- دو ماهي ترجمان السنة

Latest

تعداد زائرين

BANNER 728X90

Tuesday, February 7, 2017

عبد الرؤف عبد الحفیظ السلفی
استاذ :المعہد ،رچھا،بریلی 
نیم مُلاّ خطرۂ ایمان 


عن عمر وبن شعیب عن ابیہ عن جدہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم :’’من تطبب ولم یعلم منہ طب قبل ذلک۔وروی الدارقطنی بلفظ :ولم یکن بالطب معروفاً ، السنن :370 ۔فھو ضامن ۔ [ رواہ ابوداؤد 4586-4587۔وابن ماجہ۔3466۔والنسائی۔483 ۔واللفظ لہ وحسنہ الالبانی۔الصحیحہ :635 ۔المکتبۃ الشاملۃ ]
ترجمہ : عمر و بن شعیب اپنے والد شعیب سے اور شعیب بن محمد اپنے داداحضرت عبد اللہ بن عمروبن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم ا نے ارشاد فر مایا : جس نے کسی کا علاج کیا ، حالاں کہ اس ۔علاج سے ۔ پہلے اس کا طبیب اور معالج ہونا معلوم ومعروف نہیں تھا۔ اور اتفاقاً مریض ہلاک ہو گیا یا کوئی غیر معمولی ضرر لاحق ہوگیا۔ تو وہ معالج ضامن ہوگا ۔(یعنی ہلاکت کی صورت میں دیت اورنقصان کی صورت میں تاوان اس کے ذمہ ہوگا ) 
تشریح : چوں کہ مذہب اسلام ایک صالح اور قابل اعتماد معاشرے کی تشکیل کر تا ہے اس لیے اس نے ایسی تمام باتو ں کا صراحۃً یا اشارۃً حکم دے دیا ہے جن سے صالح معاشرہ تشکیل پا تا ہے اور ایسے سبھی امور پر سختی کے ساتھ قدغن لگایا ہے جن سے معاشرہ کی صالحیت ناقص اور خام رہ جانے کا اور معاشرہ میں بے اعتمادی ، اختلاف وانتشار ، حسد وبغض اور اس قسم کے دیگر خبائث کے پھیلنے کا امکان ہو، اسی نوعیت کے احکام پر مشتمل حدیثوں میں سے ایک ، زیر بحث حدیث بھی ہے ، آیئے دیکھتے ہیں اس سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے ۔ 
8ں حدیث کا منطوق اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ طبابت۔ حکیمی ،ڈاکٹری ۔میں معرفت اور مہارت کے بغیر کسی کا علاج کرنا جائز نہیں ہے ۔
معرفت اور مہارت کا مطلب یہ ہے کہ مفردات ومرکبات کی خاصیات ،امراض کے انواع واقسام ، مریض مرض اور دواؤں کے مزاج اور اس قسم کے دیگر ضروری امور سے بخوبی واقفیت ہو ،اور بقول علا مہ شہیر امیر الصنعانی رحمہ اللہ ’من لہ شیخ معروف، ‘یعنی یہ بھی ضروری ہے کہ وہ کسی معالج، کسی معروف طبیب کے سامنے زانوئے تلمذتہ کر چکا ہو، اس زمانے کے لحاظ سے اس کی، تعبیر’ ڈگری ہو لڈ ر‘سے کی جاسکتی ہے (سبل السلام ۲؍۳۶۳ ، الشاملۃ )آ8ں اگر کوئی ناقص العلم ، اناڑی اور بمحاورۂ عرف عام’ جھولا چھاپ ‘ڈاکٹر کسی مریض کا علاج کر ے اور اتفاقاًکوئی قابل لحاظ وغیر معمولی نقصان لاحق ہو جائے تو ’جناب ‘ خود مستحق’علاج‘ قرارپائیں گے اور تاوان ان کے ذمہ ہوگا ،وصول کردہ فیس وغیرہ ناجائزاور حرام ہوگی ۔ 
8ں حدیث کا مفہوم مخالف اس بات پر دلالت کر تا ہے کہ اگر کسی حاذق طبیب سے۔اور علی ھذٰا القیاس کسی دوسرے پیشہ ورسے۔ اتفاقاً کوئی غیر معمولی نقصان ،یہاں تک کہ جان بھی تلف ہو جائے تب بھی وہ ضامن اور ذمہ دار نہیں ہوگا ۔ 
8ں ایکسیڈنٹ کیسیج میں ڈرائیور پر تاوان یا سزا سے متعلق احکام کے لیے یہ حدیث کافی معاون ہو سکتی ہے ۔ 
