ۱۹۹۲ء میں صدر جمہوریہ ہند نے اعزاز سے نوازا تھا۔پوری دنیا میں منعقدسینکڑوں اسلامی کانفرنسوں میں آپ بطور مقالہ نگار، خطیب، اور صدر کی حیثیت سے مدعو کئے جاتے رہے۔
آپ نے جماعت اہل حدیث کی تنظیم’’مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند‘‘کے رکن شوریٰ و عاملہ کی حیثیت سے برسہا برس عظیم الشان خدمت کی ہے۔اس جمعیت کے تین ’’آل انڈیااہل حدیث کانفرنس‘‘ (منعقدہ :مؤ۱۹۹۴ء ؁، پاکوڑ ۲۰۰۴؁دهلي 2008)کے صدر استقبالیہ ہونے کا شرف ڈاکٹر صاحب موصوف کو ہی حاصل ہے۔ یہ وہ انفرادیت ہے جس میں ان کا کوئی شریک نہیں ہے۔اور ہرکانفرنس میں آپ کا تحریر کردہ خطبہ استقبالیہ مطبوع شکل میں سامعین و قارئین کی خدمت میں پیش کیا گیا۔آپ کے خطبہائے استقبالیہ انتہائی قابل قدر معلومات پر مشتمل ہیں جن سے تحریک اہل حدیث اور اس کے خط وخال کو سمجھنے ،اس تحریک کے مد وجزر کو جاننے میں کافی مدد ملتی ہے۔ مجھے یاد ہے مؤ آل انڈیا کانفرنس کے موقع پر جب آپ صدر استقبالیہ تھے، اس وقت کے ناظم جمعےۃ مولانا عبد الوہاب خلجی حفظہ اللہ نے کہا تھا: ہم سب کے لئے فخر کی بات ہے کہ آج سے تقریبا ستر سال قبل جب مؤ میں آل انڈیا کانفرنس ہوئی تھی اس کے صدر استقبالیہ مشہور سیرت نگار ، صاحب رحمۃ للعالمین علامہ قاضی سلیمان منصور پوری رحمہ اللہ تھے اور آج اسی کتاب کے عربی مترجم حضرت ڈاکٹر مقتدیٰ حسن ازہری اسی سرزمین پر کانفرنس کی صدارت کر رہے ہیں۔
ازہری صاحب کو میں نے قریب سے دیکھا اور جانا ہے، آپ کے ساتھ دو مرتبہ سفر میں بھی رہا، وہ ہر عمر کے لوگوں کے ساتھ نبھانا جانتے تھے، وہ وقت کے نہایت پابند تھے، مقصد کو ہمیشہ مقدم رکھا، مول بھاؤ کی انکی عادت نہیں تھی،تواضع اور خاکساری ان کا اوڑھنا بچھونا تھا، ۲۰۰۰ء ؁ میں جب میں اور عم محترم زاہد آزاد جھنڈا نگری نے روزنامہ راشٹریہ سہارا کاعلامہ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ نمبر نکالنے کا فیصلہ کیا، اس سلسلے میں بنارس کا بھی سفر ہوا، جامعہ سلفیہ کے ناظم صاحب سے ملاقات ہوئی، انہوں نے کہا: جامعہ سے علامہ ناصر الدین البانی کا کوئی تعلق نہیں تھا، ہم انکی حیات پر اشاعت کے لئے کچھ نہیں کر سکتے۔ ازہری صاحب ساتھ میں تھے، انہوں نے یہ کہہ کر خاموش کیا: ایک مرتبہ البانی صاحب سے درخواست کی گئی تھی کہ جامعہ سلفیہ آکر تد ریس و تحقیق کی خدمت انجام دیں، انہوں نے قبول بھی کیا، مگر بعد میں حالات نے انہیں معذرت کرنے پر مجبور کردیاتھا۔ ؂
مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں
پھر خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں
وہ امت کے مسائل کا حل پیش کرتے تھے، ان کی ذات علم کا بحر ذخار تھی، ایک دنیا مستفید ہورہی تھی،آج دنیا بھر میں انکے شاگردوں کی ایک طویل فہرست موجود ہے، جو انکے نقش پر علمی ، تحقیقی اور صحافتی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کے ارتحال نے امت کو خسارے میں مبتلا کردیاہے، ان کی کمی ہمیشہ محسوس کی جائے گی، تقریبا ۷۲ برس کی عمر پائی، آخری ایام میں کینسر کا پتہ چلا اور پھر فالج کا اٹیک ہوا ، اور وہ اس سے جانبر نہ ہوسکے۔ ۳۰؍ اکتوبر کی شام کو آبائی وطن مؤ ناتھ بھنجن میں ۲۵؍ ہزار سے زائد سوگوار وں کے بیچ منوں مٹی کے نیچے دفن کردئے گئے۔ غفر اللہ لہ وأ سکنہ فی فسیح جناتہ وہو علی کل شئی قدیر۔

رسالت کی ضرورت jul-sep 2010

عرفان احمد بن عبد الواحد صفوی
رسالت کی ضرورت
انسان کی حقیقت:
انسان کو ہمیشہ سے اپنے متعلق غلط فہمی رہی ہے۔ تاریخ کے اوراق پر اگر نگاہ ڈالی جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ اس نے تاریخ کے کسی بھی دور میں اپنی حقیقت سمجھنے میں کامیابی حاصل نہیں کی ہے۔ کبھی وہ دیکھتا ہے کہ دنیا کی ہر شئی اس سے طاقت ور ہے ،دنیا کی کسی بھی چیز پر اس کا حکم نہیں چلتا ہے ۔سورج،چاند اور ستارے اپنی مرضی سے نکلتے اور غروب ہو تے ہیں، با رش خود ہو تی ہے سیلاب خود آتے ہیں اور طوفان خود ہی اٹھ کر تہلکا مچا دیتے ہیں۔ ایسی صورت میں انسان اپنے آپ کو نہایت ہی کمزور اور بے بس پاتا ہے۔وہ سمجھتا ہے کہ وہ کائنات کی دیگر اشیاء کے مقابلے میں کوئی زور و اقتدار نہیں رکھتا ہے۔
وہ اپنی زندگی اور موت کو دوسروں کی رہینِ منت سمجھتا ہے، صحت و مر ض کو غیروں کا عطیہ سمجھتا ہے ۔نتیجتاً تفریط کی طرف مائل ہو تا ہے اور احساس کمتری کا شکار ہو کر اپنے آپ کو دنیا کی سب سے ذلیل ہستی سمجھ بیٹھتا ہے۔ہر نفع و نقصان پہنچانے والی قوت کے سامنے اپنا ماتھا ٹیک دیتا ہے اور ہر اس چیز کے سامنے اپنا ماتھا ٹیک دیتا ہے، جس میں کسی قسم کی طاقت و قوت اور نفع و ضرر کا پہلو اسے نظر آتا ہے، نیز اسے اپنا معبود بنا لیتا ہے۔
کبھی ایسا ہو تا ہے کہ وہ اپنے آپ کو دنیا کی سب سے بر تر قوت ماننے لگتا ہے،وہ دیکھتا ہے کہ دنیا کی ہر شئی پر اس کی حکمرانی ہے کائنات کا ذرہ ذرہ اس کے بس میں ہے،یہ چیز اس کو ضرور تکبر میں مبتلا کر دیتی ہے اور وہ اپنے آپ کو انتہائی غیر ذمہ دار سمجھتا ہے ،کسی کے سامنے جواب دہی کا اسے اندیشہ نہیں ہو تا ،جس کی بنا پر وہ خالق کائنات کا انکار کر بیٹھتا ہے۔ انسان کی سوچ کے یہ دونوں پہلو غلط ہیں، جب کہ انسان کی اصل حقیقت یہ ہے کہ وہ اس دنیا میں ایک حاکم بالا کی رعیت ہے، اسی نے انسان کو زندگی بخشی ہے۔صلاحیتیں،قوتیں اور اعضا عنایت فرمائے۔انسانی بدن کے تمام اعضاء اس کی قدرت و حکمت اور اس کی ربوبیت کی علامت ہیں۔ یہ انسان جس دنیا میں رہتا ہے اور جس کے قوانین کے شکنجے میں جکڑا ہوا ہے وہ سب اس کی خدمت اور فائدہ کے لئے مسخر کی گئیں ہیں، وہ نہ تو اتنا ذلیل ہے کہ کائنات کے ہر شئی کے سامنے اپنا ماتھا ٹیک دے اور نہ ہی خود مختار اور آزاد بلکہ وہ ان دونوں انتہاؤں کے بیچ کی حیثیت رکھتا ہے۔یہ دنیا انسان کے لئے امتحان گاہ ہے، اس کے مالک نے اس کو کچھ اختیارات دے دئے ہیں ،وہ اپنی حیثیت کے مطابق زندگی بسر کر تا ہے، یا افراط و تفریط کا شکار ہو جاتا ہے۔
فطرت انسانی کی پکار:
انسان جب اپنے آپ پر غور کر تا ہے، تو وہ دیکھتا ہے کہ اسے بہترین صلاحیتیں اور قوتیں عطا کی گئی ہیں۔زمین کی مخلوقات پر اسے اقتدار حاصل ہے اور زمین و آسمان کی بے شمار چیزیں اس کی خدمت میں لگی ہو ئی ہیں،وہ اپنے جسم پر نگاہ ڈالتا ہے، تو اس کا ہر چھوٹا بڑا حصہ بہترین،محیر العقول اور کثیر المقاصد مشین کی طرح نظر آتا ہے۔ اس کا ہر ہر عضو غیر معمولی حکمت و دانائی کے ساتھ بنا یا گیا ہے ،اور ان میں اتنی حکمتیں اتنے کمالات اور باریکیاں ہیں جن کا عقل انسانی کبھی احاطہ نہیں کر سکتی ہے۔خود انسانی دماغ کا یہ عالم ہے کہ اس کے ذریعہ انسان نہ صرف زمین پر حکمرانی کر رہا ہے ،بلکہ فضا کو بھی مسخر کر نے کی کوشش میں لگا ہے۔خالق کائنات کی ان بے انتہا نعمتوں کو دیکھ کر انسان کا دل اپنے خالق کی عظمت ،اس کے شکر اور محبت کے جذبے سے معمور ہو جاتا ہے، وہ چاہتا ہے کہ اس کی عظمت کے گن گائے اس کا دل شہادت دیتا ہے کہ کو ئی مدبر عالم ہے جس نے اپنی طاقتوں کے ساتھ اس کی تخلیق کی ہے مگر اس کے ادراک سے وہ قاصر رہتا ہے ایسے میں انسان کی فطرت کہتی ہے کہ جس خالق نے ہماری ضروریات کا سامان مہیا کیا ہے، وہ اتنی عظیم ضرورت کو خالی نہیں چھوڑ سکتا ہے۔انسان اپنی فطرت سے مجبور ہے کہ وہ محسن کا شکریہ ادا کرنے اور مصائب میں اس کے سامنے دست سوال دراز کر نے کے لئے اسے ایک رہبر چاہئے جو اسے بتائے کہ وہ کون ہے اور کیوں ہے؟ کس نے اسے زندگی بخشی؟ اس کو اتنے سارے اختیارات کیوں دئے گئے؟ ان سوالات کے جوابات انسان کے پاس نہیں ہیں لہٰذا ضرورت ہے کہ جس خالق مربی نے اس کو ساری چیزیں عطا کی ہیں وہ اپنے بارے میں انسان کو بتائے ،وہ خبر دے کہ اس کی مرض کیا ہے؟ وہ اس دنیا میں کیا چاہتا ہے ؟ انسانوں کو پیدا کر نے میں اس کا کیا مقصد ہے؟اس کی رضا و غضب کے اسباب کیا ہیں ؟ فطرت کہتی ہے کہ ایک وسیلے کی ضرورت ہے، جو انسان کو اس کی حیثیت سے باخبر کرے ،اس کو اس کی حقیقت بتلائے اور یہ وسیلہ صرف رسول ہی ہو سکتا ہے۔
رسالت کیوں ضروری ہے؟:
ان سوالات کے جوابات پانے کے لئے ہمیں دیکھنا ہے کہ انسان کی تخلیق کا جو مقصد ہے یعنی امتحان،اس کی عملی صورت کیا ہو سکتی ہے؟
سطور بالا میں ذکر ہو چکا ہے کہ انسان کی حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنے خالق کا محکوم ہے۔اللہ رب العالمین اپنے بندوں کا امتحان لینا چاہتا ہے اور یہی چیز انسان کی زندگی کا بنیادی مقصد ہے،یعنی اطاعت الٰہی۔اس اطاعت کے لئے ضروری ہے کہ انسان کو اپنے خالق کے احکام و مرضیات کا علم ہو، اس کے بغیر اطاعت کا تصور ہی ممکن نہیں ۔جو انسان اطاعت گزار بن کر زندگی گزارنا چاہے گا ،وہ لازماً جاننا چاہے گا کہ وہ کون سے احکام ہیں ،جن کی اطاعت کرنا ہے،رب دو جہاں کن باتوں کو پسند کر تا ہے اور کن چیزوں سے انسان غضب الٰہی کا شکار ہو سکتا ہے؟وفاداری اور نا فرمانی کے پرکھنے کا معیار کیا ہے؟ ۔
یہاں یہ بنیادی سوال اٹھ کھڑا ہو تا ہے کہ کیا انسان اللہ تعالیٰ سے احکام و مرضیات معلوم کر نے پر قادر ہے؟ کیا انسان کے پاس ایسے ذرائع ہیں ،جن سے معلوم ہو سکے کہ اللہ رب العالمین کن باتوں کو پسند کرتا ہے اور کن باتوں سے روکنے کا حکم دیتا ہے۔ان سوالات کے جوابات نفی میں ہیں کیوں کہ انسان کے پاس جو ذرائع ہیں وہ اس اہم کام کو انجام نہیں دے سکتے۔ انسانی ذرائع میں سب سے پہلی چیز جو نظر آتی ہے جس کی عقل ہے،جس کے ذریعہ انسان نے بہت سارے مسائل کو حل کر لیتا ہے، مگر یہ معاملہ الگ ہی نوعیت کا ہے بڑے سے بڑا عقل مند شخص یہ نہیں بتا سکتا کہ اس کی زندگی کی حقیقت کیا ہے؟ وہ خالق کائنات کی صفات اور اس کے تقاضوں کے سلسلے میں کو ئی بھی حکم لگا نے پر قادرنہیں ہے۔
انسان اپنی عقل سے اس بات کا پتہ نہیں لگا سکتا کہ اللہ رب العالمین نے اس کو کیا احکام دئے ہیں اور اس کا مرض کیا ہے؟ مختصر یہ کہ عقل انسانی اس سلسلے میں مکمل معذور ہے۔دوسرا ذریعہ انسان کی ریاضت اور مجاہدۂ نفس ہے، مگر ریاضت کی بڑی سے بڑی کوشش بھی یہاں کامیاب ہو تی دکھائی نہیں دیتی۔انسان چاہے جتنی ریاضت کرلے اور اپنی طرف سے پوری محنت کر لے پھر بھی اللہ تعالیٰ کے احکام و مرضیات کا عکس اس پر ظاہر نہیں ہو سکتا، جب تک اللہ تعالیٰ خود نہ خبر کرے کسی کو اس کی مرضیات کا علم کیسے ہو سکتا ہے؟ لہٰذا یہ ذریعہ بھی نا کافی ہے۔
تیسرا ذریعہ یہ ہو سکتا ہے کہ فرد واحد کے بجائے بہت سارے افراد اجتماعی طور سے غور و فکر کریں، مگر یہ ایک حقیقت رہے گی کہ ان تمام افراد میں سے ہر ایک فرد بذات خود اپنی عقل و ریاضت سے حکم الٰہی کو معلوم کرنے پر قادر نہیں ہو گااور ایسے افراد کا مجموعہ ہو گا جن میں کا ہر فرد ناقص علم و صلاحیت رکھتا ہو گا ،بایں طور پہلے ذریعہ کی طرح یہ بھی ذریعہ نا کا فی ہی ہے۔
یہ ایک امرمسلّم ہے کہ چند چیزوں کی اچھائی اور برائی کا علم تو ہمیں ہو سکتا ہے، لیکن محض اتنی سی بات سے یہ کہاں ثابت ہو تا ہے کہ ہم تمام کاموں کی بھلائی و برائی کا اندازہ کر سکیں۔اس کے علاوہ ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ بھلائی و برائی کے کاموں پر بھی انسانوں میں اختلافات پائے جاتے ہیں۔ کچھ لوگ کسی چیز کو بھلائی قرار دیتے ہیں تو دوسرا فریق شدت کے ساتھ اسے برائی قرار دینے پر مصر رہتا ہے۔جن کاموں کے بھلے و برے ہو نے پر اتفاق بھی ہے ان کی جزئیات میں جا کر اختلاف ہو جاتا ہے ۔ظاہر ہے اتنی سی بات پر ہم یہ دعویٰ تو نہیں کر سکتے کہ ہم بھلائی اور برائی میں امتیاز کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں،اور جب یہ بات صاف ہو جاتی ہے کہ انسان اپنے احکام و مرضیات الٰہیہ کا ادراک نہیں کر سکتا ،تو ضروری تھا کہ اوپر سے اس کی رہبری اور رہنمائی کی جاتی،جس خالق نے انسان کو پیدا کیا اور سارے وسائلِ حیات مہیا کئے ہیں، وہ انہیں اپنے احکام و فرامین سے آگاہ کرتا۔چنانچہ اللہ رب العالمین نے انسانی زندگی کے اس تقاضے کو بھی پورا کیا اور رسولوں کا سلسلہ قائم فرمایا، انہوں نے آکر انسانوں کو اللہ کی تعلیمات دیں،انہوں نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ کو کیا پسند ہے اور کون سی چیز وہ نا پسند کر تا ہے۔

