محبت الٰہی - دو ماهي ترجمان السنة

Latest

تعداد زائرين

BANNER 728X90

Saturday, November 15, 2014

محبت الٰہی

محبت الٰہی
کتاب و سنت کی روشنی میں

محمد سلطان رفعت اللہ سعد ؔ السلفی
استاذ :المعہد ر،چھا ، بریلی

’’محبت الٰہی اور اس کی طرف رغبت وشوق ‘‘؛یہ نوع سب سے افضل ہے بلکہ تمام عبادات اس کے بغیر بے کار اور ضائع ہیں مقابلہ کرنے والوں کو اس میں مقابلہ کرنا چاہیے ،اور متقین کا باہمی تفاوت اسی کی بنا پر ظاہر ہوتا ہے۔(اسی کے حصول کی خاطر محبین اور مخلصین اپنے وجود کو فنا کئے ہوئے ہیں ، اور عقل مند لوگ اپنی ارواح کو اسی نوع میں لگائے ہوئے ہیں ۔)
اللہ کی محبت ، اس کی چاہت اور اس کی جانب قلب وارواح کے جھکنے کے تعلق سے کچھ باتیں ذکر کی جارہی ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ مجھے اور تمام مسلمانوں کو ان کے ذریعہ فائدہ پہنچائے ۔ آمین!
محبت کا لغوی معنی:لغوی طور پر محبت کے کئی معانی ہیں : صاف شفاف اور سفید ہونا ، بلنداور ظاہر وغالب ہونا ، پختہ اور لازم ہونا ، خالص ہونا ، محافظت کرنا، اور پکڑ لینا ۔
محبت کی اصطلاحی تعریف: عارفین نے محبت کی کئی تعریفیں کی ہیں، بعض تعریفات پیش خدمت ہیں :
۱۔اپنے محبوب کو باقی تمام لو گوں پر ترجیح دینا محبت ہے ۔
۲۔ہمیشہ اپنے نفس کو اپنے محبوب کا حق خدمت ادا نہ کرنے پر ملامت کرتے رہنا ۔
۳۔کلی طور پر کسی کی طرف میلان اور پھر اپنے نفس روح اور مال پر اسے ترجیح دینا ، اور پھر خلوت اور جلوت میں اس کی موافقت کرنا ، اس کے باوجود اپنی کوتاہی کا اعتراف کرنا ہی محبت ہے ۔
۴۔محبت تو یہ ہے کہ دل ہمیشہ محبوب کی جانب گامزن رہے ،اور زبان ہمیشہ محبوب کے تذکرے سے آباد اور سرشاررہے ۔
۵۔محبت اپنے محبوب کی مقرر کردہ حدود کی حفاظت کرنے کو کہتے ہیں ، جو شخص محبت کا تو دعوی کرے مگر محبوب کے حقوق اور اس کی حدود کی کوئی پرواہ نہ کرے تو وہ دعوئ محبت میں جھوٹا ہے ۔
جب کہ صحیح اور درست بات تو یہ ہے کہ محبت کوئی ایسی شئ نہیں کہ جس کی صرف الفاظ کے ذریعہ صحیح تعبیر کی جاسکے ، بلکہ محبت تو ایک وجدانی اور معنوی کیفیت کا نام ہے ، بعض اوقات کسی بڑے اور گرانقدر معنی کے لئے اگر الفاظ تلاشے جائیں تو بڑے بڑے لفظ چھوٹے اور حقیر معلوم ہوتے ہیں جیسے
اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات ، اللہ کی کتاب ۔۔۔۔۔۔اسی طرح محبت بھی وسیع المعنی چیزہے ۔
یوں تومحبت کا صحیح معنی و مفہوم اللہ ہی بہتر جانتا ہے ،لیکن میرے نزدیک مذکورہ تمام تعریفات کے مجموعے کا نام محبت ہے ۔
محبت کے بارے میں سلف صالحین کے اقوال: حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ
فرماتے ہیں:’’جو شخص اللہ کی خالص محبت کا مزہ چکھ لے وہ دنیا کے طلب سے بے نیاز ہوجاتا ہے۔ اور پھر اسے تمام لوگوں سے وحشت آتی ہے ۔
حضرت حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’جس نے اپنے رب کو پہچان لیا وہ ضرور اس سے محبت بھی کرے گا ،اور جس نے دنیا کو پہچان لیا وہ اس سے بے رغبت ہوجائے گا ،اور کبھی غافل نہیں ہوتا ، جب بھی غور وفکر کرتا ہے تو غمگین ہوجاتا ہے ۔
