- دو ماهي ترجمان السنة

Latest

تعداد زائرين

BANNER 728X90

Friday, March 25, 2016


مولانامحمد سلطان رفعت اللہ سعدؔ السلفی 
استاذ : معہد ،رچھا، بریلی
اخلاص 
(علامات، وسائل و فوائد   (۲     
ریاکاری کی علامتیں:حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ریا کاری کی چار علامتیں
علامتیں ہیں : (۱)جب اکیلا ہو تو سستی کا مظاہرہ کرے ۔(۲) جب لوگوں کے ساتھ ہو تو بڑی چستی دکھائے ۔(۳)جب تعریف ہو تو عمل زیادہ کرے ۔ جب مذمت ہو تو عمل میں کمی کرے۔ 
ریا کاری کے درجات : 
پہلا درجہ: مثلاً ایک شخص نماز پڑھ رہا ہے اور اس دوران کچھ لوگ اسے دیکھنے لگتے ہیں تو وہ اپنے خشوع خضوع اور نماز کی تزئین کا اہتمام کرنے لگتا ہے ،تاکہ لوگوں کے نزدیک اس کی عزت ووقار میں اضافہ ہو ۔ یہ تو ظاہر ی ریا ہے ۔ 
دوسرا درجہ :یہ ہے کہ طالب علم شیطان کی پچھلی چال کو سمجھ جاتا ہے اور کسی دیکھنے والی کی کوئی پرواہ نہیں کرتا ،لیکن پھر شیطان اس کا خیر خواہ بن کے آتا ہے اور اس سے کہتا ہے کہ تم لوگوں کے لیے ایک نمونہ، آئیڈیل اور مقتدا ہو ، لو گ تمہاری پیروی کرتے ہیں تمہارے عمل کو دیکھتے ہیں، سو تم خشوع وخضوع کا مظاہرہ کروگے تو لوگ بھی خشوع و خضوع کو اپنا ئیں گے۔شیطان کی یہ چال پہلے سے زیادہ کارگر اور مخفی ہے ۔چو پہلی چال کاشکا ر نہ ہو وہ اس دوسری چال کا شکا ر ہو جاتا ہے ۔حالاں کہ یہ بھی عین ریا اور اخلاص کے منافی ہے ۔کیوں کہ اگر دوسروں کے لیے خشوع اچھی چیز ہے تو اس کے لیے بھی اچھی چیز ہے ۔اگر دوسروں کے لیے اسے خشوع پسند ہے تو اپنے لیے پسند کیوں نہیں کرتے اس کی خلوت خشوع سے کیوں خالی ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ ایسا شخص بھی ریا کار ہے ،جو اپنے ریا کو خیر خواہی کے لباس میں چھپانا چاہتا ہے ۔ ( الفوائد ، ابومحمد امین اللہ البشاوری،۲؍۴۸۴)
تیسرا درجہ:جو پہلے دو درجوں سے زیادہ باریک ہے ،وہ یہ ہے کہ انسان شیطان کی دو چالوں سے خبر دار ہوجائے ،اور اپنی خلوت والی نمازوں کو بھی اچھی طرح ادا کر ے تاکہ جلوت کی اچھی نمازوں پر اسے ریا کا الزام نہ دیا جا سکے ،یہ بھی پوشیدہ ریاکاری ہے ۔ کیوں کہ ا س نے اپنی خلوت کی نمازوں کی اصلاح اس لیے کی ہے کہ اپنی جلوت کی نمازیں خشوع اور خضوع سے پڑھ سکے ۔ گویا دونوں حالتوں میں اس پر لوگوں کی خوشنودی ہی سوار ہے ۔ بے چارہ یہ سمجھتا ہے کہ بڑا مخلص ہوں ۔اخلاص تو یہ ہے کہ لوگوں کی طرف التفات ہی نہ ہو ۔تمام تر توجہ اللہ کی طرف ہو ، لوگوں کا دیکھنا اسے یوں لگے جیسے چوپایوں کا دیکھنا۔کیا کوئی چوپایوں کو دکھانے کے لیے بھی اچھی نمازیں پڑھتا ہے ؟
چو تھا درجہ :یہ ہے کہ شیطان اسے سابقہ تین چالوں میں نہ پھنسا سکے لیکن جب یہ لوگوں کے سامنے نماز پڑھ رہا ہوتو شیطان اس کے دل میں اللہ کی عظمت اور اس کی کبریائی کا احساس اور اوراس کے حضور عاجزی اور انکساری کا جذبہ پیدا کرنے کی کوشش کرے ۔یہ شیطان کا باریک ترین مکر اور 