ٹھنڈی تھی جس کی چھاؤں وہ دیوار گر گئی jul-sep 2010

مولا نا اسعد اعظمی؍استاذ جامعہ سلفیہ بنارس
ٹھنڈی تھی جس کی چھاؤں وہ دیوار گر گئی
ڈاکٹر مقتدی حسن ازہری رحمۃ اللہ واسعۃ کے سانحۂ ارتحال پر تقریباًڈیڑھ ماہ کا عرصہ گذر چکا ہے،مگر ان کی جدائی کا غم روز بروز تازہ ہو تا ہے،ڈاکٹر صاحب میرے اور میری اہلیہ دونوں کے سگے ماموں تھے۔جامعہ سلفیہ میں اساتذہ کی رہائش گاہ’’دار الضیافہ‘‘کی عمارت میں آپ کے فلیٹ سے متصل ہی میرا فلیٹ ہے،بالکل ایک گھر جیسا ماحول رہتا تھا،دونوں طرف سے آمد و رفت لگی رہتی تھی۔فروری ۲۰۰۳ ؁ء میں جب میں جامعہ سلفیہ آیا اور مجھے ڈاکٹر صاحب کی رہائش گاہ سے متصل قیام کا موقع میسر ہو ا تو اس سے مجھے بڑی آسانی ہو ئی،کسی بھی نئی جگہ شفٹ ہو نے کے وقت اجنبیت اور تنہائی کے جو احساسات آدمی کو متفکر کئے رہتے ہیں بحمد اللہ میں اس سے محفوظ رہا۔ڈاکٹر صاحب اور ان کا کنبہ قدم قدم پر میرے لئے سہارا بنے،بالخصوص جب ایک سال کے بعد میرے بال بچے بھی بنارس منتقل ہو ئے تو بہت ساری گھریلو ضروریات کی تحصیل و تکمیل میں آپ اور آپ کی فیملی کا بھر پور تعاون رہا۔
مجھے جامعہ سلفیہ میں تعلیم کی سعادت حاصل نہیں ہو سکی ،قاعدہ بغدادی سے لے کر فضیلت تک کی میری تعلیم جامعہ عالیہ عربیہ مؤ میں ہوئی۔بنا بریں درسگاہ میں آپ کے سامنے زانوئے تلمذتہ کرنے کی سعادت سے محروم رہا،آپ میرے استاذ نہیں،البتہ استاذ الاساتذہ تھے۔میرے اساتذہ کرام میں مولانا اقبال احمد کفایت اللہ سلفی رحمہ اللہ(سابق استاذ جامعہ عالیہ عربیہ مؤ)،مولانا شریف اللہ صاحب سلفی(شیخ الجامعہ عالیہ)،مولانا اشفاق احمد سلفی مدنی(استاذ جامعہ عالیہ عربیہ)،مولا نا ابو القاسم عبد العظیم سلفی مدنی(استاذ جامعہ فیض عام ،سابق استاذ جامعہ عالیہ عربیہ مؤ) آپ کے ممتاز شاگردوں میں شمار ہو تے ہیں،درسگاہ کی براہ راست شاگردی کے شرف سے محرومی کا غم تب جا کر کچھ ہلکا ہوا جب اللہ تعالیٰ نے جامعہ سلفیہ میں منتقلی کے ذریعہ آپ کی رفاقت و مصاحبت و مجالست اور استفادہ کا سنہری موقع عنایت فرمادیا۔
علم عمل کی بلندیوں پر فائز ایک عظیم مشفق مربی و سرپرست کا سایہ حاصل ہو نے پر میں فخر و انبساط سے لبریز آپ سے علمی و عملی دونوں میدانوں میں استفادہ کی بھر پور کوشش کرتا،دن بھر میں متعدد بار میرا آپ کے یہاں جانا ہو تا اور آپ کی ذرہ نوازی کہ آپ بھی میرے کمرے میں تشریف لاتے،آپ اگر چاہتے تو ہر ضرورت کے وقت مجھ کو طلب کرتے اور خود آنے کی زحمت سے بچ سکتے تھے، مگر تواضع اور شفقت کا یہ عالم رہا کہ سخت بیماری کے ایام کے علاوہ آپ نے کبھی بھی ایسا نہیں کیا۔
جامعہ میں تدریسی ذمہ داریاں سنبھالنے کے چند ماہ بعد آپ کے حکم سے مجلہ صوت الأمۃ کے کاموں میں آپ کے تعاون کا شرف حاصل ہوا،اس طرح آپ کے آفس میں بھی مجالست کا موقع حاصل ہوا،اس کے بعد کانفرسوں اور سیمیناروں میں شرکت کی غرض سے ہونے والے اسفار میں مصاحبت اور خدمت حصہ میں آئی۔الحمد للہ گھر،آفس اور سفر و حضر ہر موقع پر آپ سے فیض اٹھا نے کا موقع ملا۔مدینہ یونیورسٹی کے میرے ایک استاد نے دوران درس ایک بار کہاتھا کہ آدمی جتنا علم حاصل کرتا ہے اور سیکھتا ہے اتنا زیادہ اس کو اپنی جہالت کا احساس ہو تا ہے۔ڈاکٹر صاحب سے مسلسل استفادہ کرتے ہوئے مجھے اپنی علمی بے بضاعتی اور نا تجربہ کاری کا احساس ہو تا رہتا اور ہمیشہ یہ سوچتا رہتا کہ اگر میں جامعہ سلفیہ میں منتقل نہ ہوا ہوتا اور محترم ڈاکٹر صاحب کے علم و فضل اور تجربات کا سایہ مجھے حاصل نہ ہوا ہو تا تو کس تاریکی میں بھٹکتا رہتا۔
۹۶۔۱۹۹۵ء کی بات ہے،جامعۃ الملک سعود ریاض سے ایک سالہ ڈپلوما کورس مکمل کرنے کے بعد وطن واپس ہو ا،تو ایک بار ڈاکٹر صاحب رحمۃ اللہ کو جو کسی پروگرام میں شرکت کے لئے مؤ تشریف لائے تھے اور ہمارے گھر پر آپ کا قیام تھا ،میں نے جامعۃ الملک سعود میں تیار کردہ اپنا مقالہ آپ کی خدمت میں پیش کیا جو ہندوستان کے طلبہ کی عربی بول چال میں کمزوری اور اس کے اسباب و علاج سے متعلق تھا۔اس مقالہ کی تیاری میں میں نے ڈاکٹر صاحب کی تحریروں سے بھی استفادہ کیا تھا،آپ نے مقالہ پر ایک سرسری نظر ڈالنے کے بعد اسے اپنے بریف کیس میں رکھ دیا،میں حیرت و استعجاب سے آپ کی طرف دیکھنے لگا تو آپ نے واضح فرمایا کہ اسے صوت الامۃ میں شائع کریں گے۔میں متحیر و مسرور دیر تک آپ کو دیکھتا رہا،کیونکہ اتنے موقر مجلے میں اپنے جیسے نو وارد کی کسی تحریر کے شائع ہو نے کا تصور بھی میں نے کبھی نہیں کیا تھا اور نہ اس مقالہ کو آنجناب کی خدمت میں پیش کرنے کا یہ مقصد ہی تھا،میں نے محض اپنی ایک کو شش کو آپ کے روبرو کر کے کچھ رہنمائی حاصل کرنا چاھاتھا۔
آپ کے اس کریمانا تحمل سے حوصلہ پا کر میں نے فورا مکہ معظمہ میں تیار کئے ہو ئے اپنے ماجستیر(ایم ،اے)کا رسالہ بھی لا حاضر کیا،جس کا موضوع ’’الدعوۃ الی اللہ و تربےۃ الاطفال‘‘ تھا اور تقریباً(۲۵۰)صفحات پر مشتمل تھا،آپ نے اس رسالہ پر بھی ایک نظر ڈالنے کے بعد اور یہ اطمینان کر نے کے بعد کی اس کی دوسری کاپی میرے پاس ہے اسے بریف کیس کے حوالے کر دیا۔اول الذکر مقالہ ۱۹۹۶ ؁ء میں پانچ قسطوں میں اور مؤخر الذکر۹۸۔۱۹۹۶ء میں (۱۹) قسطوں میں آپ نے شائع فرمایا۔
موصوف علیہ الرحمۃ یا فضل و کمال کی بلندیوں پر فائز دیگر شخصیات کے بارے میں لوگ یہ جاننے کی خواہش رکھتے ہیں کہ ان کے معمولات کیا ہو تے تھے؟ان کے لیل و نہار کیسے گذرتے تھے؟کون سی چیز ان کو دوسروں سے ممتاز کرتی تھی؟مجھے بہت ہی قریب سے آپ کے معمولات کا مشاہدہ کرنے کا موقع ملا۔
علمی مشاغل،کتابیں،مجلات و جرائد یہ سب آپ کا اوڑھنا بچھونا ہو تے تھے،صبح سے لے کر رات دیر گئے آپ کام میں لگے رہتے،درس کا وقت ہو تے ہی آپنے آفس کی تمام مصروفیات چھوڑ کر سیدھے درس گاہ کے لئے نکل جانا،صوت الامۃ کے لئے ہر ماہ افتتاحیہ لکھنا،کانفرنسوں اور سیمناروں کے لئے مقالات تیار کرنا،ملک اور بیرون ملک سے وارد مختلف کتابوں پر پیش لفظ لکھنا،خطبوں اور تقریروں کے لئے معلومات جمع کر نا،ساتھ ہی ترجمہ و تصنیف کا کام بھی جاری رکھنا،پھر بھی کبھی تضجر اور بیزاری کا اظہار نہیں،ان سب کاموں کے درمیان میں مختلف شہروں اور علاقوں سے آنے والے مہمانوں کی تکریم،ان کی مشکلات و مسائل کا حل بتانا اور ان کی علمی و غیر علمی ضرورتوں کی تکمیل،دوسری طرف ٹیلیفون اور موبائل سے رابطہ کرنے والوں سے گفتگوں،مشورے، تجا ویز،ہدایتیں،پھر یومیہ اخبار کا مطالعہ،مجلات و جرائد کا تصفح،وارد خطوط کا جواب،مقررہ اوقات پر ریڈیو سے خبریں سننا،وقتا فوقتا لائبریری سے مراجعت۔الغرض ایک مشینی زندگی تھی، جس میں تکان اور اضمحلال کو در آنا کم ہی موقع ملتا تھا۔
آپ طلبہ کو نصیحت کرتے وقت کبھی کبھی یہ شعر پڑھا کرتے تھے ؂
اذا کانت النفوس کبارا تعبت فی مرادھا الأجساد
یعنی اگر نفس عظیم ہو تا ہے تو ایسے نفس کے مقاصد حاصل کرنے میں جسم تھک جا کرتا ہے۔
در حقیقت آپ خود اس شعر میں بیان کردہ مفہوم کی جیتی جاگتی تصویر تھے،سچ ہے ؂
’’نامی کو ئی بغیر مشقت نہیں ہوا‘‘
کسی با صلاحیت شخص کو علمی مشاغل سے دلچسپی رکھتے نہ دیکھتے تو اس کی صلاحیت کے ضیاع پر بے حد افسوس کرتے،اس کے برعکس اگر کسی کم صلاحیت والے فرد کو بھی علمی کاموں سے مربوط دیکھتے تو خوش ہو تے اور تشجیع فرماتے۔