حرم بن حیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’مومن جب اپنے رب کو پہچان لیتا ہے تو اس سے محبت کرنے لگتا ہے ،اور جب اللہ سے محبت کرتا ہے تو اس کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے ،اور جب وہ اللہ کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے تو اسے ایسی مٹھاس حاصل ہوتی ہے کہ پھر وہ دنیا کو شہوت کی نگاہ سے نہیں دیکھتااور آخرت کو غفلت کی نظر سے نہیں دیکھتا ،یہ مٹھاس اسے اس بات پر مجبورکرتی ہے کہ دنیا پر تُف بھیج کر آخرت کی جانب گامزن ہوجائے۔
ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’اللہ کی طرف رغبت کرنا ،اس کی ملاقات کا شوق ،اور اس کی محبت؛ بندے کا رأس المال ، سعادت کی بنیاد،اور اس کی پاکیزہ زندگی کا ماحصل ہے ، اسی میں اس کی کامیابی اس کے لیے نعمتیں اور آنکھوں کی ٹھنڈک ہے ،اسی چیز کا اللہ نے حکم دیا ہے ، اسی لئے رسول بھیجے گئے اور کتابیں نازل کی گئیں ، دلوں کی اصلاح اور نعمت صر ف اور صرف اللہ رب العزت کی جانب رغبت و شوق میں پنہاں ہے ۔فاذا فرغت فانصب والی ربک فرغب ۔ ’’جب بھی آپ فارغ ہوں ،تو خود کو رب کی عبادت میں تھکائیے،اور صرف اپنے رب کی طرف رغبت کیجئے۔
محبت پیدا کرنے والے اسباب ووسائل : یوں تو بہت سے اسباب و وسائل ہیں جنہیں اختیار کرکے اللہ کی محبت حاصل کی جاسکتی ہے مگر درج ذیل اہم ترین اسباب یہ ہیں :
۱۔قرآ ن کریم کی تلاوت کرنا ، اس پرتدبراور اس کے معانی کو سمجھنا ، اس کے مقاصد سے آگاہی حاصل کرنا۔محبت الٰہی کے حصول کے لئے یہ آسان ،مفید ترین اور عمیق سبب ہے ، یہ وہ وسیلہ ہے جو بندے کا تعلق اللہ کے ساتھ جوڑ دیتا ہے ۔ اِس قرآن کا ایک سرا اللہ کے ہاتھ میں ہے اور دوسرا بندوں کے ہاتھ میں جیساکہ صحیح حدیث میں یہ بات مذکور ہے ۔
۲۔فرائض کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ نوافل کا کثرت سے اہتمام کرنا ، کیونکہ ایسا کرنے سے بندہ محبت سے آگے بڑھ کر محبوبیت کا مقام حاصل کر لیتاہے ، جیسا کہ حدیث قدسی ہے کہ فرائض کی پابندی سے بڑھ کر میرے تقرب کا کوئی ذریعہ نہیں ،اور جب بند ہ میرے تقرب کی تلاش وجستجو میں نوافل کی پابندی کا خود عادی ہوجاتا ہے تو میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں ۔(بخاری شریف )
۳۔اپنی زبان ، اپنے دل ، اپنے عمل کے ذریعہ،ہر حالت و کیفیت میں ہمیشہ اللہ کا ذکر کرنا، جتنا ہی ذکر ہوگا اتنی ہی محبت زیادہ ہوگی ۔
۴۔اپنی مرضی پر اللہ کی مرضی کو ترجیح دینا ، اپنی محبت پر اللہ کی محبت کو ترجیح دینا، جب کہ خواہشات کا غلبہ بھی ہو ، اور اللہ کامحبوب کام کرنا دشوار بھی ہو، ایک طرف دنیا کی محبتیں ہو ں ، اوردوسری جانب رب کی رضا،تو پھر محبت کا امتحان ہوتاہے ۔
۵۔اللہ تعالیٰ کے احسانات، اس کی مہربانیوں ، اور ظاہری اور باطنی نعمتوں پر غور و فکر کرنے سے بھی اللہ تعالیٰ کی محبت دلوں میں جاگزیں ہو تی ہے ۔
۶۔دل کا اللہ کے سامنے مکمل طور پر عجز و انکسار ۔یہ ایک ایسا عجیب ترین نسخہ ہے جس کے اظہار کے لئے ہمارے پاس موزوں الفاظ ہی نہیں ۔