خفیہ ترین چال ہے ۔ 
انسا ن کو یہ سوچنا چاہیے کہ یہی احساس اس کے دل میں اس وقت کیوں نہیں پیدا ہوتا جب وہ اکیلے نماز پڑھتا ہے ؟
اللہ کی قسم ! سونے کا کھوٹ تلاش کرنا شاید آسان ہو ، لیکن اعمال صالحہ میں ایسے ایسے کھوٹ پیدا ہوجاتے ہیں جنہیں تلاش کرنا انتہائی مشکل ہے ۔ اور جنہیں پہچاننے کے لیے انتہائی دقیق بصیر ت در کار ہوتی ہے ۔ اسی لیے کسی نے کہا ہے : عالم کی دو رکعتیں جاہل کی ایک سال کی نماز سے افضل ہیں ۔ 
یہاں عالم سے مراد عالم ربانی ہے جو اپنے عمل کا نقاد اور بصیرت کا حامل ہو ۔
( واللہ المستعان!)(الاحیاء ۵؍۱۷۷)
ریاکاری کے عملی تجربات : 
۰ایک شخص تراویح کی نماز میں خوب روتا ہے یارونے کی کوشش کرتا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس کی مسجد میں آئیں،اور اس کی شہرت ہو۔ 
۰ایک شخص اپنے آپ کو انتخاب کے لیے پیش کرتا ہے ۔،اور وہ سمجھتا ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کر رہا ہے حالاں کہ اس کی نیت شہرت اور مال کمانے اور اپنے آپ کو آگے لانے کی ہوتی ہے ۔
۰ایک شخص خطبہ اور تقریر کا شوقین ہے اور اگر کسی محفل میں کبار علماء کی موجودگی کی وجہ سے اسے پیچھے رکھا جائے تو غمگین ہوتا ہے، اور دوبارہ اس محفل کا رخ نہیں کرتا ہے ، کیا یہی اخلاص ہے ؟
۰ایک آدمی جہاد و قتال سے وابستہ ہے ، لیکن رزق حرام سے اجتناب نہیں کرتا ہے ، بلکہ جہاد کا مال چراتا ہے ، گویا جہاد اس کا کاروبار بن گیا ہے ، اللہ کی رضامقصود نہیں رہی ، اللہ اور اس کے رسول کی محبت اور اعلاء کلمۃ اللہ جیسے مقاصد ایسے شخص کی نظروں سے اوجھل ہو چکے ہیں ۔ 
۰ہمارے دو ر میں بہت سے لوگ جو نماز تک ٹھیک طور پر نہیں پڑھتے، داڑھی کا نام و نشان نہیں ، اللہ کی راہ میں سو روپئے دینے کے روادار نہیں ،لیکن حج و عمرے پر چل پڑتے ہیں کہ سیرو سیاحت بھی ہوگی اور نام بھی کمائیں گے ، لہذا ان کا نفس بھی حج و عمر ہ کی رغبت رکھتاہے۔ 
۰ایک شخص اس لیے کتابیں لکھتا ہے کہ یہ اس کا شوق اور مشغلہ ہے نہ کہ اس لیے کہ اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کرے۔ 
۰بہت سی اسلامی تنظیموں کی حالت یہ ہے کہ اگر کوئی دوسری تنظیم اللہ کا دین قائم کردے تو ان سے برداشت نہیں ہوتا اور وہ ان کا ساتھ دینے کے بجائے اسلامی حکومت قائم کرنے والوں سے لڑ پڑتے ہیں ۔ حالاں کہ اگر ان کی اساس اخلا ص پر ہوتی تو انہیں اس پر خوش ہونا چاہیے تھا کیوں کہ نفاذِ شریعت تو اصل مقصود ہے ، تنظیم کی حیثیت تو ایک وسیلے کی سی ہے ، لیکن لوگوں نے اس وسیلے کو اصل مقصود بنا لیا ، اور اصل مقصود کو پیٹھ پیچھے پھینک دیئے ہیں اور اسی لیے کفار ان کی گردنوں پر سوار ہو چکے ہیں ۔ العیاذ باللہ !
