غائبانہ دعا، تیر بہدف apr-jun 2011 - دو ماهي ترجمان السنة

Latest

تعداد زائرين

BANNER 728X90

Thursday, April 28, 2011

غائبانہ دعا، تیر بہدف apr-jun 2011

ابوعائشہ جمال احمد السلفی
غائبانہ دعا، تیر بہدف
’’عن ابی الدرداء رضی اللہ عنہ ان رسول اللہ ﷺ کان یقول: ’’دعوۃ المرء المسلم لا خیہ بظہر الغیب مستجابۃ، عند راسہ ملک موکل کلما دعا لاخیہ بخیر قال الملک الموکل بہ آمین،ولک بمثل‘‘۔ (رواہ مسلم ج۲ ،کتاب الذکر والدعاء۔۳۵۲)
حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ،رسول اللہ ﷺ فرمایا کر تے تھے کہ: مسلمان کی اپنے (مسلمان) بھائی کے لیے پیٹھ پیچھے دعا قبول ہوتی ہے، اس کے سرہانے ایک فرشتہ مقرر ہے،وہ جب بھی اپنے بھائی کے لیے بھلائی کی دعا کر تا ہے تو اس پر مقرر فرشتہ کہتا ہے آمین( یعنی اے اللہ اس کی دعا قبول فرما) اور تیرے لیے بھی اس کے مثل ہو۔
مذہب اسلام میں دعا ایک عظیم عبادت ہے،اس کی اہمیت و افادیت سے انکار ممکن نہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے دعا کو عین عبادت قرار دیا ہے۔ ایک جگہ آپ ﷺ نے دعا کو عبادت کا مغز بتلایا ہے کیوں نہ ہو ،دعا ایک ایسی عبادت ہے جو تمام عبادتوں میں اپنا حصہ رکھتی ہے۔
دعا مومن کا ہتھیار ہے، اس سے بندۂ مومن اپنے مصائب و مشکلات پر قابو پاتا ہے، جب کہ اس اہم عبادت سے اعراض کر نے والوں کو جہنم کی وعید سنائی گئی ہے۔
ایک مومن خود اپنے لیے بھی دعائیں کر تا ہے اور دوسرے مسلمانوں کی دینی و دنیوی فلاح کے لیے بھی۔ رسول اللہ ﷺ نے بھی ہمیں اسی بات کی تعلیم دی ہے، چنانچہ ایک بار آپ ﷺ کے سامنے ایک شخص صرف اپنے لیے دعا کر رہا تھا اور اس دعا سے دیگر لوگوں کو خارج کر رہا تھا تو آپ ﷺ نے اس پر نکیر کی اور حکم دیا کہ دیگر لوگوں کو بھی اپنی دعا میں شامل کرلے۔ ایسی دعا جو ایک مسلمان کے حق میں غائبانہ طور پر کی جائے ،ضرور قبولیت کے دروازے تک پہونچتی ہے، کیوں کہ اس دعا میں کسی دباؤ،لالچ اور ریا کا دخل نہیں ہوتا اور ہر وہ عبادت جو بے غرض ہوکر انجام دی جائے، اللہ تعالیٰ کو محبوب ہے اور وہ اس کا صلہ بہترین شکل میں عطا کرتا ہے۔
آج بہت سے لوگ اپنے لیے دعامیں کوئی کسر نہیں چھوڑتے ،مگر جب ان کا مسلمان بھائی ان سے دعا کی درخواست کر تا ہے تو وہ صرف ظاہری اور رسمی دعا پر اکتفا کر تے ہیں،جب کہ غیر موجود گی میں کی گئی دعا سے انہیں بھی ثواب ملتا ہے اور دوسرے مسلم بھائی کے مسائل بھی حل ہوتے ہیں۔
اگر کوئی شخص اپنی غائبانہ دعاؤں میں دوسروں کو بھی شریک کر تا ہے تبھی وہ اس بات کا سزاوار ہے کہ دوسرے بھی اپنی دعاؤں میں اسے شامل رکھیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس بات کی توفیق دے کہ ہم اپنی دعاؤں کو محدود نہ رکھیں، تاکہ ہمیں ایک دوسرے کی دعائیں ملتی رہیں۔ آمین۔

No comments:

Post a Comment