شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب کی دعوت اہل انصاف کی نظر میں apr-jun 2011 - دو ماهي ترجمان السنة

Latest

تعداد زائرين

BANNER 728X90

Thursday, April 28, 2011

شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب کی دعوت اہل انصاف کی نظر میں apr-jun 2011

مولانا عبد الوہاب حجازی
استاذ: جامعہ سلفیہ ،بنارس

شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب کی دعوت
اہل انصاف کی نظر میں
سچ سچ پوچھئے تو شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ (۱۱۱۵ھ؍۱۲۰۶ھ۔۱۷۰۳م ؍ ۱۷۹۲م )کی دعوت خالص اور ٹھیٹھ توحید کی دعوت ہے، جو انہوں نے خاتم الانبیاء والرسل حضرت محمد مصطفی ﷺ کی اتباع میں اپنے دور میں لوگوں کے سامنے پیش کی،رسول اللہ ﷺ نے اسی توحید کی دعوت سے بنو اسماعیل اور ان کے بنو اعمام سارے عربوں کو صد ہا بتوں کی پرستش اور انتشار سے ایک بول یعنی ’’لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ‘‘پر اکٹھا کر دیا تھا اور یہی توحید آپ کے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے بیٹوں موسی و عیسی علیہما السلام اور سارے ہی انبیاء و رسل کا مشن تھا،اللہ کی آخری کتاب قرآن مجید اس کی شاہد عدل ہے،حضرت محمد ﷺ کے انتقال کے بعد عرب کے مختلف علاقوں کے بعض قبائل میں ارتداد کی جب لہر اٹھی اور بڑا طوفان بن گیا،تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی قیادت میں اسی توحید اور اتباع رسول ﷺ کی آواز پر سارا جزیرۂ عرب ایک ہو گیا،اور ایمان کی ایسی باد بہاری چلی کہ دور و نزدیک کی بے شمار قوموں نے دین توحید، دینِ اسلام کو گلے لگا لیا،لیکن صدیاں گذرنے کے بعد ’’ہر کمالے رازوال ‘‘کے مصداق توحید خالص اور اتباع رسول ﷺ کی حرارت کیا نکلی کہ مسلمان اپنی اصل پہچان کھو بیٹھے؂
بجھی عشق کی آگ اندھیر ہے
مسلمان نہیں راکھ کا ڈھیر ہے
کا منظر سارا عالم پیش کر رہا تھا،اور عرب خصوصاً شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ کا علاقہ نجد تو جہالت اور شرک و توہم پرستی کی سخت تاریکیوں میں غرق تھا،ایسے میں حالات کا سخت تقاضا تھا کہ توحید خالص اور اتباع رسول ﷺ کی نہایت پر سوز آواز اٹھتی اور اسی پرانے بول ’’لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘پر ارض مقدس جزیرۃ العرب کو انتشار اور ذلت سے نکال کر ایک کر تی اور پھر عالم اسلام کو اس کا بھولا ہوا سبق یاد دلاتی،الحمد للہ وہ پر سوز و پر عزیمت آواز بلند ہوئی اور وہ شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ کی آواز تھی۔
