ایک ہی مجلس میں تین طلاقوں کا حکم- oct-dec 2009 - دو ماهي ترجمان السنة

Latest

تعداد زائرين

BANNER 728X90

Wednesday, March 17, 2010

ایک ہی مجلس میں تین طلاقوں کا حکم- oct-dec 2009

ڈاکٹر سید سعید عابدی
جدہ سعودی عرب
ایک ہی مجلس میں تین طلاقوں کا حکم
مسئلہ: ایک صاحب میرے نام اپنے خط میں تحریر فر ماتے ہیں ’’ فقہائے اربعہ کا اس امر پر اتفاق ہے کہ بیک وقت اور بیک لفظ ۳؍طلاقیں دے دینے سے۳؍ طلاقیں پڑ جا تی ہیں اور بیوی شو ہرپر حرام ہو جا تی ہے۔اس کے بر عکس امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اور ان کے شاگرد رشید حافظ ابن القیم رحمہ اللہ کے نزدیک ایک ہی مجلس میں دی جانے والی ۳؍ طلاقوں سے ایک ہی طلاق پڑتی ہے لیکن امام ابن تیمیہ اور حافظ ابن القیم رحمہما اللہ کے اس قول پر عمل ممکن نہیں، کیو نکہ اہل علم کے نزدیک کسی شر عی مسئلے میں مر وجہ چاروں مسلکوں سے باہر نکلنا جا ئز نہیں ،بل کہ ان میں سے کسی ایک کی پیروی ضروری ہے۔‘‘
جواب:حدیث کی رو سے ایک مجلس میں ’’ طلاق ثلا ثہ ‘‘ یا تین طلاقوں کا حکم بیان کر نے سے قبل مختصر اً یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ اللہ و رسول ﷺ نیز صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم،تابعین رحمہم اللہ اور تبع تابعین میں سے ،کسی محدث یا فقیہ نے مذاہب اربعہ میں سے کسی بھی مذہب کی پیروی اور شرعی مسائل میں ان کے دائرے میں مقید رہنے کو فر ض یا واجب ،بلکہ سنت تک قرار نہیں دیاتو ان کے دائرے سے باہر نکلنے اور ان کی مخالفت کو نا جا ئز کس طرح کہا جا سکتا ہے۔؟
رہا ایک مجلس میں تین طلاقوں کا مسئلہ، تو اس کی دو شکلیں ہیں :
۱۔ کو ئی اپنی بیوی سے کہے: انت طالق ثلا ثا یا انت طا لق با لثلا ث یا انت مطلقۃ ثلاثا یا انت مطلقۃ با لثلا ث۔ ان تمام عبارتوں کا مطلب ہے ’’تم ۳ ؍طلاقوں کے ذریعے نکاح کے بندھن سے آزاد کر دی گئی ہو، یا تم کو ۳؍ طلاقیں دیدی گئی ہیں۔ ‘‘فقہ کی کتا بوں میں یہ عبارتیں ایک ہی لفظ ،یا ایک ہی کلمے، یا ایک ہی جملے میں ۳ ؍طلاقیں دینے کی مثال میں نقل کی گئی ہیں، اور ان سب کا حکم یہ بیان کیا گیا ہے، اگر کو ئی شخص اپنی بیوی سے مذکورہ جملوں یا عبارتوں میں سے کو ئی جملہ اور عبارت کہہ دے تو اس پر اسی لمحے ۳ ؍طلاقیں پڑ جاتی ہیں اور وہ شو ہر پر حرام ہو جاتی ہے اور اس سے رجوع کرنے کا کوئی امکان باقی نہیں رہتا۔طلاق کی اس شکل کے ساتھ ’’ ایک مجلس ‘‘ کا ذکر بے معنی ہے ،کیو نکہ کوئی ایک عبارت یا ایک جملہ ایک سے زیادہ مجلسوں میں نہیں کہہ سکتا ،اور نہ اس کی ضرورت ہے۔