طویل و قصیر دونوں طرح کے اسفار میں آپ کی مصاحبت کے دوران دیکھتا کہ کچھ کتب و رسائل ساتھ میں رکھتے ہیں،اگر ٹرین کے آنے میں تاخیر ہے تو اشٹیشن ہی میں اور پھر ٹرین میں بیٹھنے کے بعد مطالعہ جاری رہتا،مؤ۔بنارس کے سفر میں عام طور سے کویت سے شائع ہو نے والا ہفتہ روزہ جریدہ’’الفرقان‘‘ساتھ میں رکھتے تھے،منزل تک پہنچنے کے بعد جیسے موقع ملتا لکھنے پڑھنے کا کام شروع کردیتے۔
بسلسلہ علاج دہلی جانے کے دن بنارس میں صبح کے وقت تک لکھنے کا سلسلہ جاری رہا،جب کے آخر کے چار پانچ ایام بے حد تکلیف میں گزرے۔دہلی روانگی کے وقت ایک کتاب اپنے سامان میں رکھنے کے لئے دی،بعد میں دیکھنے پر معلوم ہوا کہ اس کتاب میں ایک چھوٹے سے کاغذ پر یہ لکھ کر رکھا ہو ا ہے کہ اس کتاب کا مفصل تعارف محدث کے لئے اور مختصر تعارف صوت الامۃ کے لئے لکھنا ہے،مگر آہ! بنارس میں آخری دن تک کتاب و قلم سے تعلق ہی آخری رہا،دہلی پہنچنے اور ہاسپٹل میں داخل ہو نے کے بعد مرض نے آپ کا ذہنی و جسمانی سکون سلب کیا تو وہ کتاب بیگ ہی میں پڑی رہی اور پڑی رہ گئی،ہاسپٹل میں آپ کے ساتھ رہنے والے اعزہ نے بتایا کہ وہاں متعدد بار آپ نے اس طرح کی بات کہی کہ مجھے ذرابھی راحت مل جاتی تو یہیں لکھنے کا کام شروع کردیتا ،مگرآہ! ؂
چھپ گئے وہ ساز ہستی چھیڑ کر اب تو بس آواز ہی آواز ہے
ڈاکٹر صاحب کی بیماری اور پھر سانحۂ ارتحال سب کچھ اتنا آنا فانا ہوا کہ ہر شخص دم بخود ایک دوسرے کو غم کی تصویر بنا دیکھتا رہ گیا،سولات و تفکرات کا ایک سلسلہ ہے جو ختم ہو تا نظر نہیں آتا،اب جامعہ و جمعیت و جماعت کا کیا ہو گا؟خالی پڑی مسند درس کیسے پُر ہوگی؟صوت الامۃ کو جاری رکھنے کی کیا شکل ہو گی؟علمی و ادبی نکتوں کو سلجھانے کے لئے کس سے رجوع کیا جائے گا؟ملکی و بین الاقوامی محافل میں ملک اور جمعیت و جماعت کی نمائندگی کیوں کر ہو سکے گی؟
ہمارے بعد اندھیرا رہے گا محفل میں بہت چراغ جلاؤگے روشنی کے لئے
ذھب الذین یعاش فی أکنا فہم بقی الذین حیاتھم لا تنفع
قضا و قدر پر ایمان ہمیں سہارا اور تسلی کے سامان فراہم کرتا ہے،اس سایہ دار دیوار کے گر جانے سے رنج و الم فطری امر ہے،مگر ہم اللہ کی ذات پر بھروسہ کرتے ہیں،اور دل کی گہرائیوں سے دعا کرتے ہیں کہ:
اللھم اغفرلہ وارحمہ و أدخلہ فسیح جنا تک، واخلفہ خیرا۔انک سمیع قریب مجیب۔ *****

استاذ محترم علیہ رحمۃ jul-sep 2010

حماد عبد الغفار
استاذ محترم علیہ رحمۃ
ہزاروں سو گواروں کے درمیان جب استاذ محترم’’دکتور مقتدی حسن ازہری‘‘ رحمہ اللہ کی تدفین ہو رہی تھی تو رہ رہ کر ذہن میں یہ خیال آرہا تھا کہ ہم نے ایک ادیب اریب کو نہیں،علم و ادب کے ایک ستون کو دفن کردیا ہے۔بلاشبہ شیخ ان نابغۂ روز گار ہستیوں میں سے تھے جن کی شہرت سے کہیں زیادہ ان کا علم تھا ،جن کی فکر تعمیری تھی،جن کی شخصیت ہر مسلک و مذہب کے ماننے والوں کے یہاں پسندیدہ تھی،آپ کی ذات کسی ایک خاص طبقہ کے لئے نہیں پورے ملک کے لئے مفید تھی،آپ کی وفات پورے ملک کے لئے خسارہ کا باعث ہے۔
آپ عربی زبان کے ماہر اسکالر تھے،شاید عربی زبان آپ کے بعد یہ مرثیہ خوانی کرے:
الی معشر الکتاب والجمع حافل بسطت رجائی بعد بسط شکاتی
استاذ محترم رحمہ اللہ سے ایک سال تک تفسیر کی دو کتابوں’’تفسیر بیضاوی‘‘و ’’المنار‘‘ کے بعض اجزاء کے پڑھنے کا شرف حاصل ہوا،دورانِ درس آپ کی زبان سے ادا ہو نے والا ہر لفظ آپ کے غزارت علمی کا پتہ دیتا تھا۔لغات کی تشریح کرتے وقت آپ کی عربی زبان پر قدرت نمایاں ہو جاتی تھی،واضح اور جامع الفاظ میں مطالب بیان کرتے ،آیتوں کی تفسیر کا دل نشین انداز مسلمانوں کو درپیش مسائل کا قرآنی حل ،عربی و اردو کا حسین امتزاج یہ وہ چیزیں ہیں جن کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
درس میں طلبہ سے آپ کا رویہ ہمیشہ دوستانہ رہا ،دورانِ درس علمی لطائف کا پیش کر نا ،اس کا بین ثبوت ہے۔مجھے آپ کا بیان کردہ ایک لطیفہ بار بار یاد آجا تا ہے کہ کسی امیر نے ایک مدرسہ میں جا کر طلباء سے سوال کیا اور انعام بھی دیا ، ایک طالب علم سے سوال کیا ’’تبارک الذی بیدہ الملک وھو علی کل شئی قدیر‘‘ میں ’’و‘‘ کیا ہے۔طالب علم نے برجستہ جواب دیا: عاطفہ ہے۔جواب سن کر اس کو بھی انعام دیا ،لوگوں نے حیرت سے پوچھا،’’حضور‘‘جواب تو غلط ہے ،کہا: اسی بناء پر انعام دیا ہے کہ کم از کم اسے اتنا تو معلوم ہے کہ کوئی ’’و‘‘ عاطفہ بھی ہو تا ہے! لیکن افسوس آپ کی علمی مجالس سے ہم محروم کردئے گئے،سال نو میں جب آپ کو راقم کے مقالہ کا مشرف کیا گیا تو آپ سے استفادہ کی چاہت دو چند ہو گئی اور میری خوشی کی انتہا نہ رہی،لیکن افسوس قدرت کے اٹل قانون نے مجھ سے زندگی کا سب سے بڑا اعزاز بھی چھین لیا اور میرا خواب شرمندۂ تعبیر نہ ہو سکا!
قد أطلق العین الدموع بمحنۃ حلت فأفنت ودصفی ،حازم
آپ کبھی کبھی طلباء کے سامنے محاضرات بھی پیش کرتے تھے،منہج سلف کے موضوع پر کئی محاضروں میں شریک ہو نے کاموقع ملا،ہر بات مدلل اور مستند حوالوں سے ذکر کرتے،موضوع کے تمام نکات پر مُرکّز گفتگو کرتے۔
استاذ محترم رحمہ اللہ ملت کے بہت بڑے مفکر تھے،مسلمانوں کی زبوں حا لی پر آپ ہمیشہ غمگین رہے،آپ کی تقریروں و تحریروں میں ملت کی پسماندگی کا ورد جھلکتا تھا،دورانِ درس بھی آپ خود کو روک نہ پاتے،آپ نے کسی علاقہ و طبقہ کے لئے نہیں پورے ملک و پوری دنیا کے مسلمانوں کے بارے میں سوچا،آپ کی تحریریں آپ کے اس فکر کی ترجمانی ہیں،صوت الامۃو محدث وغیرہ میں آپ کے مضامین اسی کے تصدیق کرتے ہیں۔
استاذ محترم کہا کرتے تھے ،آج مسلمان رفع الیدین،تشھد میں انگلی سے اشارہ کرنا سنت ہے کہ واجب ہے،یا اس جیسے دیگر مسلکی اختلافات میں پڑ کر اصل چیزوں کو بھولے جا رہے ہیں،عقیدے سے دوری کا یہ عالم ہے کہ بہتوں کو کلمۂ شہادت تک یاد نہیں ہے،لیکن اس کی فکر کوئی نہیں کرتا،فروعی مسائل میں الجھ کر اپنا شیرازہ منتشر کر رہے ہیں۔اللہ رب العالمین امت کو ہدایت دے۔
استاذ محترم جامعہ سلفیہ کے صرف استاذ ہی نہیں طلباء کے مربی بھی تھے،آپ ان پاکیزہ نفوس میں سے تھے ،جامعہ سلفیہ جن کی گود میں میں پلا بڑھا،آپ نے جامعہ کو اپنے علمی سر گرمیوں کا مرکز بنایا،مختلف ممالک میں،جامعہ کے نمائندہ کی حیثیت سے شریک ہو کر اس کا تعارف کرایا،آپ کی وفات سے جامعہ کو جو عظیم نقصان پہونچا ہے اس کی تلافی برسوں تک نہ ہو سکے گی۔
آپ نے نبی ﷺ کی ذات اور اسلام پر ہو رہے اعتراضات،اور تحقیق کے نام پر موشگا فیاں کر نے والوں کی نام و نہاد تحقیق کا نہ صرف جواب دیا،بلکہ دوران درس طلباء کو اپنے اندر مطالعہ کا شوق پیدا کر نے اور دشمنوں کے اعتراضات سمجھنے و جواب دینے پر ابھار تے رہتے تھے۔
آپ نہایت متحمل المزاج تھے،عبارت پڑھتے وقت جب ہم سے کو ئی فاش غلطی ہو جاتی تو مسکراکر فرماتے یہ مطبخ کی روٹی نہیں ہے جناب!یہی آپ کا سخت ترین جملہ ہو تا تھا۔
طبیعت اس قدر سلیقہ مند و ترتیب پسند تھی کہ مختلف موضوعات پر مطالعہ کرتے وقت جو نوٹ بناتے الگ الگ فائلوں مین رکھتے جاتے تاکہ ضرورت پر بر وقت مل سکے ،ہمیں تعجب ہوتا،اتنا منہمک رہنے والا شخص اتنی خوشی اسلوبی سے یہ سب کیسے کر لے جا تا ہے،جب کہ ہمارا حال یہ ہے کہ چار کتابین رہتی ہیں کو ئی الماری میں کو ئی بستر پر کوئی بستر کے نیچے،ضرورت پڑنے پر پورا کمرہ الٹ کر رکھ دیتے ہیں۔
شیخ رحمہ اللہ کے علمی بلندی،ہمہ جہتی خدمات اور وفات کے بعد شرکائے جنازہ کی کثرت دیکھ کر بے ساختہ لبوں پر یہ شعر آجا تا ہے ؂
علو فی الحیاۃ و فی الممات لحق أنت احدی المعجزات
علیک تحےۃ الرحمن تتری و ر حمتہ غو ا د رائحا ت