خالص توحید اور اتباع رسول ﷺ کی آواز شیخ الاسلام نے پچاس سال تک حق کی وصیت اور صبر کی وادیوں سے گذر کر جزیرۃ العرب کوایک بول ’’لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘پر اکٹھا کر دیا،دنیائے اسلام کا خاصا بڑا طبقہ اس آواز پر چونکا،اسے اجنبی گر دانا،اسے ’’نیا مذہب،ادعاء نبوت‘‘اور دنیائے سیاست کے کھلاڑیوں کی آواز میں آواز ملا کر ’’وہابی تحریک‘‘کا نام دیا،حالانکہ یہ آواز ان میں سے کچھ بھی نہ تھی، صرف اور صرف توحید خالص اور اتباع رسول کی دعوت تھی۔یہ رویہ در اصل صدیوں کے تخلف اور انحطاط کا نتیجہ تھا،جس نے افکار،تصورات،عقائد اور اعمال میں بھانت بھانت کے رسم و رواج،عادات و تقالید اور فرسو دہ علوم کی تہیں جمار کھی تھیں،بعد کی صدیوں میں اس رویہ میں بڑی لچک پیدا ہوئی اور بے شمار لوگ توحید خالص اور اتباع سنت کے علم بردار بنے اور یہ صدائے دل نواز یورپ اور امریکہ کے ملکوں میں بھی بڑے پیمانے پر پھیلی بلکہ کرۂ ارض کی کوئی قوم شاید ہی اس سے محروم رہی ہو۔شیخ الاسلام کی دعوت کے وقت عالم اسلام کی حالت مختلف پہلوؤں سے کس درجہ خراب تھی،اس کا نقشہ ایک امریکی صاحب قلم لوتھروپ اسٹا ڈرڈ نے اپنی کتاب ’’The New World of Islam‘‘جدید اسلامی دنیا میں اس طرح کھینچا ہے:
’’عالم اسلام سخت ترین کمزوری میں مبتلا تھا اور زوال کی گہرائیوں میں گر چکا تھا، اخلاق و عادات کا فساد عام تھا،توحید خالص پر خرافات اور تصوف غالب آچکا تھا،مسجدیں نمازیوں سے ویران ہو چکی تھیں،علم کے دعوی دار جاہلوں اور درویشوں کی تعداد میں اضافہ ہو گیا تھا،یہ لوگ گردنوں میں تعویذ گنڈے اور تسبیح لٹکا کر دردر گھوم کر لوگوں کو باطل اوہام و شبہات میں گرفتار کر تے تھے،اولیاء کی قبروں کے حج کی رغبت دلاتے اور ان سے شفاعت طلب کر نے کو مزین کرتے،چنانچہ عوام ان کے معتقد ہو کر ان قبر والوں کی پرستش کر نے لگے،قرآن کی تعلیمات لوگوں کے ذہن سے غائب ہو چکی تھیں۔ہر جگہ شراب اور افیون پی جانے لگی تھی،مقامات مقدسہ مکہ و مدینہ بد اعمالیوں کا مرکز بن گئے تھے،فریضۂ حج بدعات کے سبب حقیر ہو کر رہ گیاتھا،گویا اسلام کی جان نکل چکی تھی،اگرمحمد ﷺ اس دور میں آجاتے، تو جس طرح مرتدین اور بت پرستوں پر لعنت کی جاتی ہے اپنے پیروؤں پر لعنت کر تے۔
دنیائے اسلام کے اس تیرہ وتار دور میں اچانک گہوارۂ اسلام جزیرۂ عرب کے صحراء کے قلب سے ایک آواز گونجتی ہے،جو مومنوں کو بیدار کر رہی تھی،انہیں صراط مستقیم کی طرف بلا رہی تھی،اس آواز کو بلند کر نے والے مشہور مصلح شیخ محمد بن عبد الوہاب تھے،اس داعی نے اہل اسلام کو اصلاح نفوس اور قدیم اسلامی شرف اور کھوئے وقار کی باز یابی پر ابھار نا شروع کیا،صبح اصلاح کی کرنیں نمودار ہو گئیں،اور دنیائے اسلام میں بیدارئ کبریٰ کا آغاز ہو گیا‘‘۔ (انگریزی سے عربی ترجمہ ’’حاضر العالم الاسلامی‘‘از عجاج نو یہض،تعلیقات شکیب ارسلان،جزء اول فصل اول بعنوان ’’اسلامی بیداری،ملخص ازمحمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ؍ترجمہ مولانا صفی الرحمٰن مبارکپوری رحمہ اللہ )۔