اخلاص کے منافی امور :
بہت سے امور اخلاص کے منافی ہیں ،خود نمائی کا جذبہ، شہرت پسندی ، دکھلاوا، خودپسندی اور ریا کاری وغیرہ ۔۔۔یہ تمام کے تما م الفاظ اگر چہ جدا جدا ہیں لیکن ان سب کا معنی قریب قریب یا مترادف ہے ۔ ریا کاری نہ صرف عمل کو تباہ اورغارت کرتی ہے ، بلکہ دنیا اور آخرت میں اللہ کی ناراضگی اور عذاب کا باعث بھی ہے ۔ 
بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسان کا مقصد تو اللہ رب العالمین کی رضاو خوشنودی حاصل کرنی ہوتی ہے ،لیکن اس کے ساتھ ساتھ دوسرے مقاصد بھی شامل ہوجاتے ہیں مثلاًروزہ رکھ کر اللہ کی رضامندی حاصل ہوجائے اس کے ساتھ ساتھ اس کا معدہ بھی درست ہو جائے،
حج بیت اللہ کے سفر کے ساتھ اس کا مزاج معتدل ہو جائے ،یا چند دن گھر والوں اور دیگرضروریات سے چھٹکارا اور راحت حاصل کرے ۔ 
اسی طرح علم دین اس ارادے سے حاصل کرنا کہ اس سے جاہ ومال کا حصول ہو،اور اسی طرح دعوت و تبلیغ ، وعظ ونصیحت کے ذریعہ دوسروں پر اپنا دھاک جمانا مقصود ہو ۔ جیسا کہ آج ہمارا معمول بن چکا ہے ۔
اسی طرح بعض حضرات علماء کرام کی عزت و احترام اس لیے کرتے ہیں کہ وہ لوگوں اور علماء کے نزدیک محترم ٹھہریں ، لوگ ان کی تعریف کریں ، وضو اور غسل کے وقت سنت اور
شرعی طہارت کا پہلو غائب او ر ٹھنڈک اور تازگی اور نظافت کا جذبہ نمایا ں ہوتا جا رہا ہے ۔ اعتکاف کے لیے زیاد ہ سہولتوں والی مسجد تلاش کی جاتی ہے ۔ مریض کی عیادت اور جنازے کی پیروی عموماً اس لیے نہیں ہوتی کہ یہ مسلمان کا حق ہے اور اللہ کی رضا جوئی کا ذریعہ ہے بلکہ اس لیے کہ لو گ بھی ہماری عیادت کریں گے اور ہمارے جنازوں میں آئیں گے ۔۔۔جب نیک اعمال میں اس قسم کے جذبے خلط ملط ہو جائیں تو پھر اخلاص اور للٰہیت کہاں باقی رہتی ہے ؟!( الفوائد : ۲؍۴۸۳۔۴۸۴)
وسائل اخلاص:
یوں تو اخلاص پیدا کرنے کے بہت سے وسائل ہیں جن کو عمل میں لانے سے اخلاص کی عظیم صفت پیدا ہوتی ہے ،جن میں سے چندوسائل مندرجہ ذیل ہیں :
۰اللہ پر مضبوط ایمانی قوت:اللہ پر مضبوط ایمانی قوت ایک ایسی چیز ہے جو ریاکاری اور شر ک خفی 
و جلی کو دور بھگا دیتی ہے۔
۰آخر ت پر پختہ ایمان:وسائل اخلاص کا ایک اہم وسیلہ آخرت پر پختہ اور کامل ایمان رکھنا بھی ہے۔ ایک مرد مومن کا آخرت پر ایمان جتنا ہی پختہ ہوگا اتنا ہی اخلاص اس کے اندر پیدا ہوگا۔
جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :(ترجمہ )اے ایمان والو! اپنے صدقات کو احسان جتا کر اور دکھ
دے کر اس شخص کی طرح ضائع نہ کرو جو اپنا مال لوگوں کو دکھانے کے لیے خرچ کرتا ہے ، اور وہ اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان نہیں رکھتا ہے ۔ (البقرۃ: ۲۶۴)
اس آیت کریمہ سے معلوم ہوا کہ جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لے آتا ہے وہ اللہ کے فضل و کرم سے ریاکاری سے محفوظ ہوجاتا ہے اور اس کے اندر اخلاص پیدا ہوجاتا ہے ۔ 