آئینۂ حیات ڈاکٹر مقتدی حسن ازہری رحمہ اللہ jul-sep 2010

محفوظ الرحمٰن السلفی
آئینۂ حیات


ڈاکٹر مقتدی حسن ازہری رحمہ اللہ
نام: مقتدی حسن
والد کا نام: محمد یا سین بن محمد سعید
والدہ کا نام: بلقیس خاتون بنت مولانا محمد نعمان اعظمی شیخ الحدیث(تلمیذ میاں سید نذیر حسین محدث دہلوی)
تاریخ پیدائش: ۸؍اگست ۱۹۳۹ ؁ء
بمقام: محلہ ڈومن پورہ حبہ،مؤ ناتھ بھنجن،یوپی۔
تعلیم:
پرائمری: مدرسہ عالیہ عربیہ،مؤ ناتھ بھنجن
حفظ قرآن کریم: شاخ دار العلوم مرزاہادی پورہ،مؤ ناتھ بھنجن، سن ۱۹۵۳ ؁ء
عربی کی ابتدائی تعلیم تا ثانویہ: مدرسہ عالیہ عربیہ ،مؤ ناتھ بھنجن ۱۳۷۲ھ تا ۱۳۷۶ھ مطابق ۱۹۵۴۔۱۹۵۷م
عا لمیت: جامعہ اسلامیہ فیض عام،مؤ ناتھ بھنجن ۱۳۷۷ھ۔۱۳۸۰ھ مطابق: ۱۹۵۷ء۔۱۹۶۰ء
فراغت: جامعہ اثریہ دار الحدیث،مؤ ناتھ بھنجن ۱۹۶۱ء۔۱۳۸۰ھ
عربی و فارسی بورڈ اترپردیش کی ڈگریاں:
مولوی: ۱۹۵۹ ؁ء
عالم: ۱۹۶۰ ؁ء
فاضل: ۱۹۶۲ ؁ء
جامعہ ازہر مصر کے لئے روانگی ۱۹۶۳ ؁ء:
ایم،اے جامعہ ازہر مصر ۱۹۶۶ ؁ء
ایم ،فل علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ۱۹۷۲ ؁ء
ڈاکٹریٹ (پی،ایچ،ڈی) علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ۱۹۷۵ ؁ء
مقالہ عنوان: تخریج أحادیث بھجۃ المجالس لابن عبد البرجلد۲
زیرِ نگرانی: پروفیسر مختار الدین آرزو صاحب
تدریسی مصروفیات:
۱۔ جامعہ اسلامیہ فیض عام،مؤ ناتھ بھنجن دو سال
۲۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ(عربی ادب کی تدریس) ایک سال
۳۔ جامعہ سلفیہ(مرکزی دار العلوم )بنارس ۱۹۶۸ء تا ۲۰۰۹ء ،۴۲؍سال
مشہور اساتذۂ کرام:
(۱) مولانا عبد المعید بنارسی (۲) مولانا حبیب الرحمٰن فیضی (۳) مولانا عبد اللہ شائق مؤی (۴) مولانا عظیم اللہ صاحب مؤی (۵) مولانا شمس الحق سلفی (۶) مولانا محمد الاعظمی (۷) مولانا عبد الرحمٰن بن شیخ الحدیث عبید اللہ مبارکپوری (۸) ڈاکٹر شوقی ضیف (۹) ڈاکٹر علی عبد الواحد وافی (۱۰) مولانا عبد العلی بن شیخ عبد اللہ مؤی۔
تالیفات و تراجم:
(۱) تالیف (اردو)
(۱) تاریخ ادب عربی ۵؍ حصے مطبوع
(۲) خاتون اسلام ؍؍
(۳) مسلم نوجوان اور اسلامی تربیت مطبوع
(۴) عصر حاضر میں مسلمانوں کو سائنس و ٹکنالوجی کی ضرورت ؍؍
(۵) قرآن کریم پر غور و تدبر مذہبی فریضہ ہے ؍؍
(۶) رمضان اور عید الفطر تربیتی نقطۂ نظر سے ؍؍
(۷) ہندوستان میں تحریک اہلحدیث اور جدید تقاضے ؍؍
(۸)شاہ عبد العزیز بن عبد الرحمٰن آل سعود اور مملکت توحید سعودی عرب ؍؍
(۹) مسلمان اور اسلامی ثقافت غیر مطبوع
(۱۰) ہم کیا پڑھیں ؍؍
(۱۱) اسلام اور انسانی سماج مطبوع
(عربی)
(۱۲) منصور الفقیہ حیاتہ و شعرہ غیر مطبوع
(۱۳) نظرۃ الی مواقف المسلمین من احداث الخلیج مطبوع
(۱۴) مشکلۃ المسجد البابری فی ضوء التاریخ والکتابات المعاصرۃ ؍؍
(۱۵)حقیقۃ الأدب ووظیفتہ ؍؍
(۱۶) قراءۃ فی کتاب ’’الحالۃ الخلقےۃ للعالم الاسلامی ‘‘ للأستاذ اسرار عالم ؍؍
(۱۷) القادیانےۃ غیر مطبوع
(۲) تراجم اردو فارسی سے عربی تراجم:
(۱) قضایا کتابۃ التاریخ الاسلامی وحلولھا(از:ڈاکٹر یاسین مظہر صدیقی) مطبوع
(۲) رحمۃ للعالمین(از: علامہ قاضی محمد سلیمان منصور پوری) ؍؍
(۳) الاسلام تشکیل جدید للحضارۃ(از:شیخ محمد تقی الامینی) ؍؍
(۴) بین الانسان الطبیعی والانسان الصناعی(از: شیخ محمد تقی الامینی) ؍؍
(۵) عصر الالحاد خلفیتہ التاریخےۃ و بدایتہ نھایتہ(از: شیخ تقی الامینی) مطبوع
(۶) النظام الالھی للرقی والانحطاط(از: محمد اسماعیل سلفی گوجرانوالہ) مطبوع
(۷) حرکۃ الانطلاق الفکری و جھود الشاہ ولی اللہ(از: محمد اسماعیل گوجرانوالہ) ؍؍
(۸) مسئلۃ حیاۃ النبی ﷺ (از:محمد اسماعیل سلفی گوجرانوالہ) ؍؍
(۹) زیارۃ القبور(از: محمد اسماعیل سلفی گوجرانوالہ) ؍؍
(۱۰) النصرانےۃ الحاضرۃ فی ضوء التاریخ والبحث العلمی(از: علامہ مصلح الدین اعظمی) ؍؍
(۱۱) حجےۃ الحدیث النبوی الشریف(از: محمد اسماعیل سلفی گوجرانوالہ) ؍؍
(۱۲) قرۃ العینین فی تفضیل الشیخین(از:شاہ ولی اللہ محدث دہلوی) ؍؍
(۱۳) الاکسیر فی أصول التفسیر(از:نواب صدیق حسن خاں قنوجی) ؍؍
(۱۴) جماعۃ المجاھدین(از:غلام رسول مہر) ؍؍
(۳)عربی سے اردو
(۱) راہ حق کے تقاضے از:علامہ ابن تیمیہ ترجمہ مختصر اقتضاء الصراط المستقیم
(۲) مختصر زاد المعاد از:محمد بن عبد الوہاب ترجمہ مختصر زاد المعاد فی ھدی خیر العباد
(۳) اصلاح المساجد از:محمد جمال الدین قاسمی ترجمہ اصلاح المساجد من البدع والعوائد
(۴) آپ بیتی از:عباس محمود العقاد ترجمہ أنا
(۵) عظمت رفتہ از:عبد الحلیم عویس ترجمہ سقوط ثلاثین دولۃ
(۶) رسالت کے سایے میں از:عبد الحلیم عویس ترجمہ فی ظلال الرسول ﷺ
(۷) خادم حر مین شریفین کا حقیقت افروز بیان ترجمہ کلمات منتقاۃ من خادم الحرمین الشریفین
(۸) اسلامی شریعت میں اعضاء کی پیوند کاری عرب مشائخ کے مقالات کا ترجمہ
(۴) تحقیقات و تعلیقات:
(۱) فتح المنان بتسھیل الاتقان علامہ سیوطی کی مشہور کتاب الاتقان کی تلخیص ہے
(۲) حصول المأ مول من علم الأصول نواب صدیق حسن خاں کی کتاب ہے اس پر تعلیق و حاشیہ ہے
(۳) أزمۃ الخلیج فی میزان الشرع والعقل عرب مشائخ کے مقالات کا مجموعہ ہے