ٓٓٓٓٓ8ں حدیث کا مفہوم ‘ مضمون حدیث کا دائرہ ذرا وسیع کردیتا ہے ، چنانچہ یہ حدیث باعتبار مفہوم اس بات پر دلالت کر تی ہے کہ جب تک کو ئی آدمی کسی پیشہ اور فن کا ماہر اور ایک معقول حدتک تجربہ کار بلکہ بہ قول علامہ صنعانی رحمہ اللہ اپنے فن کے لحاظ سے وہ’ڈگری ہولڈر ‘ نہ ہو جائے تب تک اس فن اور پیشہ میں ہاتھ نہیں ڈالنا چاہئے، خاص کر اس وقت جب کیس سیریس اور نازک ہو ۔
ٓٓٓٓٓ8ں عنوان اور حدیث میں ربط : طبیب کی غلطی اورعدم معرفت سے لا حق ہو نے والا ضرر دنیوی ،جسمانی ، جانی اور وقتی ہے جبکہ دینی امور میں ؛ علوم دینیہ سے پیدل ہو نے کے باوجود’’علمیت بگھاڑنے ‘‘سے لاحق ہو نے والا ضرر دینی ، روحانی ، ایمانی اور دائمی ہے ، گویا اول الذکر کے مقابلہ آخر الذکر ضرر زیادہ اہم اور سنگین ہے ۔ پس حدیث زیر بحث میں طبیب نا اہل سے متعلق وارد شدہ احکام اس’’ علمیت بگھاڑنے‘‘ والے پر بطریق اولی ثبت اور چسپا ں ہو ں گے ۔ 
اسے آسان لفظوں میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ جب تک کوئی شخص ایک معقول حد تک علم دین حاصل کر کے اس میں ماہر ، گفت وشنید کا اہل اور بقول صنعانی رحمہ اللہ: ’ لہ شیخ معروف ‘یعنی ’ڈگری ہو لڈر‘ نہ ہو جائے تب تک اسے خواہ مخواہ دینی معاملات میں دخل اندازی کر نے او ر ’ علمیت بگھاڑنے‘ ،’ فتوی بازی ‘ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ، جواس کا پیشہ اور کام ہے ،جس میں اسے مہارت اور تجربہ ہے ، اسی سے منسلک رہ کر لوگوں کو’ فیض ‘ پہونچائے ۔ 
یہ بات کہنے اور اسی کو درس کا سرعنوان بنانے کی ضرورت اس لیے محسوس ہوئی کیونکہ کچھ لاابالی ،سر پھرے اور جہل مرکب میں مبتلا لوگ (معاف کیجئے گا ، لہجے کی یہ ترشی ایک قسم کی ضرورت اور مجبوری ہے کہ محض ملائمت اورشیریں کلامی کے لیے بھیڑ یئے کو بکری کہنا ،جاہل کو عالم کہنا بھی ’ادبی جرم‘ اور عظیم ظلم ہے ) جن کے پاس نہ علم و معرفت ہے ، نہ شیخ اور ڈگری ، نہ کوئی علمی پہچان ، محض چند اردو کتابوں اور رسالوں کے عبارت خواں ہیں ۔ اس کے باوجود نہ صر ف آسان اور عام دینی مسائل میں بلکہ اکثر دفعہ نہایت دقیق ، خالص علمی ،فنی اور نازک ترین مسائل میں بلاتامل ’ زبان درازی ‘ اور بے چارے ورق کی’ روسیاہی ‘اپنا پیدائشی حق سمجھتے ہیں اور نوبت یہاں تک پہونچ چکی ہے کہ ان ’بزرگوں ‘کی انہیں ’بزرگانہ‘ حرکتوں کی وجہ سے امت مرحومہ ایک با ر پھرکئی ٹکڑوں میں بٹنے اور بکھرنے کے لیے تیار سی محسوس ہو رہی ہے ۔اللہ کرے ایسا نہ ہو۔ ضرورت ہے کہ ایسی ’ کج رویوں ‘ کا خاص وعام ہر دو طبقہ کی جانب سے سخت نوٹس لیا جائے ، ان کی ہاں میں ہاں ملا نے ، اور پذیرائی کر نے کے بجائے حو صلہ شکنی اور اعراض سے کام لیا جائے ،ورنہ بہت مشہور مثل ہے :
نیم حکیم خطرۂ جان نیمُ ملّا خطرۂ ایمان 
اللہ تعالیٰ دونوں قسم کے ’نیم‘اور ’خطرہ ‘ سے محفوظ ومامون رکھے۔آمین وصلی اللہ علی النبی الکریم ! 

No comments:

Post a Comment