۷۔اللہ کے ساتھ خلوت نشینی کرنا، خصوصاً اللہ تعالیٰ کے آسمان دنیا پر نازل ہونے کے اوقات(بوقتِ تہجد) میں ،ساری دنیا جب مزے کی نیند سور ہی ہو ، اس وقت ساری دنیا سے کٹ کر صرف اللہ سے مناجات ، اس کی کتاب کی تلاوت ، دل کے حضور کے ساتھ اللہ کے جناب میں قیام کرنا ، اور عبودیت کے آداب بجالانا اور پھر آخر میں توبہ و استغفارکرنا۔
۸۔ اللہ سے سچی او ر خالص محبت کرنے والوں کی صحبت اختیار کرنا، ان کی بہترین باتوں کو بغور سن کر سمیٹ لینا،اور ان کی مجلس میں بلاضرورت کلام کرنے سے بچنا ۔
۹۔ہر اس چیز سے بچنا جو آپ کے دل اور اللہ تعالیٰ کے درمیان آڑ اورپردہ بن جائے ۔
۱۰۔اتباع سنت کے ذریعہ اللہ کی محبت حاصل ہوتی اور بڑھتی ہے ۔ جیسا کہ اللہ کا فرمان ہے :یعنی اے نبی ﷺ!آپ فرمادیجئے کہ اگر تم اللہ سے محبت کرنا چاہتے ہو تو تم میری اتباع ،پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا ، اور تمہارے گناہ معاف فرمادے گا۔ (آل عمران:۳۱)
۱۱۔اللہ کی خاطر آپس میں ایک دوسرے سے محبت کرنا ،ایک دوسرے سے ملنا،ایک دوسرے کی زیارت کرنا اور خرچ کرنا، ان چیزوں سے اللہ کی محبت حاصل ہوتی ہے ۔ جیساکہ ایک صحیح حدیث میں آتا ہے کہ بیشک اللہ تعالیٰ نے فرمایا :’’میری محبت ان لوگوں کے لئے واجب ہوجاتی ہے۔(یعنی میں ان سے محبت کرنے لگتا ہوں یا میری محبت یقینی طور پر اس کے دل میں داخل ہو جاتی ہے) جو میری خاطر آپس میں محبت کرتے ہیں اور جو لوگ میری خاطر میں آپس میں مل کر بیٹھتے ہیں ،اور جو میری خاطر ایک دوسرے کی زیارت و ملاقات کرتے ہیں اور جو میری خاطر خرچ کرتے ہیں ۔‘‘
(رواہ احمد:۵؍۲۳۳ وابن حبان:۵۷۵)
۱۲۔اللہ کے لئے محبت اور اسی کے لئے نفرت کرنے سے بھی انسان کے دل میں اللہ کی محبت پیدا ہوجاتی ہے۔جیسا کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا:’’ بندہ خالص ایمان کا حق اس وقت تک
ادا نہیں کرسکتا جب تک کہ وہ اللہ ہی کے لئے محبت اوراسی کے لئے بغض نہ کرے۔پس جب اللہ کے لئے محبت کرے ،اسی کے لئے بغض کرے ،تو وہ اللہ کی ولایت کا مستحق ہوگیا۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’ اللہ کے بندوں میں سے کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو اگرچہ نبی اور شہید نہیں لیکن بروزِ قیامت انبیاء ، شہداء ان پر رشک کریں گے ۔ صحابہ کرام نے پوچھا اے اللہ کے رسول ﷺ !کیا آپ ہمیں ان کی خبر نہیں دیں گے؟آپ ﷺ نے فرمایا: یہ وہ لوگ ہیں جو بغیر کسی خونی رشتے یا کاروباری تعلق کے صرف اللہ کی خوشنودی اور رضا کے لئے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں،اللہ کی قسم یہ نورانی چہروں والے لوگ ہیں ،جو نور پر چلتے اور بستے ہیں (یا وہ قیامت کے دن نور کے ممبروں پر ہوں گے۔)جب لوگ خوف زدہ ہوں تو یہ لوگ خوفزدہ نہیں ہوتے، لوگ غمگین ہوں تو انہیں غم نہیں ہوتا ، پھر آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی : ’’خبردار بیشک اولیاء اللہ پر نہ خوف ہوتا ہے اور نہ وہ غمگین ہوتے ہیں‘‘۔
(سنن ابی داؤد:۳۵۲۷،ابن حبان:۵۷۳)