مقالات کی تعداد:
صوت الجامعۃ(عربی) و صوت الامۃ میں شائع ہو نے والے مقالات کی تعداد ۳۵۸ ؍عربی
مجلۃ ’’المنار‘‘میں شائع ہو نے والے مقالات کی تعداد ۲۲؍عربی
صوت الجامعۃ (اردو) و محدث میں شائع ہو نے والے مقالات کی تعداد ۲۰۰؍اردو
۱۹۶۳ ؁ء سے ۱۹۷۲ ؁ء کے درمیان مختلف رسائل و جرائد میں شائع ہو نے والے مقالات و مضامین کی تعداد ۱۵؍اردو
مجلہ ’’افکار عالیہ‘‘ جامعہ عالیہ عربیہ مؤ سے شائع ہو نے والے مقالات و مضامین کی تعداد ۱۱؍اردو
کانفرنس و سیمینار:
ملک و بیرون ملک کانفرنس و سیمینار میں پیش کئے گئے مقالات کی تعداد ۴۰ ہے۔
تقدیم و تعارف:
(۱) مطبوعات ادارۃ البحوث الاسلامےۃ جامعہ سلفیہ بنارس
اردو مطبوعات پر تقدیم کی تعداد ۹۰
عربی مطبوعات پر تقدیم کی تعداد ۶۰
اس کے علاوہ ہندی اور انگریزی زبان کی کتب پر تقدیم کی تعداد ۸ ہے۔
(۲) ملک کے مختلف حصوں کے علماء کرام کی کتب پر تقدیم و تعارف کی تعداد ۲۸ ہے۔
(۳) تقدیم و تاثرات مطبوعات مکتبہ الفہیم مؤ ناتھ بھنجن کی تعداد ۱۰ ہے۔
(۴) تقدیم و تاثرات بر کتب مولانا عبد المبین منظر،تعداد ۷ ہے۔
مختلف اوقات میں اعزازات و مناصب:
(۱) رکن علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ
(۲) رکن مسلم پر سنل لا بورڈ
(۳) رکن مرکزی جمعیت اہلحدیث ہند
(۴) رکن عالمی رابطہ ادب اسلامی
(۵) رکن جمعےۃ المشقفین للتوعےۃ الاسلامےۃ
(۶) رکن رابطہ العالم اسلامی مکہ مکرمہ (مساجد بورڈ)
(۷) رکن دینی تعلیمی کونسل اتر پردیش
(۸) وکیل الجامعۃ السلفےۃ(مرکزی دار العلوم)بنارس ۲۰۰۶ ؁ء تک
(۹) مدیر ادارۃ البحوث الاسلامےۃ با لجامعۃ السلفےۃ ۲۰۰۶ ؁ء
(۱۰) صدر جامعہ سلفیہ (مرکزی دار العلوم)بنارس
(۱۱) سر پرست مجلس ندائے وقت مؤ ناتھ بھنجن
(۱۲) رکن تعلیمی کمیٹی،جامعہ محمدیہ،مالیگاؤں
(۱۳) رکن ادارہ اصلا ح المساجد،بمبئی
چند اہم اسفار:
(۱) سعود یہ عربیہ (۲) کویت (۳) متحدہ عرب امارات (۴) قطر (۵) بحرین (۶) قاہرہ (۷) انڈونیشیا (۸) پاکستان (۹) امریکہ (۱۰) لندن
ایوارڈز:
(۱) صدر جمہوریہ ہند ایوارڈ ۱۹۹۳ ؁ء
(۲) پریوائی ایوارڈ ۲۰۰۲ ؁ء
وفات: یومِ جمعہ بتاریخ ۱۰؍ذی قعدہ ۱۴۳۰ ؁ھ مطابق ۳۰؍ اکتوبر ۲۰۰۹ ؁ء صبح ۵؍بج کر ۱۶؍منٹ پر۔
تدفین : آبائی قبرستان،مؤ ناتھ بھنجن،بعد نماز مغرب۔
رحمہ اللہ رحمۃ واسعۃ

تہجّد اور تراویح دونوں ایک ہیں jul-sep 2010

تحقیق و تنقید
ظہر الدین سلفی
تہجّد اور تراویح دونوں ایک ہیں
نماز تہجد فرائض پنجگانہ کے بعد بڑی اہم نماز ہے جو تہائی رات میں ادا کی جاتی ہے اور اس کی گیارہ رکعات ہیں جن میں آٹھ رکعتیں ہیں دو،دو سلام سے ادا کی جاتی ہیں اور آخر میں تین رکعتیں وتر کی پڑھی جاتی ہیں اور یہی نماز رمضان میں تراویح سے موسوم کی گئی ہے۔
(۱) ہم سے عبد اللہ بن یوسف تینسی نے بیان کیا کہا کہ ہمیں امام مالکؒ نے خبر دی انہیں ابن شہاب زہری نے انہیں عروہ بن زبیر نے انہیں ام المومنین حضرت عائشہؓ نے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک رات مسجد میں نماز پڑھی۔صحابہ نے بھی آپ کے ساتھ یہ نماز پڑھی۔دوسری رات بھی آپ نے یہ نماز پڑھی تو نمازیوں کی تعداد بہت بڑھ گئی۔تیسری یا چوتھی رات تو پورا اجتماع ہی ہو گیا تھا لیکن نبی کریم ﷺ اس رات نماز پڑھانے تشریف نہیں لائے ۔صبح کے وقت آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم لوگ زیادہ تعداد میں جمع ہو گئے تھے میں نے اسے دیکھا لیکن مجھے باہر آنے سے یہ خیال مانع رہا کہ کہیں تم پر یہ نماز فرض نہ ہو جائے یہ رمضان کا واقعہ تھا۔(بخاری)
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ آپ ﷺ نے چند راتوں میں رمضان کی نفل نماز صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم کو جماعت سے پڑھائی بعد میں اس خیال سے کہ کہیں یہ نمازفرض کر دی جائے آپ ﷺ نے جماعت کا اہتمام ترک کر دیا۔اس سے رمضان شریف میں نماز تراویح با جماعت کی مشروعیات ثابت ہو ئی۔آپ ﷺ نے یہ نفل نماز گیارہ رکعات پڑھائی تھیں جیسا کہ حضرت عائشہ کا بیان ہے۔
چنانچہ علامہ شوکانی فرماتے ہیں:’’رمضان کی اس نماز میں آنحضرت ﷺ سے جو عدد صحیح سند کے ساتھ ثابت ہے وہ یہ کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ روایت کرتی ہیں کہ آپ ﷺنے رمضان اور غیر رمضان میں اس نماز کو گیارہ رکعات سے زیادہ ادا نہیں فرمایا اور مسند ابن حبان میں بسند صحیح مزید وضاحت یہ موجود ہے کہ آپ ﷺ نے آٹھ رکعتیں پڑھائیں پھر تین وتر پڑھائے۔
پس ثابت ہوا کہ آپ ﷺ نے صحابہ کرام کو رمضان میں تراویح با جماعت گیارہ رکعات پڑھائی تھیں اور تراویح و تہجد میں یہی عدد مسنون ہیں۔
۲۔ ’’حدثنا مسدد قال ثنا یحیےٰ عن شعبۃ قال حدثنی ابو جمرۃ عن ابن عباس قال کان صلوۃ النبی ﷺ ثلاث عشرۃ یعنی با للیل‘‘ (بخاری)
ہم سے مسدد نے بیان کیا کہا کہ ہم سے یحیےٰ ابن سعید قطان نے بیان کیا ان سے شعبہ نے کہا کہ مجھ سے ابو جمرہ نے بیان کیا اور ان سے ابن عباس نے کہ نبی کریم ﷺ کی رات کی نماز تیرہ رکعات ہوتی تھی۔(۸ تہجد اور ۵ وتر)
۳۔ ’’حدثنا اسحاق قال ثنا عبید اللہ قال اخبرنا اسرائیل عن ابی حصین عن یحیےٰ بن وثاب عن مسروق قال سالت سبع و تسع واحدیٰ عشرۃ سویٰ رکعتی‘‘۔
ہم سے اسحاق بن راہویہ نے بیان کیا کہا کہ ہم سے عبید اللہ بن موسیٰ نے بیان کیا کہا کہ ہمیں اسرائیل نے خبر دی انہیں ابوحصین عثمان بن عاصم نے انہیں یحیےٰ بن وثاب نے انہیں مسروق بن اجدع نے آپ ﷺ نے کہا کہ میں نے عائشہ سے نبی کریم ﷺ کی رات کی نماز کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ آپ ﷺ سات نو اور گیارہ تک رکعتیں پڑھتے تھے فجر کی سنت اس کے سوا ہو تی،رات کی نماز سے مراد غیر رمضان میں نماز تہجد اور رمضان میں نمازتراویح مراد ہے ۔
۴۔ حدثنا عبید اللہ بن موسیٰ قال اخبرنا حنظلۃ عن القاسم بن محمد عن عائشۃ رضی اللہ عنہما قالت کان النبی ﷺ یصلی من اللیل ثلث عشرۃ رکعۃ منھا الوتررکعتا الفجر‘‘۔
ہم سے عبید اللہ بن موسیٰ نے بیان کیا کہا کہ ہمیں حنظلہ بن ابی سفیان نے خبر دی انہیں قاسم بن محمد نے اور انہیں حضرت عائشہ نے آپ ﷺ نے بتلایا نبی کریم ﷺ رات میں تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے وتر اور فجر کی دو سنت رکعتیں اسی میں ہو تیں۔
خلاصہ یہ کہ وتر سمیت یعنی دس رکعتیں تہجد کی دو دو کر کے پڑھتے پھر ایک رکعت پڑھ کر سب کو طاق کر لیتے،یہ گیارہ تہجد اور وتر کی تھیں اور دو فجر کی سنتیں ملا کر تیرہ رکعتیں ہوئیں کیونکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں ہے کہ آپ رمضان یا غیر رمضان میں کبھی گیارہ رکعتوںں سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے،جن روایات میں آپ ﷺ کا بیس رکعات پڑھنے کا مذکور ہے وہ سب ضعیف اور ناقابل احتجاج ہیں۔
۵۔ ہم سے عبد اللہ بن تینسی نے بیان کیا ،کہا کہ ہمیں امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی ،انہیں سعید بن ابو سعید المقبری نے ،انہیں ابو سلمہ بن عبد الرحمٰن نے خبر دی کہ حضرت عائشہ رضیا للہ عنھاسے انہوں نے پوچھا کہ نبی ﷺ رمضان میں رات کو کتنی رکعتیں پڑھتے تھے۔آپ نے جواب دیا کہ رسو ل اللہ ﷺ (رات میں ) گیارہ رکعتوں زیادہ نہیں پڑھتے تھے خواہ رمضان کا مہینہ ہو تا یا کوئی اور۔پہلے آپ ﷺ چار رکعت پڑھتے ان کی خوبی اور لمبائی کا کیا پوچھنا پھر آپ چار رکعت اور پڑھتے ان کی خوبی اور لمبائی کا کیا پوچھنا پھر تین رکعتیں پڑھتے،عائشہ نے فرمایا کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ وتر پڑھنے سے پہلے ہی سو جاتے ہیں؟اس پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ عائشہ میری آنکھیں سوتی ہیں لیکن میرا دل نہیں سوتا۔ ان ہی گیارہ رکعتوں کو تراویح قرار دیا گیا ہے۔آنحضرت ﷺ سے رمضان اور غیر رمضان میں بروایات صحیحہ یہی گیارہ رکعات ثابت ہیں،رمضان شریف میں یہ نماز تراویح کے نام سے موسوم ہو ئیں اور غیر رمضان میں تہجدکے نام سے پکاری گئی۔
پس سنت نبوی صرف آٹھ رکعات تراویح اور تین رکعات وتر اس طرح کل گیارہ رکعات ادا کر نی ثابت ہیں چنانچہ ذیل کی حدیث سے بھی پتہ چلتا ہے۔
’’عن جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال بنا رسول اللہ ﷺ فی رمضان ثمان رکعات والوتر‘‘۔ علامہ ابن نصر مروزی حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم کو رمضان میں آٹھ رکعتیں تراویح اور وتر پڑھا دیا(یعنی گیارہ رکعات)نیز حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث رسول ﷺ ’’ماکان یزید فی رمضان ولا فی غیر علی احدی عشر رکعۃ ‘‘ رمضان اور غیر رمضان میں گیارہ رکعات سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے۔
بعض لوگوں کو اس سے غلط فہمی ہو گئی ہے کہ یہ تہجد کے بارے میں ہے تراویح کے بارے میں نہیں ،لہٰذا معلوم ہو کہ رسول اللہ ﷺ نے رمضان میں تراویح اور تہجد الگ دو نمازیں قائم نہیں کیں وہی قیام رمضان (تراویح) بالفاظ دیگر تہجد گیارہ رکعت پڑھتے اور قیام رمضان (تراویح)کو حدیث میں قیام اللیل (تہجد) بھی فرمایا ہے’’انی خشیت ان یکتب علیکم الصلوۃ اللیل‘‘ رمضان میں رسول اللہ ﷺ نے صحابہ رضون اللہ علیھم کو تراویح پڑھا کر فرمایا ’’مجھ کو خوف ہوا کہ تم پر صلوۃ اللیل (تہجد) فرض نہ ہو جائے،دیکھئے آپ ﷺ نے تراویح کو تہجد فرمایا۔اس سے معلوم ہوا کہ رمضان میں قیام رمضان (تراویح)اور صلوۃ اللیل (تہجد)ایک ہی نماز ہیں۔
تراویح اور تہجد دونوں ایک ہیں:
حضرت ابوذر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہم نے رمضان کے روزے رکھے آپ ﷺ نے ہم کو آخر ہفتہ میں تین طاق راتوں میں تراویح اس ترتیب سے پڑھائیں کہ پہلی رات کو اول وقت میں دوسری رات کو نصف شب میں،پھر نصف بقیہ میں سوال ہوا کہ اور نمازپڑھائیے آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو امام کے ساتھ نماز ادا کرے اس کی پوری رات کا قیام ہو گا پھر تیسری رات کو آخری شب میں اپنی اہل بیت کو جمع کر کے سب لوگوں کی جمعیت میں تراویح پڑھائیں۔یہاں تک کہ ہم ڈرے کہ جماعت ہی میں سحری کا وقت نہ چلا جائے ۔اس حدیث کو ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور بخاری شریف میں یہ حدیث مختصر الفاظ میں کئی جگہ وارد ہو ئی ہے۔
اس سے معلوم ہو ا کہ آپ ﷺ نے اسی ایک نماز تراویح کو رات کے تین حصوں میں پڑھایا ہے اور اس تراویح کا وقت بعد عشاء کے آخری رات تک اپنے فعل (اسوۂ حسنہ) سے بتا دیا جس میں تہجد کا وقت آگیا ۔پس فعل رسول ﷺ سے ثابت ہو گیا کہ بعد عشاء کے آخری رات تک ایک ہی نماز ہے۔
نیز اس کی تائید حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اس قول سے ہوتی ہے جو آپ نے فرمایا ’’والتی تنامون عنہا افضل من التی تقومون ‘‘یہ تراویح پچھلی شب میں کہ جس میں تم سو تے ہو پڑھنا بہتر ہے اول وقت پڑھنے سے۔
معلوم ہوا کہ نماز تراویح و تہجد ایک ہی ہیں،نیز اسی حدیث پر امام بخاری علیہ الرحمہ نے یہ باب باندھاہے کہ’’باب فضل من قیام رمضان‘‘اور امام بیہقی رحمہ اللہ نے حدیث مذکور پر یوں باب منعقد کیا ہے ’’باب ماروی فی عدد رکعات القیام فی شھر رمضان‘‘ اور اسی طرح امام محمد شاگرد امام اعظم نے ’’بابقیام رمضان‘‘ کے تحت میں حدیث مذکور کو نقل کیا ہے ان سب بزرگوں کی مراد بھی حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا سے تراویح ہی ہے اور اول تار سے آخری رات تک ایک ہی نماز ہے۔
اب رہا ان تینعں راتوں میں کتنی رکعتیں پڑھائی تھیں ،تو عرض ہے کہ وتر کے علاوہ آٹھ رکعتیں ہی پڑھائی تھیں۔