۲۔ایک ہی مجلس میں ۳ ؍طلاقیں دینے کی دوسری شکل یہ ہے کہ شو ہر اپنی بیوی سے کہے: انت طا لق طا لق طا لق ؛’’ تمہیں طلاق ،طلاق، طلاق،یا انت مطلقۃ مطلقۃ مطلقۃ ’’ تم کو طلاق دے دی گئی ،طلاق دے دی گئی ،طلاق دیدی گئی ،‘‘فقہائے کے نز دیک اس طرح طلاق دینے سے بھی ۳ ؍طلاقیں پڑ جا تی ہیں اور بیوی سے رجوع کر نے کا کو ئی امکان باقی نہیں رہ جا تا ۔
امام ابن تیمیہ اور حافظ ابن القیم رحمہما اللہ کا دعویٰ ہے کہ مذکورہ دو نوں شکلوں میں سے کسی بھی شکل میں طلاق دینے سے ۳ ؍طلاقیں نہیں ،بلکہ صرف ایک ہی طلاق پڑ تی ہے، اور ان کا دعویٰ ان صحیح احا دیث پر مبنی ہے، جن میں ایک مجلس میں دی جانے والی ۳ ؍طلاقوں کو ایک ہی طلاق قرار دیا گیاہے۔میں ان حدیثوں کا ذکر کر نے سے قبل ایک نہایت ہی اہم بات کا ذکر ضروری خیال کر تا ہوں اور وہ یہ کہ طلاق کی پہلی شکل میں لفظ : ’’ثلا ثا ‘‘یا ’’با لثلا ث ‘‘کا اضافہ بے معنی اور باطل ہے، کیونکہ طلاق دینے والے کا یہ قول : انت طالق ،’’ تم کو طلاق دے دی گئی ،یا تم نکاح کے بندھن سے آزاد ہو۔‘‘ صرف ایک بار کہا گیا ہے، لہذا اس کے بعد’’ ثلا ثا ‘‘یا’’با لثلا ث ‘‘کے وصفی اضافے سے وہ ۳؍ نہیں شمار ہو سکتا ،بل کہ یہ اضافہ با طل اور لغو ہے۔اس بات کو میں مثالوں سے واضح کر نا چاہتا ہوں۔مثال کے طور پر ایک شخص کہتا ہے۔’’سبحان ربی العظیم ثلا ثا یا سبحان ربی الا علیٰ ثلا ثا یا استغفر اللہ ما ءۃ‘‘تو کیا اس کے اس طرح کہہ دینے سے اس کے حق میں سبحان ربی العظیم اور سبحان ربی الا علیٰ ۳،۳، بار شمار ہو نگے اور استغفر اللہ ۱۰۰؍ بار شمار ہو ں گے جب کہ اس نے یہ کلمات فعلاً صرف ایک بار کہے ہیں؟
اوپر کی وضاحت کی روشنی میں انت طلاق ثلا ثا حقیقت میں ایک ہی ہے اور حدیث میں جو یہ آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں ایک مجلس میں دی جانے والی ۳؍ طلاقیں ایک طلاق شمار ہو تی تھیں ۔( مسلم ۳۶۷۳) تو اس کی شکل یہ تھی: انت طا لق، طا لق،طالق’’تم کو طلاق ،طلاق ،اور طلاق۔‘‘ یہ ہے ایک مجلس میں ۳ ؍طلاقیں دینے کی صحیح شکل جو زبان اور قواعد زبان نیز واقعہ کے بالکل مطابق ہے۔جن لو گوں نے ابو داؤدکی حدیث :اذا قال انت طلاق ثلا ثابفم واحد۔’’جس نے ایک منہ سے کہا تمہیں ۳ ؍طلاق ‘‘ سے ایک ہی لفظ اور ایک ہی جملہ میں ۳ ؍طلاقیں دینا مراد لیا ہے، تو یہ در اصل اس مفہوم میں ہے کہ طلاق دینے والا، ایک ہی سانس میں ،بلا تو قف یہ کہے کہ انت طالق طالق طالق اور تعداد کا توصیفی لفظ:’’ ثلا ثا‘‘ اس امر کا طالب ہے کہ مسلسل ۳ ؍بار طلاق دی جائے۔