معروف مستشرق سیڈیو نے اپنی ایک کتاب جس کا ترجمہ عادل زعیتر نے عربی میں ’’تاریخ العرب العام‘‘کے نام سے کیا ہے،لکھا ہے کہ:
محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ جس اصلاح کے قائد کی حیثیت سے نمودار ہوئے، اس کا مقصد اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ رسول اللہ ﷺ کی شریعت خالصہ کو اس کے عہد سابق کی طرف پلٹا دیں،انہوں نے دائرۂ محمدی ﷺ میں رہتے ہوئے اور اپنے کلام میں محمد بن عبد اللہ ﷺ کا عظیم احترام کرتے ہوئے مسلمانوں کے اطوار و کردار کے خلاف جنگ کی ،انہوں نے قبور اولیاء کی تقدیس کے خلاف معرکہ آرائی کی اور اپنے اعوان و انصار کو انہیں ڈھا دینے پر برانگیختہ کیا،اور خصوصی اہتمام سے جس چیز پر توجہ مبذول کی وہ قوم کے اندر روح جہاد کی بیداری تھی،آپ اسلام کی صحیح تعلیمات سے موافقت کی وجہ سے اپنے بنیادی اصولوں کے سلسلہ میں زبردست اثررکھتے تھے ، چناں چہ قبائل نجد تنہا تنہا اور جماعت جماعت آپ کے علم کے نیچے جمع ہو گئے اور محمد بن سعود کی قیادت میں ایک چھوٹا سا لشکر ترتیب دے لیا،پس محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ نے دین محمدی کو ایک نئی رونق بخش دی اور ان خرافات کے تار پود بکھیر دئیے، جو ایک زمانہ سے چلی آ رہی تھیں۔چنانچہ قرآن کو اس کی طرف منسوب کی جانے والی تمام آلود گیوں سے پاک و صاف کر کے جلوہ گر کر دیا،اور وہ نصوص جن پر ائمۂ مسلمین کی طویل و غامض شرحیں چھائی ہوئی تھیں، دیکھتے ہی دیکھتے چند عام فہم سادے اور واضح اصولوں کی طرف پلٹ آئے،اس طرح ابن عبد الوہاب کے اصلاحی منصوبوں کو بڑی اچھی مقبولیت حاصل ہوئی ۔(ملخص از:محمد بن عبد الوہابؒ )۔
معروف مصری ادیب ڈاکٹر طہ حسین کہتے ہیں:
جزیرۃ العرب میں عقلی اورادبی زندگی سے بحث کرنے والے کے لیے ممکن نہیں کہ اس طاقت ور ترین تحریک سے صرف نظر کرے، جو بارہویں صدی کے وسط میں اس جزیرہ کے اندر نمودار ہوئی،جس نے مشرق و مغرب کی جدید دنیا کو اپنی طرف متوجہ کر لیا اور اپنی اہمیت کا اعتراف کرا نے پر مجبور کر دیا اور جس نے جزیرے کے اندر زبردست اثرات پیدا کئے، یہ تحریک کچھ کمزورپڑ رہی تھی؛ لیکن آج کل اس نے پھر طاقت حاصل کر لی ہے، اور اب یہ تنہا جزیرۃ العرب ہی میں ایک موثر طاقت نہیں ہے، بلکہ یورپین اقوام کے ساتھ جزیرۃ العرب کے تعلقات میں بھی اسے موثر حیثیت حاصل ہے ۔