jul-sep 2010ما سو نیت۔ایک مختصر تعارف

عالمی تحریکات سراج الدین عبد الواحد سنابلی
ما سو نیت۔ایک مختصر تعارف
(ناصر بن عبد اللہ القفاری و ناصر بن عبد الکریم العقل)


ماسو نیت ایک یہودی تحریک ہے جو یہودیوں کے عظیم مقاصد پورا کر نے کے لئے خفیہ طور پر تگ و دو کرتی ہے اور حکومت اسرائیل کے قیام کی راہ ہموار کرتی ہے۔اس تنظیم کے بانیوں کے جانب دیکھنے سے معلوم ہو تا ہے کہ یہ ایک نمایاں اور اچھی تحریک ہے (جب کہ حقیقت اس کے بر عکس ہے) لوگ کلمۂ ماسو نیت سے دھوکے کھا جاتے ہیں۔ اس تحریک کے بانیوں میں سے ایک کا نام انگریزی زبان میں Free Mason ہے اس وجہ سے اس تحریک کو ماسو نیت کا نام دیا جا تا ہے جس کے متعلق لوگوں کا خیال ہے کہ وہ ہیکل سلیمانی کی تعمیر کرے گا اور جس کی تعمیر دنیا کے کلیدی مقامات پر سطوت و قبضہ کی علامت ہو گی۔
ما سو نیت کی علامت و شعار: ماسو نیت پوشیدہ اور درپردہ یہودی مقاصد کو پورا کرتی ہے۔اور دھوکے پر مبنی شعار و علامت (آزادی،بھائی چار گی،مساوات) ظاہر کرتی ہے۔
(۱) شعار آزادی:
اس سے ان لوگوں کا مقصد یہودیت کے علاوہ دیگر تمام ادیان کے مابین سردجنگ برپا کرنا(اور ان کے درمیان)فتنہ و فساد اور بد نظمی کی فضا کو عام کر نا ہے۔
(۲) شعار اخوت و بھائی چار گی:
اس سے ان کا مقصد یہ ہے کہ یہود کے تعلق سے تمام اقوام و ملل کے اندر حد درجہ کی کراہیت پائی جاتی ہے، اس کے اندر کسی طریقہ سے کمی لائی جائے۔