۱۳۔کتاب اللہ کوخوبصورت ا ور غمزدہ آواز میں پڑھنا ، کیوں کہ اس سے آ پ کے دل میںآپ کے رب کی چاہت پیدا ہوگی ، اور یہ ندا آپ کو غفلتوں سے جگا کر آپ کے خالق کے سچے راستے پر گامزن کر دے گی ۔
۱۴۔ ہر وہ عمل جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ خود کہے کہ میں اس عمل یا اس کے کرنے والے سے محبت کرتا ہوں ، تو اس عمل کے ذریعہ بھی اللہ کی محبت نصیب ہوتی ہے۔ایک حدیث میں ہے کہ
نبی کریم ﷺ نے جب صحابہ کرام کو دیکھا کہ وہ آپ ﷺ کے وضوکا بچا ہوا پانی اپنے جسموں پر
مل رہے ہیں تو پوچھا کہ ایسا کیوں کرتے ہو ، صحابہ نے کہا : اللہ اور اس کے رسو ل کی محبت کی وجہ سے ، تو آپ ﷺ نے فرمایا : ’’جو شخص یہ چاہتا ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت کرے ، یا اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کریں ، تو اسے چاہئے کہ ہمیشہ سچ بولے اور جب اس کے پاس کوئی امانت رکھی جائے تو اسے ادا کرے ، اور اپنے پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک کرے ۔
) ا لمجمع۸؍۲۷،بیہقی (
۱۵۔مسنون دعائیں بھی محبت الٰہی کا ایک اہم ذریعہ ہیں ،خصوصاً ان الفاظ کے ساتھ دعا کرنا : اَللّٰہُمَّ اِنِّی اَسْءَلُکَ حُبَّکَ وَحُبَّ مَنْ یُحَبُّکَ وَحُبُّ عَمَلٍ یُقَرِّبُنِیْ اِلٰی حُبِّکَ ، اَللّٰہُمَّ اجْعَلْ حُبَّکَ اَحَبَّ اِلَیَّ مِنْ نَفْسِیْ وَاَہْلِیْ وَمِنَ الْمَاءِ الْبَارِدِ ۔
’’ اے اللہ میں تجھ سے تیری محبت ، تجھ سے محبت کرنے والے کی محبت ، اور تیری محبت تک پہونچانے والے عمل کی محبت کا سوال کرتا ہوں ، اے اللہ تو اپنی محبت میرے نزدیک میرے نفس ،
اہل خانہ اور ٹھنڈ ے پانی سے بھی زیادہ محبوب بنا دے ۔‘‘
سچی محبت کی علامات: سچی محبت کی علامت یہ ہے کہ بندے کا دل ہمیشہ اللہ کی جانب سفر کرتا رہے اور جب بظاہر کسی اور کام میں مصروف ہو تب بھی دل کی گہرائیوں سے اللہ کی یاد میں مگن ہو ،
اور جب مصروفیت ختم ہوجائے توخیالات مجتمع ہو جائیں اور محبوب کی جانب سفر تیز تر ہوجائے ۔
اس علامت کا اظہار : اس علامت کا اظہار خاص طور سے چار جگہوں پر ہوتا ہے :
۱۔جب انسان دنیا کے کاموں سے تھک ہا ر کر اپنے بستر پر دراز ہوتا ہے تو سونے سے پہلے اپنے محبوب کو ضرور یاد کرتا ہے ۔
۲۔جب نیند سے بیدار ہوتا ہے تو سب سے پہلی بات جو اس کے دل و دماغ میں پیدا ہوتی ہے ،وہ محبوب کا ذکر ہے کیوں کہ نیند کی غفلتوں میں محبوب کھو گیا تھا اور اب جب روح واپس لوٹی تو محبوب کی یا د چونکہ روح میں رچ بس چکی ہے ،لہٰذا روح کے لوٹتے ہی محبوب بھی یاد آجاتا ہے ۔
۳۔جب انسان نماز کی حالت میں ہوتا ہے تب محبوب اعلیٰ اللہ رب العالمین کی یاد اس کے دل کو معمور کردیتی ہے ۔کیونکہ نماز ہی تمام اعمال کا ترازو ہے بلکہ ایمان بھی اسی ترازو میں تولاجاتا ہے ، نماز بندے اور اس کے رب کے درمیان بہترین وسیلہ ہے ، یہ راحت اور سکون کی جگہ ہے اسی وجہ سے آپ ﷺ حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے فرماتے کہ اذان دیجئے اور مجھے راحت پہونچایئے۔
۴۔سختیوں اور مصیبتوں کے وقت بھی دل اللہ کو یاد کرتا ہے اسی کی طرف بھاگتا ہے ، اسی وجہ سے لوگ حالت جنگ وجدال میں بھی محبوب کی یاد سے دل آباد رکھتے ہیں ۔جیساکہ