۰اللہ کی عظمت کا احساس:اخلاص کے وسائل میں ایک وسیلہ اپنے اندر اللہ کی عظمت کا احساس پیدا کرنا اور اس کو تن تنہا عبادت و بندگی کے لائق سمجھنا بھی ہے، اس طرح کہ اس کی بڑائی اور کبریائی دل میں اس طرح سما جائے کہ انسان اپنی پیدا ئش سے لے کر موت تک اس کی چو کھٹ پر سر جھکائے رکھنے کو سعادت جانے اور اپنی ہر چیز کو اس پر قربان کردینے کی آرزو رکھے،اپنے دل میں یہ تمنا کرے کہ اگر اس کا دل پہاڑ جیسا بڑا ہو تب بھی اسے اللہ کی محبت سے بھر دے ، اور اگر ممکن ہو تو اللہ کے خوف سے آنسوؤں کی ندیاں بہادے ۔ 
۰لوگوں کی مدح و ثنا اور مذمت و توبیخ کی پر وا ہ نہ کرنا:لوگوں کی مدح و ثنا اور مذمت و توبیخ کی پر وا ہ نہ کرناوسائل اخلاص میں سے ہے ،کیوں کہ اگر لوگ آپ کی تعریف کرتے ہیں لیکن اللہ کے نزدیک آ پ کے اعمال مقبول نہیں تو لوگ آپ کو کیا نفع اور فائدہ دے سکتے ہیں ؟اور اگر اللہ آپ سے راضی اور خوش ہے تو
لو گوں کی برائی اور مذمت آپ کا کیا بگاڑ سکتی ہے ؟
لہٰذالوگوں کو جمادات اور حیوانات کی طرح سمجھتے ہوئے ان کی کوئی پر واہ نہیں کرنی چاہیے ،اور یہ یقین رکھنی چاہیے کہ دنیا اور آخرت، عزت و ذلت اور نفع اور نقصان؛ اگر کسی کے ہاتھ میں ہے تو صرف اور صر ف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔تو غیر وں سے کیا سروکار؟!
۰اس بات پر غور و فکر کرنا کہ کہیں ہمارے اعمال قبولیت اعمال کے شرائط سے خالی تو نہیں؟
اس طرح سوچتے رہنے سے اپنے اعمال پر فخر و غرور اور ریاکاری نہیں کر سکتے بلکہ
ایسی صورت میں شرمندگی کا احساس اور اعمال انجام دینے کے بعد استغفار کا جذبہ پیدا ہوتا رہے گا۔
۰کسی خفیہ کھوٹ کی وجہ سے اعمال کے رد کر دیئے جانے کے بارے میں خوف زدہ رہنا : مومنین کی یہ صفت بیان کی گئی ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے:(ترجمہ) ’’اور جو لوگ اللہ کی راہ میں دیتے ہیں، جو کچھ بھی دیتے ہیں، تو اس طرح؛ کہ ان کے دل خوف زدہ رہتے ہیں کہ 
بے شک وہ اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں ، یہی لوگ بھلائیوں میں جلدی کرتے ہیں ، اور وہ ان میں باہم سبقت کرنے والے ہیں اور ہم کسی نفس کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے ہیں ۔ 
۰اللہ رب العزت کی محبت انسان کے رگ و پے میں اس قدر سرایت کرجائے کہ وہ ہمہ وقت
اپنے محبوب کی رضاجوئی میں لگا رہے:بھلا ایسے شخص کے دل میں کسی اور کا خیال یا ریا کاری
سما سکتی ہے ؟ ہر گز نہیں !جس طرح مشرق و مغرب آپس میں نہیں مل سکتے اسی طرح ایسا شخص ریا کار نہیں ہوسکتا ۔ یہ تو محبوب کی رضاجوئی کے لیے ہر ذلت برداشت کرنے کے لیے تیار رہتا ہے ۔ لوگ اسے برا بھلاکہیں ،گالیا ں دیں ، لیکن اسے کوئی پرواہ نہیں ہوتی ۔اس کی نظر تو اپنے محبوب پر ٹکی رہتی ہے، لوگوں کی گالیوں یا پھولوں سے اسے کیا سروکار ؟؟؟
۰اخلاص کی اہمیت اورخود پسندی کی مذمت کے حوالے سے کتاب و سنت اور سلف صالحین کے اقوال کا مطالعہ:جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے (ترجمہ): اور آپ نصیحت کرتے رہیں ، اس لیے کہ بے شک نصیحت مومنوں کو نفع دیتی ہے ۔ ( الذاریات : ۳۵)
۰مخلصین و صادقین کی صحبت :یہ بھی اللہ کی رحمت سے اخلاص پیداکرنے کا ایک اہم سبب ہے ۔ 