میں نے ابھی جو کچھ عرض کیا ہے، اس کی تا ئید اس حدیث سے ہو تی ہے، جس میں رسول اکرم ﷺ نے جسم کے کسی حصہ میں درد محسوس کرنے والے کو ایک دعا سکھاتے ہو ئے فر مایا : قل بسم اللہ ثلاثا و قل سبع مرات : اعوذ باللہ و قدرتہ من شر ما اجد و أحا ذر۔’’ کہو :۳ ؍بار بسم اللہ اور ۷ بار اعوذ باللہ‘‘ اس حدیث پاک کے دوسرے فقرے میں :سبع مرات سے متعین ہو جا تا ہے کہ بسم اللہ کے ساتھ ثلا ثا سے ثلاث مرات مراد ہے۔معلوم ہوا کہ ایک ہی لفظ اور جملہ میں ۳؍ طلاقیں دینا اور یہ کہنا :انت طالق ثا لثاً فعلاً اور حکماً ایک ہی طلاق ہے ۔رہیں ایک مجلس میں ۳؍ طلاقیں جن کو حدیث میں ایک طلاق قرار دیا گیا ہے تو اس کی شکل وہی ہے جس کا ذکر اوپر آیا ہے یعنی انت طالق طالق طالق اور اسی کو حدیث میں ایک طلاق قرار دیا گیا ہے چنا نچہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ،فر ما تے ہیں : رسول اللہ ﷺ کے عہد اور سید نا ابو بکرؓ اور سید نا حضرت عمررضی اللہ عنہما کی خلافت کے ابتدائی دو سالوں میں ۳ ؍طلاقیں ایک ہی شمار ہو تی تھیں۔ سید نا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فر ما یا :لوگوں نے اس معاملہ میں جس میں ان کے لئے تحمل و بر داشت کا مو قع تھا،جلد بازی شروع کر دی ہے ،تو کاش میں ان پر اس کو ( تینوں کو تین
ہی)نا فذ اور لا گو کر دوں، اور انہوں نے اس کو ان پر نافذ کر دیا‘‘۔( مسلم ۳۶۷۳)
یہ حدیث، نبی ﷺ کے عہد مبارک میں اور حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ کی پوری خلافت اور حضرت عمررضی اللہ عنہ کی خلافت کے ابتدائی دو سالوں میں تین طلاقوں کو ایک ہی شمار کئے جانے پر بصرا حت دلالت کرتی ہے، اور واضح کر رہی ہے کی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لو گوں کو طلاق دینے میں جلد بازی سے بازرکھنے اور بیویوں کے ساتھ تحمل و بر داشت پر آ مادہ کر نے کے لئے، ان ۳ ؍طلاقوں کو ۳؍ ہی نافذ کر دیا۔یہ قدم انہوں نے تعزیر کے طور پر اٹھا یا تھا نہ کہ رسول اللہ ﷺ کے حکم کو منسوخ کرنے کے لئے کیوں کہ دنیا کا کو ئی بھی انسان اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے کسی حکم کو منسوخ کرنے کا مجاز نہیں ،اور چو نکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ راشد تھے اور انہو ں نے وقتی طور پر بطور تعزیر کے یہ کام کیا تھا،اس لئے صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اس کی مخالفت نہیں کی۔ مزید یہ کہ ان کے اس اقدام سے کوئی حلال حرام نہیں ہوا، اور نہ حرام حلال، کیونکہ طلاق دینا بہر حال ایک مباح فعل ہے،اگر چہ بسا اوقات اس سے گھر اور خاندان تباہ ہو جاتے ہیں، لہذا اس آخری اقدام سے پہلے، صبر و تحمل اور سوچ بچار سے کام لینا چاہیے۔