(۳)شعار مساوات:
اس سے ان کا مقصد سیاسی اور معاشی بد نظمی کو ہوا دینا اور کمیو نزم وسوشلزم کی ترویج و اشاعت ہے اور لوگوں کی عزت و آبرو و اموال پر ڈاکے ڈالنا ہے۔
ماسو نیت کی حقیقت: تمام محققین و مصنفین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ماسو نیت اپنے اصل و ابتدا،تنظیم کار و اسلوب ،اہداف و مقاصد کے لحاظ سے ایک یہودی تنظیم ہے۔ اس حقیقت سے انکار بعض سادہ لوح انسان اور بعض فریب خوردہ ہی کرتے ہیں جو اپنی نسبت اس تحریک کی طرف کرتے ہیں۔درج ذیل سطور سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ ماسو نیت ایک خفیہ یہودی تحریک ہے۔
اول:ماسو نیت کے رسم و رواج،عادات و تقالید زیادہ تر یہودیت کی تعلیمات پر مبنی ہیں اور اشارۃً و صراحۃً ان تعلیمات کی ترویج و اشاعت کرتے ہیں۔
دوم: یہود اپنی کتابوں اور رسالوں میں اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ ماسو نیت ایک یہودی تحریک ہے، جو ہمارے مقاصد کے حصول کی خاطر تگ و دو کرتی ہے اور یہ ہمارے لئے باعث فخر ہے۔ماسونی پروٹوکولاٹ میں یہ بات مذکور ہے کہ اطراف عالم میں ماسونی جماعت جو موجود ہے انتہائی رازداری سے اپنے مشن میں لگے ہوئے ہیں اور یہ ہمارے مقاصد کے لئے بطور ڈھال ہے۔ اور یہ بات بھی مذکور ہے کہ ماسو نیت کی تنظیمی بنیاد جس کو کہ دوسرے اقوام و ملل کے خنازیر نہیں سمجھ سکتے، وہ اپنے مقاصد کے حصول میں کبھی بھی تذبذب میں شاید مبتلا نہیں ہو تے،ہم نے ان کو اپنی جماعت کے ایک ایسے دھڑے میں ڈال دیا ہے جو کہ ان کی نگاہوں میں سوائے ماسو نیت کے اور کچھ نہیں، تا کہ ہم ان کے ساتھیوں کی آنکھوں میں دھول جھونک سکیں۔
ماسو نیت کی ابتداء: تاریخی لحاظ سے ماسو نیت کی ابتدا کے بارے میں تمام مؤرخین کا اختلاف پایا جاتا ہے۔اختلاف کی وجہ یہ ہے کہ یہودیوں کے مصالح و اغراض ،اقوام،ملل اور زمانے کے اختلاف کی نسبت سے ماسو نیت کے نام اور طریقہ کار تبدیل ہو تے ہیں اور قوم الگ الگ شکل اختیار کرتی رہی ہے، تاکہ یہودیوں کے اہداف و اغراض کی خاطر ہو سکے۔
حقیقت یہ ہے کہ ماسو نیت اپنی پوری تاریخ کے اندر نشیط اور سر گرم رہی ہے اور پوشیدہ طور پر خدمت انجام دیتی رہی ہے ،یہی وجہ ہے کہ قطعی طور پر اس کی ابتدا کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا ہے ،لیکن زیادہ تر محققین کی رائے یہی ہے کہ اس کی ابتداء پہلی صدی عیسوی یعنی تقریباً ۴۳ عیسوی میں ہو ئی ہے۔
بانئی تحریک: یہود کے بڑے زعماع و لیڈروں نے اس کی بنیاد رکھی اور ان میں سر فہرست بادشاہ ہیر ڈوس دوم ہے ،جس کا مقصد نصرانیت کی ترقی کو روکنا تھا ،جو اس وقت پروان چڑھ رہی تھی اور لوگ اس کو تیزی کے ساتھ اپنا رہے تھے۔ اس وقت ماسو نیت (القوۃ الخفےۃ)خفیہ تحریک کے نام سے موسوم تھی ۔اور اپنی تمام کاوشوں و طاقتوں کو نصرانیت کے خلاف استعمال کر رہی تھی اور اس کے ماننے والوں کو شہر بدر کر نے میں لگی ہوئی تھی ۔قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اس نے دینِ جدید (نصرانیت)کے عقائد و احکام کو بگاڑ نے اور اس کی بنیادوں کو ہلا دینے میں کوئی کسر باقی نہ رکھی۔
ماسونی سر گرمیاں تاریخ کے آئینہ میں: جیسا کہ ہم اس سے پہلے بیان کر چکے ہیں کہ ماسو نیت کی ابتداء پہلی صدی عیسوی میں ہوئی اور اس وقت ماسونیت خفیہ تحریک(القوۃ الخفےۃ) کے نام سے موسوم تھی جس کا اہم مقصد نصرانیت کو مٹانا اور اس کے متبعین و پیروکاروں کو ہلاک و برباد کر نا تھا۔
اس سلسلے میں اس نے تمام وسائل و ذرائع کو استعمال کیا اور اپنے مقصد میں بڑی حد تک کامیاب رہی ۔اناجیل محرف ہوئیں،عیسیٰ علیہ السلام کے ماننے والوں کو حبس و تعذیب کا نشانہ بننا پڑا۔ یہ سب کچھ مکمل چوتھی صدی عیسوی کی ابتدا تک ہوتا رہا۔پھر اس تحریک کے حقائق تاریخ سے روپوش رہے، لیکن اس کی سرگرمیاں پوشیدہ طور پر جاری رہیں۔اسلام کے ابتدائی ادوار میں ماسونیت کی کوئی معروف شکل نہیں تھی جیسا کہ ہم آج دیکھ رہے ہین۔لیکن اس کے کچھ علامات و آثار یہودیوں کی سر گرمیوں میں نمایاں تھے، جس کی روشن مثال عبد اللہ بن سبا ہے جس نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ریشہ دوانیاں کیں،اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو الوہیت کے درجہ تک پہونچا دیا۔اسی طرح بیان بن سمعان نے بھی معتزلہ اور جہمیہ کے باطل افکار و خیالات کو اسلام سے جوڑنے کی ناپاک کو شش کی،اور اس کے ساتھ ہی یہودیوں نے وحی ،نبوت اور تقدیر کے تعلق سے شکوک و شبہات کی بیج بونی شروع کر دی۔پھر ماسونیت کے آثار اس وقت ظاہر ہوئے جب ان فرقوں اور تحریکوں میں تیزی آئی، جو یہودی افکار و خیالات پر مبنی تھے۔
جیسے فاطمیہ،اسماعیلیہ و باطنیہ وغیرہ۔پھر ماسو نیت بعد کی صدیوں میں اپنے اصلی روپ میں ظاہر ہو ئی ،جب مسلمان دینی لحاظ سے کمزور اور دین کا سودا کر چکے تھے۔ساتھ ہی ساتھ دنیا بھی ان کے ہاتھ سے نکل چکی تھی اور مسلمانوں کے علاوہ اغیار اسباب مادی پر قابض ہو گئے تھے۔انہیں ظروف و حالات میں جدید ماسونیت ۱۷۷۰ ؁ء میں ظاہر ہوئی اس وقت سے یہود نے جدید ماسونیت کو اپنے کام میں لگایا اور اس کے لئے مختلف اسالیب و افکار کو اپنانے کی دعوت دی جن افکار سے یہودی نظریات کی نمائندگی ہو تی تھی۔
ماسونیت کے اقسام: یہودیوں کے اہداف کے مطابق ماسونیت کی تین قسمیں ہیں۔
(۱) عام علامتی ماسونیت: یہ رمزی ماسونیت ظاہر کرتی ہے کہ اخوت و بھائی چارگی کے جانب دعوت دینے والی جمعیت ہے، ان کے یہاں مختلف قسم کے درجات پائے جاتے ہیں سب سے بلند درجہ (۳۳)ہے جو مختلف دقیق و پیچیدہ مراسم و امتحانات طے کر نے کے بعد حاصل ہو تا ہے۔اس ماسونیت کا شعار تین سروں والا رمزی سانپ ہے یہ ماسونیت ہمہ وقت یہ کوشش کرتی ہے کہ دنیا کی بڑی شخصیات اس کی کمیٹی میں داخل ہوں ،تاکے ان کے واسطے اپنے مقاصد اچھی طرح پورا کر سکیں۔
(۲)ملکی ماسونیت: یہ ماسونیت (رمزیہ) کی ایک شاخ ہے جو توریت کے تعلق سے اپنی محبت کا اظہار کرتی ہے اور خالص یہودیوں کے درمیان کام کرتی ہے اور بالواسطہ طور پر اسرائیلی حکومت کے قیام اور ہیکل سلیمانی کی تعمیر میں سر گرم ہے۔
(۳)سرخ ماسونیت: اس سے مراد وہ خالص و بلند پائے لوگ ہیں جن کا عظیم مقصد عالمی پیمانے پر افرا تفری اور الحاد ولادینیت کی ترویج و اشاعت ہے، تاکہ ان فرقہ وارانہ فسادات کے ذریعہ اسرائیلی حکومت کے قیام میں مدد ملے ماسونیت کی یہ قسم امریکہ کے اندر پائی جاتی ہے، جس میں یہود کے برے لوگ ہیں۔
عصر حاضر میں ماسونیت کے احداف و مقاصد:
(۱) عالمی سیکولر جمہوریتوں کا قیام: یہ جمہوریتیں یہود کے ماتحت ہوں گی تاکہ جب اسرائیل حکومت کے قیام کا وقت آئے تو ان جمہوریتوں کا بآسانی خاتمہ کیا جا سکے۔
(۲) یہودیت کے علاوہ تمام ادیان میں جنگ برپا کرنا: الحاد پر مبنی حکومتوں کی ہمت افزائی ان کا اہم مشغلہ ہے اور تمام ادیان میں جنگ برپا کرنے سے ان کا مقصود اسلام اور نصرانیت ہے، ان دونوں ادیان کے علاوہ کی وہ سرے سے کوئی پرواہ نہیں کرتے۔
(۳) بنیادی مقصد: حکومت اسرائیل کا قیام ان کا عظیم مقصد ہے اور یہودیوں میں سے ایسے شخص کو بادشاہ بنانا جو داؤد علیہ السلام کی نسل سے ہو۔اللہ اور مسلمانوں کی دینی و اجتماعی بیداری نے ان کو ان کے مقاصد میں کامیابی کا موقع نہ دیا۔یہاں تک کہ جذبۂ جہاد سے سرشار مسلمانوں نے ان کو جزیرۃعرب سے بڑی بے دردی اور ذلت و رسوائی کے ساتھ نکالا۔
ماسونیت کے وسائل اور منصوبے:
ماسونیت کے اہم وسائل برملا جس کا اظہار اس نے اپنی محفلوں و مجلسوں کے اندر کیا ہے اور جن پر آج وہ گامزن ہے درج ذیل ہیں:
(۱) بے حیائی ،منشیات،شراب کے اڈے قائم کر نا،وسائل نشر اور ذرائع ابلاغ کا غلط استعمال کر نا،موسیقی اور ہیلتھ کلب اور بیر بار کے ذریعہ نوجوانوں کو بے حیائی اور لہو و لعب و شہوت پرستی کی طرف دعوت دینا اور پوری دنیا میں نوجوانوں کی ایسی کھیپ تیار کر نا جو یہود کے نصب العین کا پاس و لحاظ رکھتے ہوں، اور مصالح یہود کی تکمیل میں سعی پیہم کرتے ہوں۔
(۲) سیاسی جماعتوں میں داخل ہو کر دنیائے سیاست کو اپنی مصلحتوں کے مطابق بنانا تاکہ تمام لوگ ان کے قوانین کو تسلیم کریں اور اعتراض کی جرأت و ہمت نہ کریں۔
(۳)پوری دنیا میں اخلاقی بے رہ روی کو عام کرنے اور خاندانی اور عائلی نظام کو جلد از جلد ختم کر نے کے لئے ان جمعیتوں و جماعتوں کی ہمت افزائی کر نا جو حریت کی جانب دعوت دیتی ہیں۔
(۴) عالمی،معاشی نظام کو صفحۂ ہستی سے مٹا نے والی جمعیتوں و جماعتوں کی بھر پور حمایت و ہمت افزائی کرنا۔
(۵) بڑے بڑے سیاستدانوں ،وزیروں،تاجروں،صحافیوں،اور کرسی کے خواہاں حضرات کو زیادہ سے زیادہ تعداد میں ماسونیت کے اندر داخل کر نا تاکہ ان کے ذریعہ ماسونی سرگرمیوں میں تیزی لائی جائے ،اور ان مفکرین و ادباء جن کے فکر میں پختگی نہیں پائی جاتی ہے ان کو جمعیت ماسونی میں داخل کیا جائے ۔ماسونیت میں داخل ہو نے کے بعد ماسونی افکار و نظریات کا پاس و لحاظ کر نا اور ان کو ماننا ضروری ہے، اگر کوئی ان افکار و خیالات کو تسلیم نہیں کرتا ہے تو اسے مختلف تکالیف و پریشانیوں کا سامنا کر نا پڑتا ہے، اور جان و مال دونوں سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے، اور ماسونیت کے افکار و اسرار و بواطن سے لوگوں کو آگاہ کرنے والوں کے لئے ایسی سزائیں ہیں جو اسے چھٹی کا دودھ یاد دلاتی ہیں۔ ان تمام قوانین و ضوابط کے باوجود ماسونیت کی حقیقت لوگوں پر ظاہر ہو گئی اور لوگوں کو معلوم ہو گیا کہ ماسونیت ایک تخریبی اور فسادی تنظیم ہے۔ جب اٹلی میں ایک جلسہ ہوا، جو ایک طویل مدت سے لوگوں کو اپنے دامن فریب میں لے رکھا تھا۔ماسونیت سے منسلک لوگوں نے بھی بہت ساری کتابیں لکھیں اور ماسونیت کے حقیقت حال سے لوگوں کو واقف کیا اور ان کے اسرار و رموز سے لوگوں کو با خبر کیا۔
جمعیات ماسونیت:
(۱) Bnai Birthنصرانی تاریخ کے مطابق اس جمعیت کی تاسیس ۱۸۳۴ ؁ء میں امریکہ میں ہوئی۔اس جمعیت کی ظاہری سرگرمیوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک خیراتی و رفاہی جمعیت ہے جب کہ حقیقت اس کے برعکس ہے اس کا عظیم مقصد مقہور و مظلوم یہودیوں کی خدمت کر نا ہے اور اخلاقیات و نظامِ الہٰی کا خاتمہ ہے اور یہ جمعیت عالمی ماسونیت کی ایک شاخ ہے۔
(۲) Lion International Clubs: اس جمعیت کا مرکز امریکہ میں ہے، جس کا تعلق Bnai Birthسے ہے اور اس کے ایجنٹ پوری دنیا میں پائے جاتے ہیں ۔
(۳) Rotarty Clubs: اس جمعیت کی تاسیس بول ہارس کے ذریعہ ۱۹۰۵ میں شیکاگو میں ہوئی ا ور اس کی شاخیں پورے عالم میں موجود ہیں ۔یہ جمعیت ظاہری طور پر رحمت معلوم ہوتی ہے، جب کہ باطنی طور پر عذاب کا گہوارہ ہے اور لوگوں کو دھو کہ میں مبتلا کر نا اور مصالح یہود کو برؤے کار لانا چاہتی ہے۔