محمد بن عبد الوہاب کی یہ دعوت اسلام خالص کی طاقت ور دعوت ہے، جو شرک و بت پرستی کے شائبوں سے پاک و صاف ہے، یہ اسلام کی دعوت ہے، ٹھیک اس طرز پر جسے نبی ﷺ لے کر آئے تھے،خالص اللہ کے واسطے ،اللہ اور لوگوں کے درمیان سے تمام وسائل کو کاٹتے ہوئے یہ عربی اسلام کا احیاء ہے ،اور ان تمام آلودگیوں سے اس کی تطہیر ہے، جو اسے جہالت اور غیر عرب کے ساتھ اختلاط کے نتیجہ میں جا لگی تھیں۔حقیقت یہ ہے کہ محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ نے اہل نجد کو عقیدہ و کردار کی اس جاہلیت سے روکا، جس کی طرف وہ پلٹ کر جاچکے تھے۔اگر ترک اور مصری اس مذہب سے نبرد آزمائی پر تل نہ گئے ہو تے اور خود اس کے علاقہ میں اس کے خلاف ایسی طاقتوں اور ایسے ہتھیاروں سے جنگ نہ چھیڑ دی ہوتی، جس سے اہل بادیہ کو کبھی سابقہ نہ پڑا تھا، تو اس بات کی کافی توقع تھی کہ یہ مذہب بارہویں اور تیرہویں صدی میں عرب کو ایک کلمہ پر متحد کر دیتا ،جس طرح ظہور اسلام نے پہلی صدی میں ان کا کلمہ ایک کر دیا تھا۔
لیکن اس مذہب کی جو چیز خصوصیت سے ہمیں اپنی طرف متوجہ کر رہی ہے ،وہ ہے عقلی اور ادبی زندگی میں عربوں پر اس کا اثر ،حقیقت ہے کہ یہ اثر مختلف پہلوؤں سے انتہائی زبردست اور عظیم ہے،اسی مذہب نے عربی خودی کو بیدار کیا ،اور اس کے سامنے ایک ایسا عالی ترین مقصد پیش کیا جس کا وہ گرویدہ ہو گیا ،اور اس کی راہ میں شمشیر و قلم اور نیزہ و سنان سے جہاد کیا،اور تمام مسلمانوں خصوصاً اہل عراق،اہل شام اور اہل مصر کی عنان توجہ جزیرۃ العرب کی جانب موڑدی۔ (ملخص از: محمد بن عبد الوہابؒ )
ہندوستانی علماء میں سے علامہ محمد بشیر سہسوانی مولف ’’صیانۃ الانسان عن وسوسۃ حلان‘‘ اس دعوت کے متعلق فرماتے ہیں:
یہ بات ہر صاحب عقل کو جس نے لوگوں کی آزمائش کی ہوان کے احوال کا علم حاصل کیا ہو معلوم ہے کہ اہل نجد جنہوں نے شیخ کی دعوت کی اتباع کی ،اور جزیرۃ العرب کے وہ تمام دوسرے لوگ جنہوں نے اسے قبول کیا وہ انتہائی جہالت و گمراہی اور فقر و فاقہ میں مبتلا تھے،اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعوت سے شرک کے شعائر و مقامات مٹادئیے،کفر و شرک کے اڈوں اور عبادت گاہوں کو ڈھ دیا، طاغوتوں اور ملحدوں کو روسیاہ کیا، اور آپ کو جن دیہی اور شہری با شندوں پر غلبہ و تسلط حاصل ہوا ان پر وہ ہدایت و توحید لازم قراردی جسے محمد رسول اللہ ﷺ لائے تھے، اور جن اہل جہالت و جفا نے انکار کیا اور اس میں متشکک و متردد ہوئے ان کی تکفیر کی ،نماز قائم کر نے ،زکاۃ ادا کر نے اور منکرات و نشہ آور اشیاء کو چھوڑ نے کا حکم دیا،دین میں بدعت اختراع کر نے سے منع کیا،اور دین کے اصولی و فروعی مسائل میں گذشتہ اسلاف کی اتباع کی ہدایت کی ، یہاں تک کہ اللہ کا دین ظاہر و غالب ہو گیا، آپ کی دعوت سے شریعت و سنن کی شاہراہ واضح ہو گئی،’’امر بالمعروف و نہی عن المنکر‘‘ کا نظم قائم ہو گیا، شرعی حدود نافذ ہو گئیں،دینی تعزیرات