ایک ہی مجلس میں ۳؍ طلاقوں کے ایک ہی شمار کئے جانے کی تائید حضرت رکانہ بن عبد یزید رضی اللہ عنہ کی اس حدیث سے ہو تی ہے ،جو امام احمد رحمہ اللہ نے مسند میں روایت کی ہے. (۲۳۸۷)اس حدیث کا ترجمہ ہے:’’رکانہ بن عبد یزید نے اپنی بیوی کو ایک ہی مجلس میں
۳ ؍طلاقیں دے دیں جس پر ان کو شدید رنج و غم لاحق ہو گیا۔کہتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے ان سے
پو چھا : تم نے اس کو کس طرح طلاق دی ہے ؟عرض کیا :میں نے اس کو ۳؍ طلاقیں دی ہیں ۔فر مایا : ایک ہی مجلس میں،عرض کیا :ہاں،فر ما یا: یہ ایک ہی طلاق ہے،چاہو تو اس سے رجوع کر لو۔کہتے ہیں:انہو ں نے اس کو دو بارہ اپنی زوجیت میں واپس کر لیا ‘‘۔ یہ حدیث اپنی صحت کے حوالے سے اگر چہ محدثین کے در میان مختلف فیہ ہے ،مگر ایک صحیح حدیث کی شاہد بن سکتی ہے۔
اوپر کی وضاحتوں سے مسئلے کی جو صورت بنی ہے، وہ حسب ذیل ہے:
۱۔کسی شخص کا اپنی بیوی سے یہ کہنا :انت طالق ثلا ثا ’’تمہیں ۳ ؍طلاق‘‘ ،اور اس سے یہ مراد لینا کہ :میں تمہیں ۳؍ طلاقیں دیتا ہوں۔زبان، قواعد زبان اور امر واقعہ کے خلاف ہے اور مذکورہ جملے کے آخر میں ثلاثا کا اضافہ لغو اور باطل ہے اور یہ جملہ صرف ایک طلاق پر دلالت کر تا ہے، البتہ اگر کوئی کسی سے یہ کہے کہ طلق امرا تک ثلا ثا ’’تم اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دو ‘‘تو یہ صحیح ہے کیوں کہ اس صورت میں ثلا ثا سے ثلاث تطلیقات مراد ہوں گی۔اسی طرح اگر کو ئی خبر دیتے ہو ئے کہے :طلق فلان امر اتہ ثلا ثا ’’فلاں نے اپنی بیوی کو ۳ ؍طلاقیں دے دیں،‘‘تو یہ بھی صحیح ہے ،کیوں کہ یہ خبر ہے اور کہنے والے کی مراد ہے ،کہ : طلق فلان امرأتۃ ثلاث تطلیقات ’’فلاں نے اپنی بیوی کو ۳ ؍طلاقیں دے دیں‘‘۔
۲۔ ایک مجلس میں کہے جانے والے جس جملے اور عبارت سے ۳ ؍طلاقوں پر دلالت ہو تیہے وہ جملہ یا عبارت یوں ہے :انت طالق،طالق، طالق،’’ تمہیں طلاق، طلاق، طلاق،‘‘ ۔اور حدیث میں جو یہ فر مایا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک اور حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ کے عہد خلافت اور حضرت عمررضی اللہ عنہ کے خلافت کی ابتدائی دو سالوں میں ۳ ؍طلاقیں ایک ہی شمار ہو تی تھیں،اس سے مراد یہی طلاق ہے ،جس سے بیوی پر صرف ایک ہی طلاق پڑتی ہے ۔چنانچہ شیخ ابن باز رحمہ اللہ نے جہاں انت طالق با لثلاث یا انت مطلقۃ با لثلاث کو ایک طلاق قرار دیا ہے، وہیں انت طالق، طالق، طالق کو بھی ایک قرار دیا ہے اور پہلے طلاق کے بعد آنے والے دو نوں طلاق کو پہلے کی تاکید قرار دیا ہے (فتاوی اسلامیہ ص ۳۰۳۔۳۰۵ج ۳) لیکن امام ابن تیمیہ اور حافظ ابن القیم رحمہما اللہ کے نزدیک انت طالق ،طالق،طالق سے صرف ایک ہی طلاق پڑتی ہے،چاہے یہ ایک ہی مجلس میں کہا جائے، یا متفرق مجلسوں میں، بشر طیکہ یہ عدت کے اندر اندر ہو،عدت گزر جانے کے بعد نہیں ۔