نو مولود کے کان میں اذان و اقامت jul-sep 2010

تنقیحات
محمد نفیس محمد اسماعیل
متعلم:جامعہ سراج العلوم ،بونڈ یہار

نو مولود کے کان میں اذان و اقامت
قارئین کرام:اسلام دین رحمت ہے، اس کی تعلیمات نہایت سادہ آسان اور واضح ہیں،جس میں نہ کسی طرح کی پیچیدگی ہے، نہ کسی طرح کا غموض ،بلکہ اسلام کے تعلق سے ہمیں کیا کر نا ہے اور نہیں کر نا ہے۔ اس کو اسلام نے صاف و شفاف لفظوں میں لوگوں کے سامنے مکمل طور سے بیان کردیا ہے اور اس میں نہ کسی کمی یا بیشی کی گنجائش ہے اور نہ کسی کو اس بات کا حق ہی حاصل ہے۔ذیل کے سطور میں امت مسلمہ کے ایک مشہور عمل ’’نومولود کے کان میں اذان و اقامت کی شرعی حیثیت‘‘نذر قرطاس کی جا رہی ہے اللہ ہم تمام مسلمانوں کو اس کو سمجھنے کی توفیق دے۔
(۱) ’’عن حسین بن علی قال:قال رسول اللہ ﷺ من ولد لہ مولود فاذن فی اذنہ الیمنی و اقام فی اذنہ الیسری لم تضرہ ام الصبیان‘‘۔
ترجمہ:جس کے یہاں کسی بچہ کی ولادت ہو ئی اور اس نے اس بچہ کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہی تو اس بچہ کو ام الصبیان ،جنیہ،بھتنی،الوہوا کو ئی بھی بیماری نقصان نہیں پہونچا سکتی ہے۔ اس کی تخریج امام بیہقی و غیرہ نے یحیےٰ بن العلاء الرازی عن مروان بن سالم عن طلحہ بن عبد اللہ العقیلی عن الحسن کے طریق سے کی ہے۔
اس میں مندرجہ ذیل علتیں ہیں:
(۱) یحیےٰ بن العلاء البجلی ابو سلمہ یقال ابو عمر و الرازی رحمہ اللہ کذاب ووضاع ہیں۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے کہا ہے:’’کذاب،یضع الحدیث‘‘(تھذیب التھذیب ۱۱؍۲۲۹۔۲۳،میزان الاعتدال ۴؍۲۹۸)۔
(۲) مروان بن سالم ابو عبد اللہ الشافعی الجزری الغفاری متروک ہیں۔
امام بخاری و مسلم رحمھما اللہ نے منکر الحدیث فرمایا ہے۔(تھذیب التھذیب ۱۰؍۸۴۔۸۵،میزان الاعتدال ۴؍۹۰) امام بیہقی رحمہ اللہ (شعب الایمان ۲؍۳۸۹) نے اس کی سند کو ضعیف اور علامہ البانی رحمہ اللہ نے موضوع گردانا ہے۔(الاروا ۴؍۴۰۰ سلسلۃ الاحادیث الضعیفہ ۱؍۴۹۳ ضعیف الجامع ۵۸۹۳) نیز اصول اسی کے بھی متقاضی ہیں۔
(۲) ابو رافع مولیٰ رسول اللہﷺ کی حدیث جس کو ابو داؤد،ترمذی،بیہقی اور عبد الرزاق نے ’’عن سفیان الثوری حدثنی عاصم بن عبید اللہ عن عبید اللہ بن رافع عن ابیہ قال:’’رأیت رسول اللہ اذن فی اذن الحسن بن علی ولدتہ فاطمۃ بالصلوٰۃ‘‘روایت کیا ہے۔
ترجمہ: ابو رافع نے کہا میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ جب حسن بن علی کی والدہ نے ان کو جنم دیا ،تو حسن بن علی کے کان میں نبی ﷺ نے اذان دی۔
اس میں ایک راوی ہیں’’عاصم بن عبید اللہ بن عمر بن الخطاب العدوی المدنی جو متفق علیہ ضعیف ہیں۔(تھذیب التھذیب ۵؍۴۲۔۴۳،میزان الاعتدال ۲؍۳۵۳)۔
امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس کو حسن صحیح کہا ہے جو غیر مناسب ہے۔ امام ابن تیمیہ اور امام ابن القیم رحمھما اللہ نے اس پر سکوت اختیار کیا ہے،صاحب تحفہ رحمہ اللہ نے اس کو ضعیف گردانا ہے،شیخ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ بھی اسے ضعیف ہی کہتے ہیں۔(الکلم الطیب ۱۶۲،تحفہ المودود ۱۶ اروا ء ۴؍۴۰۰)۔
(۳) حدیث ابن عباس ۔اس کو امام بیہقی رحمہ اللہ نے ’’عن محمد بن یونس نا الحسن بن عمرو بن یوسف السدوسی ثنا القاسم بن مطیب عن منصور بن صفیہ عن ابی معبد عن ابن عباس ان النبی ﷺ اذن فی اذن الحسن بن علی یوم ولد فاذن فی اذنہ الیمنی و اقام فی اذنہ الیسری‘‘روایت کیا ہے۔
ترجمہ:ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے جب حسن بن علی کی پیدائش ہو ئی، تو ان کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہی۔
۱۔ محمد بن یونس بن موسیٰ بن سلیمان ابو العباس الکدیمی ’’کذاب‘‘ہیں۔ (تھذیب التھذیب ۹؍۴۷۵۔۴۷۷،میزان الاعتدال ۷۴۳۴۔۷۵)۔
۲۔ حسن بن عمرو سیف البصری السدوسی یہ بھی کذاب ہیں ،جیسا کہ امام بخاری وغیرہ نے فرمایا ہے۔(تھذیب التھذیب ۲؍۲۶۸،میزان الاعتدال ۱؍۵۱۶)
۳۔ القاسم بن مطیب العجلی البصری ،امام ابن حبان رحمہ اللہ نے کہا ہے:’’کان یخطی کثیرا فا ستحق الترک‘‘ کثرت خطا کی وجہ سے یہ متروک ٹھہرے۔(یہذیب التہذیب ۸؍۳۰۲،میزان الاعتدال ۳؍۳۸۰) یہ روایت بھی موضوع ہے، کیو نکہ شاہد بننے سے عاری ہے ،خود امام بیہقی رحمہ اللہ نے اسے ضعیف کہا ہے۔
(۴) حدیث عمربن عبد العزیز: اس کو عبد الرزاق نے ’’عن ابن ابی یحییٰ عن عبد اللہ بن ابی بکر ان عمر بن عبد العزیزکان اذا ولد لہ ولد اخذہ کما ہو فی خرقتہ فاذن فی اذنہ الیمنی و اقام فی اذنہ الیسری و سماہ مکانہ‘‘۔
عبد اللہ بن ابی بکر نے عمر بن عبد العزیز سے روایت کیا ہے کہ جب ان کے یہاں کوئی بچہ پیدا ہو تا، تو اس کے دائیں کان میں اذان دیتے اور بائیں کان میں اقامت کہتے اور اسی وقت اس کا نام رکھتے۔
اسکے نقائص یہ ہیں(۱) ابن ابی یحییٰ: اسمہ ابراہیم بن محمد بن ابی یحییٰ الاسلمی المدنی رحمہ اللہ ، یہ کذاب اور متروک ہیں۔(تہذیب التہذیب ۱؛۱۳۷؛میزان الاعتدال ۱؛۵۷ ۵۷ )
ٍ (۲) عبد اللہ بن ابی بکر بن زید بن مہاجر رحمہ اللہ :۔
علی بن المدینی رحمہ اللہ نے مجہول کہا ہے ،امام بن حبان رحمہ اللہ نے ان کو ثقات میں ذکر کیا ہے۔ ( تہذیب التہذیب ۵؛۴۳،میزان الاعتدال ۲؛۳۹۸) عمر بن عبد العزیز کا یہ عمل موضوع ہے اور اس کو گڑھ کر ان کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔
احتیاطی تدبیر:۔ ولادت کا وقت نو مولود کے لئے بہت ہی پُر خطر،تکلیف دہ اور پریشان کُن ہو تا ہے، اس لئے کہ ایک طرف ایک نئی دنیا نظر میں ہو تی ہے اور دوسری طرف شیطان رجیم کے کچوکے لگانے کا سلسلہ ہو تا ہے، جس سے بچہ عاجز آکر چیختا اور چلاتا ہے، اس پریشانی سے بچہ کو بچانے کے لئے کسی ایسے حربے کی ضرورت ہے جو شیطان رجیم کے لئے شہاب ثاقب کا کمال رکھتا ہو، جیسا کہ حدیث میں ہے کہ جب شیطان اذان سنتا ہے تو ہوا خارج کر تے ہوئے راہ فرار اختیار کر تا ہے اور اس وقت تک واپس نہیں آتا ہے جب تک اذان ختم نہ ہو جائے اس لئے احتیاطاً نومولود کے کان میں اذان دی جا سکتی ہے۔
(۱) یہ بات قطعی طور سے درست نہیں ہے کیونکہ حدیث میں اس اذان سے شیطان کے بھاگنے کا ذکر ہے جو نماز کے لئے کہی جاتی ہے’’اذا نودی للصلوۃ ادبر ا شیطان ولہ ضراط لا یسمع التاذین‘‘(بخاری ۶۰۸) اور دیگر مواقع سے جو متعلق ہیں وہ ثابت نہیں ہیں۔
(۲) دوسری بات یہ ہے کہ یہ تدبیر یہاں کار گر نہیں اس لئے کہ صحیح حدیث میں ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام ان کی والدہ کے علاوہ شیطان سب کو کچوکہ لگاتا ہے۔(تفصیل کے لئے ملاحظہ کیجئے ترجمان اکتوبر ۱۔۱۵ ۲۰۰۹ ؁ء ۔ خلاصہ کلام یہ کہ نومولود کے کان میں اذان و اقامت کے جواز میں جس طرح کے بھی نصوص ملتے ہیں، وہ سب کے سب نا قابل استدلال ا ور نا قابل حجت ہیں اس لئے اس عمل کو رواج دینا کسی بھی لحاظ سے درست اور صحیح نہیں ہے ۔
اللہ تعالیٰ ہمیں سنتِ رسول کے عین مطابق زندگی گزارنے کی توفیق ارزانی فرمائے۔(آمین)

جسمانی بنیاد jul-sep 2010

طب و صحت 
ڈاکٹر ایم این بیگ
جسمانی بنیاد
یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ دنیا کی تمام کوششیں اور تربیت اچھا دماغ نہیں بنا سکتیں، جب تک کہ جسم کی طرف پوری توجہ نہیں دی جائے۔ دماغ کو اپنا کام کرنے کے لئے بدن کی رگوں، پھٹوں اور دیگر اعضاء کے استعمال کی ضرورت ہوتی ہے،یہ تمام اعضاء،دماغ کے اوزار ہیں،اگر اوزار ہی خراب ہوں، تو لازمی طور پر نتیجہ اچھا نہیں نکلے گا۔
قوت ارادی بسا اوقات صرف جسمانی کمزوری کی وجہ سے کمزور ہو جاتی ہے،کئی بار صفت بصارت توجہ کو مرکوز نہ کرسکنے کا باعث ہوئی ہے،اس لئے یہ نہایت ضروری ہے کہ ہم جسم کی بھی اسی طرح پرورش کریں ،جیسے کہ دماغ کی تربیت کرتے ہیں۔ مناسب خوراک،کافی اور گہری نیند،اور کافی توانا بدن عموما توانا دماغ رکھنے کے لوازمات میں سے ہیں۔
اگر با قاعدگی سے،صبح بیدار ہو کر،چند منٹوں کے لئے ورزش کی جائے تو اس سے جسم اور دماغ پر بہت اچھا اثر مرتب ہو تا ہے۔ صبح کی ورزش اگر با قاعدگی سے کی جائے تو اس سے دماغ کی بھی تربیت ہو تی ہے،مثلا: قوت ارادی مضبوط ہو جائے گی۔
کئی دفعہ صبح کے وقت بستر میں رہنے کو جی چاہتا ہے۔لیکن ہر بار جب آپ اپنی اس خواہش پر غلبہ پالیں گے، تو آپ کی قوت ارادی مضبوط ہو جائے گی اور سب سے زیادہ اہم بات تو یہ ہے کہ آپ اپنی دماغی تربیت کے لئے ضروری جسمانی بنیادتیار کر رہے ہوں گے۔
غرور: اگر کوئی مشین خراب ہو جائے تو عقل سلیم کا تقاضہ یہ ہو تا ہے کہ معائنہ کر کے اس جگہ کی شناخت کی جائے جہاں نقص واقع ہوا ہے۔ عقل سلیم کا یہ بھی تقاضہ ہے کہ مشین کا معائنہ کسی ماہر شخص سے کرایا جائے۔ لیکن کس قدر حیرت کا مقام ہے کہ بہت کم لوگ،اپنے دماغ کی نازک مشین کے متعلق عقل سلیم کا یہ مشورہ قبول کرتے ہیں۔
*چڑچڑاپن*ضد*تذبذب
اور اسی طرح کی دیگر علامات،دماغی مشین کے عارضی نقص کو ظاہر کرتی ہیں۔ دس میں سے نو واقعات میں یہ تکلیف کسی خیال یا بہت سے خیالات کی وجہ سے پیدا ہو تی ہے جو زنگ کی طرح دماغ کے پہیوں کے چلنے سے روکتی ہے۔ایسے مواقع پر دماغ کی اندرونی حالات پر غور کر نا چاہئے،اس سے غم اور مسرت کا فرق معلوم ہو جاتا ہے۔ کبھی کبھی لیکن زیادہ دیر تک نہیں،اپنے آپ کی تحلیل کی جائے تو بہت فائدہ ہو تا ہے۔
غرور: اس زنگ کی طرح ہے جو مشین میں جم جاتا ہے ۔غرور کی وجہ سے اپنی کمزوریوں کا اعتراف نہیں کیا جا سکتا۔نتیجہ یہ ہو تا ہے کہ آپ سوچتے رہتے ہیں اور مفروضہ غلطیاں صحیح و جود اختیار کر لیتی ہیں،اور دنیا کو مخصوص رنگ کے شیشوں والی عینک سے دیکھنے لگتے ہیں۔اس طرح آپ خود کو اور دوسروں کو تکلیف میں مبتلا کر دیتے ہیں۔
مضبوط اعصاب والے شخص کی یہ خصوصیت ہو تی ہے کہ وہ اپنی غلطی کا اعتراف بے باکی سے کر لیتا ہے،اس کے دل میں سب کے لئے عزت ہو تی ہے وہ صرف ایک لفظ سے غلط فہمی دور کر دیتا ہے ۔ اگر آپ کسی تکلیف میں مبتلا ہوں اور دنیا آپ کو تاریک نظر آنے لگے تو سوچئے کہ قصور تمہارا ہی تو نہیں،اس لئے جرأت سے کام لے کر اعتراف کر لینا چاہئے۔
ذھانت: بعض افراد یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ذہانت سے کیا مراد ہے؟ اور ذہین آدمی کی کونسی خصوصیت اسے دوسرے آدمی سے ممتاز کرتی ہے؟ جواب دینا آسان نہیں،کیونکہ ذہانت کی ہےئت ترکیبی سے متعلق آراء کا اختلاف ہے۔ میرے خیال میں تو ذہانت کسی خاص کام میں قابلیت سے علیحدہ ہے۔میرے خیال میں ذہانت اس قوت کا نام ہے جس سے آدمی اپنے آپ کو اپنی فضا کے عین مطابق بنا لیتا ہے،ذہین آدمی کی اور بھی خصوصیات ہیں وہ نہ تو جلد باز ہو تا ہے اور نہ غیر مستقل مزاج،وہ کام کر نے سے پہلے سوچتا ہے،اور فیصلہ کرنے کے بعد ارادہ کر لیتا ہے اور پھر اس ارادے کو عزم و استقلال سے پورا کر تا ہے۔ ذہانت مشق سے پیدا کی جا سکتی ہے۔
میرا آخری مشورہ یہی ہے کہ ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچئے خوب سوچئے اور سوچ سمجھ کر حتی الامکان صحیح فیصلہ کیجئے یہی ذہانت کا تقاضہ بھی ہے۔
*****