جاری ہو گئیں ،جہاد کا علم بلند ہو گیا اور اعلاء کلمۃ اللہ کے لیے اہل شرک و اہل فساد سے رزم آرائی شروع ہوگئی،یہاں تک کہ آپ کی دعوت پھیل گئی ،اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے ذریعہ ٹوٹے ہوئے دلوں کو پھر جوڑ دیا،عداوتیں الفت سے بدل گئیں اور اللہ کے فضل سے لوگ بھائی بھائی ہو گئے ،پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو اس کی برکت سے ایسی نصرت،عزت اور غلبہ عطا کیا ،جس کی کوئی نظیر صحرائی اور پہاڑی باشندوں میں نہیں پائی جاتی ،اللہ نے ان کو احساء اور قطیف کی فتح عطا کی اور انہوں نے عمان سے عقبہ مصرتک اور یمن سے عراق و شام تک پورے عرب پر تسلط و اقتدار حاصل کر لیا،اور ان کے سامنے سارے عرب اور نجد کو وہ عزت،نصرت اور اقبال تنور حاصل ہوا ،جس پر وہ بجا طور سے فخر کر نے کا حق دار بن گیا۔ (ملخص از:محمد بن عبد الوہابؒ )
شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ کی دعوت سے متعلق یہ چند غیر مسلم اور مسلم اہل علم و قلم کے تاثرات ہیں جن سے اس دعوت کی حقیقت اور اس کی پذیرائی و ہمہ گیری کا اندازہ کیا جا سکتا ہے ،اس پیغام حق پر دو صدیوں سے زائد کا عرصہ گذر رہا ہے،اس دوران یہ دعوت کچھ نشیب و فراز سے بھی گذری، لیکن محمد ین نے اس سلفی دعوت کو برپا کر نے کے لیے دو صدی پیشتر جو تاریخی معاہدہ کیا تھا اس کے ابناء و احفاد نے اس کی پاسداری کر تے ہوئے اس کی چنگاریاں ہمیشہ روشن رکھیں،اس دعوت کی راہ میں بے پناہ جانی و مالی قربانیاں پیش کیں ،سرزمین مقدس شرک اور فسق و فجور کی سیاہیوں سے آخر پاک ہو کر رہی اور توحید خالص اور اتباع سنتِ رسول ﷺ کی فضل بہار خیمہ زن ہو کر رہی،اور اللہ نے آسمان و زمین سے امت مسلمہ اور عام انسانیت کے لیے برکتوں کے دہانے کھول دئیے،چودھویں صدی ہجری اور بیسویں صدی عیسوی سے لے کر اب تک کا دور شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب کی دعوت کا سنہرا دور ہے،اس عرصے میں ملک عبد العزیز آل سعود اور ان کے ابناء اورشیخ الاسلام کی آل کی سیا سی،دینی،علمی و دعوتی قیادت میں سعودی عرب توحید خالص اور سنت رسول ﷺ کی اتباع پر مبنی ایک ترقی یافتہ آئیڈیل اسٹیٹ بن گیا،جہاں سو فیصد لوگ تعلیم یافتہ اور موحدانہ عقیدہ کے حامل ہیں،اور ساتھ ہی دعوت دین کے مخلص اور پر جوش علم بردار بھی،لطف یہ کہ صدیاں گذر نے کے بعد بھی اس دعوت کے دو اساسی نقطوں میں ذرہ برابر فرق نہیں آنے پایا ہے،یعنی عبادت کے نام پر ایک ذرہ بھی غیر اللہ کو نہیں دیا جا سکتا ،حتی کہ اس عقیدہ کی توہین کا بھی پہلو کہیں نکلتا ہو اس کی سختی سے اصلاح کر دینے کا جوش و خروش آج بھی شباب پر ہے،دوسرا نقطہ رسول اللہ ﷺ کی سنت کی پیروی،سلف صالحین ،صحابہ،تابعین اور تبع تابعین کے فہم کی پابندی کے ساتھ۔