۰مکمل طور پر اپنے دل سے دنیا جہان کی محبت کو نکال پھینکنا:اگر کوئی شخص اپنے دل و دماغ سے دنیا کی محبت کو کلی طور پر نکال دے تو اللہ کی قسم ! اس کے لیے اخلاص کا حصول کوئی مشکل چیز نہیں۔ کیوں کہ دنیا کی محبت ہی ہر بیماری کی جڑ ہے ۔ مال و جاہ کی محبت اور شہرت و ناموری کا جذبہ اسی محبت کی پیدا وار ہے ۔
۰ہمیشہ اپنی اصلاح کی فکر کرنا ، اپنے احوال پر نظر رکھنا ، شیطان اور اپنے نفس کے خلاف جد و جہد کرنا :
اللہ کا ایسے لوگوں کی مدد کرنے کا وعدہ ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے : ’’ اور جو لوگ ہماری را ہ میں جد و جہد کریں ،ہم انہیں اپنی راہیں ضرور دکھاتے ہیں ،اور یقیناًاللہ نیکی کرنے والوں کے ساتھ ہے ۔( العنکبوت : ۲۹)
۰بکثرت اخلا ص کی دعا مانگنا :جیسا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ یہ دعا مانگا کرتے تھے : ’’ اللہم اجعل عملی کلہ صالحاولا تجعل فیہ نصیبا لأ حد غیرک۔ ‘‘ اے اللہ ! میرے ہر عمل کو صالح بنادے اور میرے عمل میں اپنے سوا کسی کا حصہ نہ بنا۔ ‘‘
اس سلسلے میں ان دعاؤں کو بکثرت پڑھتے رہنا چاہیے : 
۱۔ اللہم اعنی علی ذکر ک وشکرک وحسن و عبادتک ۔
۲۔ اللہم ارزقنی الا خلاص فی القول والعمل۔ 
۰اپنے نیک اعما ل کو حتی الامکان برائیوں اور گناہوں کی طرح چھپانا: جیسا کہ حدیث میں آتا ہے : ’’ان اللہ یحب العبدالتقی الغنی الخفی‘‘۔اللہ تعالیٰ اپنے متقی لوگوں سے بے پرواہ اور مخفی رہنے والے بندے سے محبت کرتا ہے ۔ (مسلم )
۰ہر عمل سے پہلے نیت کرنا اور اس سے خالص اللہ کی رضا چاہنا :بلکہ ہر انسان کو چاہیے کہ ہر نیک عمل میں اچھی نیتیں رکھے : فرمانِ نبوی اہے : ’’ہر اعمال کا دارو مدار نیتوں پر ہے ‘‘ (متفق علیہ)
ہر نیک عمل کے لیے نیت ضروری ہے اور اچھی نیتوں کے ذریعہ مباح امور کو بھی نیکیوں میں ڈھالا جاسکتا ہے ۔ مثلاً ایک شخص اس نیت سے کھانا کھاتا ہے کہ اسے طاقت و قوت حاصل ہو ، تاکہ وہ اچھے طریقے سے اللہ کی عبادت کو بجا لائے ۔ ،لوگوں کی خدمت کرے ،یا جہاد میں حصہ لے تواس کا کھانا بھی عبادت بن جاتا ہے ۔ 
اخلاص کے فوائد و برکات ۔
ابو سلیمان الدارمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:جب کوئی بندہ اللہ رب العزت کے لیے خالص ہو جائے تو وہ وسوسوں کی کثرت اور ریا کاری سے چھٹکارا پا لیتا ہے۔ (مدارج السالکین:۲؍۹۶)
جب انسان مخلص ہوجاتا ہے، اس کے دل میں اخلاص اپنی جڑیں مضبوط کر لیتا ہے ،تو اللہ تعالیٰ ایسے مخلص شخص سے وسوسوں اور ریا کاریوں کو ختم فرما دیتا ہے ۔ 
۰یہ قبول اعمال کی اساس ہے ۔
۰اس کے ذریعہ دنیا اور آخرت کے درجات بلند ہوتے ہیں ۔
۰اس سے وسوسے اور وہم دور بھاگتے ہیں 
۰غیر اللہ کی عبودیت سے خلاصی ملتی ہے ۔ 
۰اجتماعی تعلقات مستحکم ہوتے ہیں ۔اور امت کو نصرت الٰہی حاصل ہوتی ہے ۔ 
۰دنیا کے مصائب دو ر ہوتے ہیں ۔
۰دل میں طمانیت اور سعادت کا احساس پیدا ہوتا ہے ۔ 
۰ایمان مضبوط ہوتا ہے اور گناہ و نافرمانی سے نفرت پیدا ہوتی ہے ۔
۰انسا ن کے ارادے مضبوط اور عزیمت پختہ ہوتی ہے ۔
۰دنیا اور آخرت میں کمال درجے کا امن اورراحت نصیب ہوتی ہے ۔
( نضرۃ النعیم : ۳؍۱۴۰)

No comments:

Post a Comment