حدیثِ قدسی میں آتا ہے :’’میرا حقیقی بندہ تو وہ ہے جو اس وقت بھی میری یاد میں مصروف ہوجب کہ اس کا ٹکراؤاپنے مد مقابل سے ہو رہا ہو۔ ‘‘(اگر چہ اس حدیث پر کلام ہے مگر اس کا معنی صحیح ہے )
اس کا راز شاید یہ ہے کہ جب سخت خطرات لاحق ہو ں اور جان کے لالے پڑے ہوں،تو انسان کو زندگی کے خاتمے کے ساتھ ہی محبوب کے ساتھ تعلق بھی ختم ہوتا ہوا نظر آتا ہے ،لہٰذا وہ شدت کے ساتھ محبوب کو یاد کرتا ہے ،یہاں تک کہ بہت سے لوگوں کی موت پر ان کی زبان ان کے محبوب کے نام لیتی ہوئی نظر آتی ہے ۔
اگر ان چار جگہوں پر اللہ کو یاد کرنے والوں میں سے ہیں تو یہ اللہ سے سچی محبت کی علامت ہے ورنہ اللہ سے محبت کرنے کے دعویدار ہیں اور بس!
محبت الٰہی کے محرکات: اس سے ہماری مراد یہ ہے کہ کون سی وہ باتیں ہیں یا محبوب کی وہ کون سی صفات ہیں جن کا ادراک کرنے سے محبت پیدا ہوجاتی ہے ۔
آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ انسان علم ، شجاعت ، قوت ،خوبصورتی اور احسان کو پسند کرتا ہے ۔ اسی طرح فانی کے مقابلے میں لافانی اور حقیر کے مقابلے میں عظیم سے محبت کرتا ہے ۔یہ محبت اس کی فطرت میں شامل ہے ۔ جبکہ انسان کسی عالم کو دیکھتا ہے تو اس کی علم کی بنا پر اس سے محبت کرتا ہے،
اگر چہ اس عالم کا خاندان غیر معروف ہو یا قلیل المال ہو، بلکہ ہر علم محبوب ہے دینی علم ہو یا دنیاوی ۔ اسی طرح انسان طاقت ور اور دلیر لوگوں کو پسند کرتا ہے ، خوبصورتی کا دلدادہ ہے ،خواہ خوبصورتی انسان میں ہو یا حیوان و نباتات اور جمادات میں ۔اسی طرح جو شخص انسان پر احسان کرے ، وہ بھی اس کے نزدیک محبوب ہے ، اسی طر ح دوسروں پر احسان کرنے والوں سے بھی انسان محبت کرتا ہے،
مثلا کوئی کسی کے بارے میں سنے کہ فلاں شہر میں فلاں بندہ لوگوں پر بہت احسان کرتا ہے ،تو فطری طور پر انسان اس شخص سے محبت کرنے لگتا ہے ۔ اور یہ تمام کے تمام صفات اللہ رب العالمین میں بدرجۂ اتم موجود ہیں بلکہ مخلوقات کو ان صفات سے بہراور کرنے والا مالک وخالق بھی وہی ہے تو اس پر وردگار میں یہ تمام صفات کامل ترین انداز میں کیوں نہ ہوں گی؟!
ایک مکمل باشعور اورحسّاس انسان جب ان محرکات سے آگاہی حاصل کرلے تو یقینا
اللہ رب العزت کی بے پناہ محبت سے سرشار ہوجاتا ہے ۔
محبت الٰہی؛ یہ بلند مرتبہ تو عالی ہمت ، زندہ دل ، بے دار مغزافراد اور اہلِ بصیرت کے ہی شایان شان ہے ،جوپختہ ارادے اور عمل پیہم کے ساتھ اپنے مالک سے گڑگڑاکردعائیں بھی مانگتے ہیں ۔ ایسے ہی لوگوں کے لئے محبت الٰہی کے در کھلے ہوئے ہیں ۔
لیکن اکثرلوگ ان گہرے حقائق ، سربستہ رازوں اور حقیقی نعمتوں سے محروم ہی رہتے ہیں،اے اللہ ہم تجھ سے تیرے اسم اعظم کا واسطہ دے کر یہ التجااور فریاد کرتے ہیں کہ ہمیں اپنی اس قدر بھر پور محبت سے نواز دے کہ جس پر تو ہم سے راضی ہو جائے ، جس کی وجہ سے ہمارا دل ایمان کی لذ ت چکھ لے ،او ر خوش ہوجائے ، جس محبت سے ہمارے معاملات کو قوت حاصل ہو، جو ہماری عبادات میں زندگی کی روح پھونک دے ۔ آمین۔

No comments:

Post a Comment