موجودہ سعودی حکومت شیخ الاسلام کی دعوت کی انہیں دونوں بنیادوں پر نہایت سختی کے ساتھ قائم ہے،عصر حاضر کے حضارت و تمدن اور سائنس و ٹکنالوجی کے اس ترقی یافتہ دور میں اس اسلامی حکومت کا معیار کسی سے کم نہیں ،بلکہ متعدد پہلوؤں سے ممتاز ہے،ساتھ ہی موحدانہ اور داعیانہ اساس پر جو قوم اس نے تیار کی ہے وہ علم،عقل،تہذیب و تمدن،حسن اخلاق ،انسانیت نوازی اور عفت و پاکیزگی میں بے شبہ دنیا کی ہر قوم سے بدر جہا ممتاز ہے۔ہمیں یقین ہے کہ حکومت سعودیہ عربیہ ادام اللہ ظلہا نے نہایت زبردست منصوبہ بندی اور مخلصانہ جدوجہد کے ساتھ اپنے بے شمار حکومتی شعبوں،ملک میں جا بجا قائم عظیم الشان یونیورسٹیوں،کالجوں،بے شمار مکاتب،رفاہی و ترقیاتی اداروں حتی کہ فوج اور سیکورٹی ایجنسیوں کو شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ کی اس دعوت کے ساتھ جس طرح آج مربوط کر رکھا ہے، آئندہ بھی اس اساس پر قائم رہے گی،دنیائے انسانیت کو اس کی سخت ضرورت ہے۔آج دنیا میں بد امنی اور قتل و خوں ریزی کا نا ختم ہو نے والا سیلاب امڈپڑا ہے،صبر اور حزم و تدبر سے ہی اسلامی دعوت اور اس کا قبول عام اس درد کا مداوا بن سکتا ہے۔الحمد للہ موجودہ سعودی حکومت پوری دنیائے اسلام کے لیے خصوصا اور دنیائے انسانیت کے لیے عموما اسلامی تعلیم،اسلامی دعوت اور تعاون کی راہ میں اپنے امکانی وسائل و ذرائع سے بے پناہ جد وجہدصرف کر رہی ہے ،اور اس کے خوش گوار نتائج سارے عالم میں واضح طور پر محسوس کئے جا رہے ہیں،دنیا میں شاید ہی کوئی قوم اور ملک ہو جسے شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ کی دعوت کی گونج سنائی نہ دی ہو اور اس کے فیض سے وہ محروم رہی ہو۔
یہ دعوت در اصل کوئی نئی چیز نہیں جیسا کہ آغاز تحریر میں ہم نے بتا یا ہے،عالم اسلام میں اس کی بنیادوں کو تھا مے ہوئے بے شمار علماء ربانی اور ان کے اصحاب ہر دور میں ملا کئے ہیں،ان کے قول و کردار اور ان کی تحریروں کی یکسانیت و حقانیت اس کی شاہد عدل ہے،لیکن ان بنیادوں پر دعوت کی مکمل عمارت کھڑی کر لے جانا حالات کی ساز گاری اور اللہ تعالیٰ کی عنایات اور مصالح پر منحصر ہے،البتہ یہ ضرور ہے کہ محمدین کا اٹوٹ معاہدہ،دونوں کی آل کا صدیوں پر محیط اتحاد و دعوت اور بے مثال و لازوال کارناموں کی حامل حکومت کا قیام عالم اسلام کے تمام ممالک،ان کے دعاۃ،علماء و عوام کے سامنے خالص توحید و اتباع سنت،اس راہ میں اخلاص و عزیمت ،انتھک اور غیر منقطع جہد مسلسل اور عملی تجربات کی ایک روشن دنیا پیش کر دئے ہیں ،صبر اور قربانیوں کے صلہ میں یہ روشن دنیا کسی کے لیے نا ممکن نہیں ہے۔ وما ذلک علی اللہ بعزیز۔

*****

No comments:

Post a Comment