اور ایسا اس لئے ہے کہ جب کو ئی اپنی بیوی سے کہتا ہے :انت طالق، طالق، طالق،تو وہ پہلے ہی طالق کے بعد مطلقہ ہو جاتی ہے اور اس کی بیوی نہیں رہ جاتی، جس کے نتیجے میں اس پر بعد کی دو نوں طلاقیں نہیں پڑتیں،اس کی دلیل یہ ہے کہ اگر شو ہر عدت کے اندر اندر اس سے رجوع نہ کرے اور اس کو اپنی زو جیت میں واپس نہ لے، اور عدت گزر جائے، تو اس کو بیوی بنا نے کے لئے، اس کو اس سے اسی طرح نکاح کر نا ہو گا ،جس طرح کو ئی کسی اجنبی عورت سے نکاح کر تا ہے، اور یہ بتانا تحصیل حاصل ہے کہ اجنبی عورت ’’محل طلاق‘‘ نہیں ہے۔
میں نے ایک مجلس میں تین طلاقوں کو تین قرار دینے سے متعلق کتابوں میں منقول روایات سے تعرض نہیں کیا، کیوں کہ اس مسئلے میں کو ئی بھی مرفوع حدیث صحیح نہیں،رہیں موقوف روایات یعنی صحابہ اکرام کے اقوال تو پہلی بات یہ کہ ان میں سے بیشتر کی نسبت ان سے صحیح نہیں ہے۔
اوپر جو کچھ عرض کیا گیا ہے، اس کا تعلق ایک مجلس میں ۳؍ طلاقوں کے حکم سے تھا،اب میں یہ بیان کر نا چاہتا ہوں کہ اللہ اور رسول ﷺ نے طلاق دینے سے متعلق کیا احکام دئے ہیں ،اور ان احکام کی حیثیت کیا ہے؟اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو مخاطب بنا کر، اہل ایمان کو جو احکام دئے ہیں وہ سورۃ الطلاق کے با لکل آغاز میں ہی بیان کر دئے گئے ہیں۔ارشاد الٰہی ہے :’’اے نبی( ﷺ) جب تم لوگ عورتوں کو طلاق دو تو ان کو ان کی عدت کے لئے طلاق دو،اور عدت کو شمار کرو اور اپنے رب ،اللہ سے ڈرو۔‘‘ ( آیت ۱؍)
عدت کے لئے طلاق دینے کا مطلب ہے کہ عورتوں کو اس وقت طلاق دی جائے، جس سے ان کی عدت شروع ہوتی ہے، اس سے یہ حکم نکلتا ہے کہ عورتوں کو نہ تو حیض کی حالت میں طلاق دی جائے، اور نہ اس پاکی( طہر)کی حالت میں، جس میں شو ہر اور بیوی کے درمیان ’’ فطری تعلق قائم ہو چکا ہے۔
اس حکم کو رسول اللہ ﷺ نے اپنے ایک ارشاد میں واضح فر مادیا ہے۔چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہماسے روایت ہے کہ :انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے عہد میں اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے اس کے حکم کے بارے میں سوال کیا۔رسول اللہ ﷺ نے فر مایا :’’ اس کو حکم دو کہ وہ اپنی بیوی سے رجوع کر لے اور اس کو چھوڑے رکھے ،یہاں تک کی وہ پاک ہو جائے، پھر اسے حیض آئے، اور پھر وہ پاک ہو جائے اور پھر اس کے بعد اگر چاہے، تو اسے اپنے پاس رکھے اور چاہے تو اس کو ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دے دے ،یہ ہے وہ عدت جس میں اللہ تعا لیٰ نے عورتوں کو طلاق دینے کا حکم دیا ہے۔‘‘
( بخاری ۵۲۵۱،مسلم ۱۴۷۱)
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کو ئی حیض کی حالت میں یا اس طہر میں جس میں اس کے اور اس کی بیوی کے درمیان ازدواجی تعلق قائم ہو چکا ہے،اپنی بیوی کو طلاق دے، تو کیا یہ طلاق پڑے گی یانہیں؟ جمہور علماء کے نزدیک حالت حیض میں اور اس طہر میں جس میں قربت ہو چکی ہو،طلاق دینا اللہ اور رسول ﷺ کے حکم کی خلاف ورزی ضرور ہے،مگر یہ طلاق پڑ جاتی ہے، جب کہ امام ابن تیمیہ اور حافظ ابن القیم رحمہما اللہ کے نزدیک یہ طلاق نہیں پڑ تی۔شیخ ابن بازرحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’ ہمارے نزدیک اس مسئلے میں راجح وہ بات ہے، جسے شیخ ااسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے پسند فر مایا ہے اور وہ یہ کہ حالت حیض میں دی گئی طلاق واقع ہوتی ہے ،نہ مؤثر،کیوں کہ یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم کے خلاف ہے۔نبی ﷺ کا ارشاد ہے’’ جس نے کو ئی ایسا عمل کیا جس کے بارے میں ہمارا حکم نہیں ہے، تو وہ عمل مر دود ہے۔‘‘(مسلم ۱۷۱۸ فتاویٰ اسلامیہ ص ۳۰۰ ج ۳)
لیکن جن لو گوں کا دعویٰ ہے کہ حیض میں دی جانے والی طلاق پڑ جاتی ہے۔ وہ اپنے دعوے پر نبی کریم ﷺ کے اس حکم سے استدلال کر تے ہیں ،جو آپ ﷺ نے حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما کو دیا تھا کہ وہ اپنی بیوی کو رجوع کر لیں۔ان کا کہنا ہے کہ اگر ان کی طلاق واقع نہیں ہوئی تھی، تو رجوع کرنے کے کیا معنی،طلاق واقع ہونے ہی پر تو بیوی کو رجوع کیا جا تا ہے ؟
مگر امر واقع یہ ہے کہ یہی ’’حکم نبی ﷺان کے اس دعوے کی ردمیں پیش کیا جا سکتا ہے اور وہ اس طرح کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں جو طلاق دی تھی اگر وہ پڑ گئی تھی تو بیوی کو رجوع کر لینے کا حکم نبی ﷺ کابے معنی ہو جا تا ہے۔در اصل نبی ﷺ نے ان کو جس ’’رجوع‘‘ کا حکم دیا تھا وہ رجوع لغوی تھا بایں معنی کے ’’بیوی کو اپنی زوجیت میں باقی رکھو اور اس سے قطع تعلق نہ کرو اور اگر تمہارا ارادہ بیوی کو طلاق دینا ہی ہے، تو اس حیض کو گزر جانے دو،پھر طہر آئے اس کو بھی گزر نے دو،پھر حیض آئے اس کو بھی گزر نے دو،اس کے بعد جو طہر آئے اس میں اس کو ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دے دو۔’’ یعنی اگر اس طہر میں اس سے مقابرت کر لی تو پھر اس کو طلاق دینا حرام ہو جائے گا ‘‘معلوم ہوا کہ حالت حیض اور اس طہر میں جس میں شوہر اور بیوی کے درمیان فطری تعلق قائم ہو چکا ہے،بیوی کو طلاق دینا اللہ اور رسول ﷺ کے حکم کی خلاف ورزی ہے اور یہ طلاق واقع بھی نہیں ہو تی۔

No comments:

Post a Comment